*🌹🌹مسجد اقصی کی تاریخ🌹🌹*
*ترتیب و پیشکش*
*🌴🌴علم کا خزانہ🌴🌴*
*مرتب*
*🌱🌱ایاز وسیر🌱🌱*
*مسجد اقصٰی کی مختصر تاریخ*
مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اورمسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے ۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔
2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔
مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً 1300 کلومیٹرہے۔ ۔ بیت اللحم اور الخلیل اس کے جنوب میں اور رام اللہ شمال میں واقع ہے۔ مسجد اقصٰی کا کل رقبہ 40104 مربع میٹر ہے،
مسجد اقصٰی کے کئی نام ہیں جیسے بیت المقدس، مسجد اقصٰی اور مسجد ایلیاء
*بیت المقدس کے اہم شہر*
القدس، الخليل، نابلس، غزہ، یافا، بیت الحلم، الناصرۃ، اریحا، رام اللہ، لدّ اور عسقلان ہیں
سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بھتیجے لوط علیہ السلام نے عراق سے بیت المقدس کی طرف ہجرت کی تھی۔ 620ء میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جبریل امین کی رہنمائی میں مکہ سے بیت المقدس پہنچے اور پھر معراج آسمانی کے لیے تشریف لے گئے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام نے وحی الٰہی کے مطابق مسجد بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی بنیاد ڈالی اور اس کی وجہ سے بیت المقدس آباد ہوا۔ پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت سليمان علیہ السلام کے حکم سے
(961 ق م)
میں مسجد اور شہر کی تعمیر اور تجدید کی گئی۔ اس لیے یہودی مسجد بیت المقدس کو ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔
مسجد اقصٰی کی سب سے پہلے تعمیر کس نے کی؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام: ان کے دو بیٹے اسحاق علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام ہیں۔ اسحاق علیہ السلام کے بیٹے یعقوب علیہ السلام ہیں۔ اور یعقوب علیہ السلام کے دس بیٹے تھے جن میں سے یوسف علیہ السلام بھی ہیں،
لہذا یعقوب علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ہوۓ
اس سلسلے میں زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے مسجد اقصٰی کی تعمیر کی اور سلیمان علیہ السلام کے بارے میں جو ہے کہ انہوں نے تعمیر کرایا ہے تو در اصل وہ تعمیر نہیں تجدید تھا کیونکہ مسجد اقصٰی پہلے سے موجود تھی جیسا کہ ابن القیم الجوزي رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد اقصٰی سے متعلق ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے ضمن میں لکھا ہے
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا، یا رسول اللہ زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی، آپ نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی، آپ نے فرمایا مسجد اقصٰی، میں نے پوچھا دونوں کی تعمیر میں کتنی مدت کا فاصلہ ہے، آپ نے فرمایا چالیس سال
*مسجد اقصٰی سے متعلق امت مسلمہ کا عقیدہ*
مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہی حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے تمام انبیاء کی میراث کے حقیقی وارث ہیں کیونکہ ان انبیاء و صلحاء نے فلسطین میں توحید کے پرچم تلے ایک زمانے تک حکومت کی اور ان کی وراثت شرعی و قانونی طور پرمسلمانوں کی طرف منتقل ہوتی ہے کیونکہ مسلمان ہی ان انبیاء بنی اسرائیل کے بعد توحید کا پرچم بلندکرنے والے اور ان ا نبیاء کے راستے پر چلنے والے ہیں یہودی تو راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور انہوں نے خود اپنی کتابوں میں تحریف کر دی ہے.
۱. یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے
۲. اسے روئے زمین پر دوسری مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے
۳. إسراء اور معراج کی سر زمین ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم شب معراج میں مکہ مکرمہ سے بیت المقدس لائے گئے پھر اس مسجد میں حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر تمام انبیا
ئے کرام کی امامت فرمائی تھی.
۴. القدس تین عظیم شہروں میں سے تیسرا شہر ہے
۵. یہ انبیاء کرام کی سر زمین ہے
۶. یہ فتنوں کے وقت مسلمانوں کی جائے پناہ ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قیامت کے قریب دجال کے
فتنوں سے بچنے کے لئے مسلمان بیت المقدس میں پناہ لیں گے اور دجال اس میں داخل نہیں ہو پائے گا
۷. بیت المقدس کی طرف عبادت کی نیت سے سفر کیا جا سکتا ہے
جیسا کہ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : عبادت کی نیت سے سفر (شد رحال) صرف تین مساجد کی طرف کیا جاسکتا ہے : مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور میری مسجد ( مسجد نبوی)
۸. مسجد اقصٰی میں نماز کے ثواب میں اضافہ جیسا کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ” حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میری اس
مسجد میں ایک نماز مسجد اقصٰی میں چار نمازیں پڑھنے سے زیادہ أفضل ہے.
۹. بیت المقدس منشر و محشر کی سر زمین ہے جیسا حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے
عرض کیا : ہمیں بیت المقدس کے بارے میں ( کوئی خاص بات) بتائے. آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : وہ محشر (حساب کے لئے لوگوں کو جمع کرنے کی جگہ) اور منشر ( لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی جگہ) ہے
(مسند احمد، سنن ابن ماجہ)
:قرآن و احادیث میں فضائل بیت المقدس
۱. سورہ اسرا میں مسجد اقصٰی کی فضیلت بیان کی گئی ہے
Surat No 17 : Ayat No 1
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ
لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۱﴾
پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں ، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں ۔ ( ١ ) بیشک وہ ہر بات سننے والی ، ہر چیز دیکھنے والی ذات ہے ۔
۲. حدیث :عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: المَسْجِدِ الحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى ( رواه البخاري)
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : عبادت کی نیت سے سفر (شد رحال) صرف تین مساجد کی طرف کیا جاسکتا ہے : مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور میری مسجد ( مسجد نبوی)
بیت المقدس کی طرف عبادت کی نیت سے سفر کیا جا سکتا ہے
۳. مسجد اقصٰی روئے زمین پر اپنے وجود کے اعتبار سے حرم شریف کے بعد دوسری مسجد ہے جیسا کہ حضرت
ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا، یا رسول اللہ زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی، آپ نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی، آپ نے فرمایا مسجد
اقصٰی، میں نے پوچھا دونوں کی تعمیر میں کتنی مدت کا فاصلہ ہے، آپ نے فرمایا چالیس سال
(بخاری)
۴. مسجد اقصٰی مسلمانوں کا قبلہ اول ہے،
امام بخاری نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی سند سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے 16 مہینے یا 17 مہینے نماز ادا کی، پھر ہم کو
تحویل قبلہ کا حکم ہوا لیکن تحویل قبلہ نے اس کے مقام و مرتبہ کو ختم نہیں کیا بلکہ اس کی عظیم قدر و قیمت
مسلمانوں کے دلوں میں اور شریعت اسلامی میں باقی رہی.
۵. مسجد اقصٰی کو مسجد حرام اور مسجد نبوی کے علاوہ تمام مساجد پر فضیلت بخشی گئی ہے
حضرت میمونہ بنت سعد فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ ہم کو بیت المقدس کے بارے میں بتائے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ حشر و نشر کی زمین ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری مسجد ( مسجد نبوی) میں ایک نماز بیت المقدس میں چار نماز پڑھنے سے افضل ہےجبکہ وہ بھی نماز پڑھنے کی بہترین جگہ ہے
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بیت المقدس میں ایک نماز کا ثواب 250 نماز کے برابر ہے کیونکہ مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز کے ثواب کے برابر ہے
فلسطین انبیاء کی سرزمین ہے ان میں ابراہیم علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام، موسی علیہ السلام، عیسٰی
علیہ السلام زکریا علیہ السلام اور یحی علیہ السلام وغیرہ انبیاء ہیں
مسجد اقصٰی ہی روئے زمین پر وہ واحد جگہ ہے جہاں تاریخ انسانی کا سب سے بڑا اجتماع ہوا جس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم تک خدا کے بھیجے ہوئے تمام انبیاء و رسول جمع ہوئے
اور پھر وہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے لیلۃ الإسراء میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی
مسجد اقصٰی ہی وہ مقام ہے جس میں مومنین دجال سے بچ کر پناہ لیں گے اور وہ اس میں داخل نہ ہو سکےگا
:دجال کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
اس کی علامت یہ ہے کہ وہ 40 صبحیں ٹھہرے گا، اس کی حکومت ہر جگہ قائم ہوجائے گی سوائے چار مساجد کے، کعبہ مقدسہ، مسجد نبوی، مسجد اقصٰی اور طور،
یہ بات بھی معلوم ہو کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام دجال کو فلسطین میں باب لدّ کے پاس پکڑیں گے اور
قتل کر دیں گے
*تنازع مسجد اقصٰی کی مختصر تاریخ*
حضرت ابراہیم علیہ السلام: ان کے دو بیٹے اسحاق علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام ہیں ۔ اسحاق علیہ السلام کے بیٹے یعقوب علیہ السلام ہیں اور یعقوب علیہ السلام کے دس بیٹے تھے جن میں سے یوسف علیہ السلام بھی ہیں لہذا یعقوب علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ہوۓ۔
حضرت یعقوب علیہ السلام نے وحی الٰہی کے مطابق مسجد بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی بنیاد ڈالی اور اس کی وجہ سے بیت المقدس آباد ہوا۔ پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت سليمان علیہ السلام کے حکم سے
(961 ق م) میں مسجد اور شہر کی تعمیر اور تجدید کی گئی۔ اس لیے یہودی مسجد بیت المقدس کو ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔داؤد علیہ السلام کے بیٹے سلیمان علیہ السلام کی حکومت میں مملکت اسلامیہ کا دار السلطنت بیت المقدس ہی رہا۔
بیت المقدس اور مسجد اقصٰی ہمیشہ سے اسلام کی سرزمین رہی ہے سوائے ان ادوار کے جن میں غاصبین نے
اس پر قبضہ کر لیا اور قتل و غارت گری کی قرآن مجید نے ان لوگوں کو “قوماً جبارين” یعنی ظالم و جابر قوم کہا
ہے جو کہ جالوت اور اس کی لشکر ہے جسے داؤد علیہ السلام نے قتل کیا اور آج کے دور میں یہود کا شمار بھی
ان ہی “جبارین” میں ہے
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معراج کو جاتے ہوئے بیت المقدس پہنچے، 2ھ بمطابق 624ء تک بیت المقدس ہی
مسلمانوں کا قبلہ تھا، حتی کہ حکم الٰہی کے مطابق کعبہ (مکہ) کو قبلہ قرار دیا گیا
مسجد اقصٰی عہد فاروقی میں 15 ھ میں آزاد ہوکر مملکت اسلامیہ کا حصہ بنی اس سے قبل تقریباً سات صدیوں تک رومیوں نے اس پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا تھا عہد فاروقی کے بعد سے وہ مملکت اسلامیہ ہی کے زیرنگیں رہی یہاں تک کہ پانچویں صدی ہجری کے اخیر میں یورپ نے اس پر غاصبانہ قبضہ کرلیا
چنانچہ مسجد اقصٰی پر صلیبیوں نے 23 شعبان 492 ھ جمعہ کے دن قبضہ کیا اور تقریباً ستر ہزار مسلمانوں کو قتل کیا
بیت المقدس پر اکیانوے سال صلیبیوں کا تسلط باقی رہا اس دوران انہوں نے اس کی عزت پامال کی مسجد کے
متعدد آثار بدل دیئے یہاں تک کہ مسجد کے ایک جانب کلیسا تعمیر کردیا اور قبۃ الصخرۃ پر بڑی صلیب نصب کردی
پھر سلطان صلاح الدین ایوبی کا زمانہ آیا جنہوں نے تقریباً 91 سال کے غاصبانہ قبضہ کے بعد مسجد اقصٰی کو
دوبارہ آزاد کرایا اس وقت سے وہ مسلسل اسلامی سلطنت کا حصہ رہا یہاں تک کہ مسلمانوں میں ضعف پیدا
ہوگئی اور خوف اور حرص دنیا نے انہیں کمزور کردیا تو پھر یہودیوں نے اس پر 1387ھ مطابق
1967 غاصبانہ قبضہ کرلیا اور قبضہ کے بعد سب سے پہلے حائط البراق پر قابض ہوگئے اور “حارۃ المغاربة” مغاربہ محلہ کو تہس نہس کردیا
عہد اموی : ( 41ھ-132ھ/ 661ء-750ء)
عہد اموی میں فلسطین دمشق کے تابع تھا جس کا حاکم سلیمان بن عبد الملک تھا اسی عہد اموی میں عبد الملک بن مروان نے اس جگہ ” قبۃ الصخرۃ” تعمیر کرایا جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو معراج پر لے جایا گیا
عہد عباسی: ( 132ھ656ھ/ 750ء-1258ء)
فلسطين اموی سلطنت کے خاتمے کے بعد عباسی سلطنت کے تابع رہا،خلیفہ ہارون الرشید اور ان کے بیٹے مہدی نے وہاں کا سفر بھی کیا
عہد فاطمی : (297ھ-565ھ/ 909ء-1171ء) تک سلطنت فاطمیہ قائم رہی ۔
پھر صلاح الدین ایوبی نے 565ھ مطابق 1171ء میں مصر میں فاطمی سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور عماد الدین زنگی اور انکے بیٹے نور الدین
زنگی نے مل کر صلیبیوں کے خلاف محاذ کھولا اور 1099ء میں جو پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر یورپی صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے 70 ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا ان صلیبیوں سے لڑتےہوئے بالآخر معرکہ حطین میں القدس شہر کو 27 رجب 583ھ مطابق 2 اکتوبر 1187ء کو پھر صلیبیوں سے واپس لے لیا اور خود صلاح الدین ایوبی نے مسجد قبۃ الصخرۃ میں نماز ادا کی۔
عہد عثمانی: (27/جولائ 1299ء- 29/اکتوبر 1923ء)
میں عثمانیوں نے مملوکیوں ( عہد مملوک کے بادشاہوں) کو شکست دے کر حکومت حاصل کی 1516
اور پھر فلسطین اس وقت سے لے کر چار صدیوں تک عثمانی سلطنت کے تابع رہا
مسجد اقصٰی کبھی یہودی ہیکل نہیں تھی حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو تعمیر کی تھی وہ ہیکل کی تعمیر نہیں بلکہ اسی مسجد اقصٰی کی تجدید کی تھی چنانچہ انبیاء کرام میں سے ابراہیم، اسحاق، یعقوب اور سلیمان علیہم السلام
نے اس کی تجدید کی جیسا کہ فتح فاروقی کے بعد مسلم حکام اس کی تجدیدی تعمیر کرتے رہے ہیں
مسجد اقصٰی کا ایک جزء حائط البراق بھی ہے جس کو اب یہودی لوگ دیوار گریہ کہتے ہیں ان کے دعوے کے
مطابق وہ ہیکل کا باقی ماندہ حصہ ہے حالانکہ یہودیوں نے شہر قدس میں اپنے وجود سے پہلے کبھی بھی
حائط البراق کے بارے میں ایسا کوئی دعوہ نہیں کیا تھا
چنانچہ جب حائط البراق کی ملکیت کو لیکر مسلمانوں اور یہودیوں میں نزاع ہوا تو 1930ء میں اقوام متحدہ کی ٹیم نے یہ فیصلہ کیا کہ مغربی دیوار صرف اور صرف مسلمانوں کی ملکیت ہے جس کو اقصٰی کے صحن سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے اور وہ اوقاف اسلامی کی املاک میں ہے
تو یہ تنازع کیوں پیدا ہوا اور سب سے پہلے یہودی ریاست کا تصور کس نے دیا؟
ٹھیوڈر ہرزل یہ بابائے صہیونیت کے لقب سے معروف ہے یہ آسٹریا (ہنگری) کی
راجدھانی میں 1860/5/2 کو پیدا ہوا Budapest
“سب سے پہلے اسی نے “یہودی ریاست
The Jewish State
نامی کتاب لکھ کر فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا
برطانیہ ایک سامراجی حکومت تھی جو نہایت عیاری کے ساتھ سرگرم عمل تھی ایک طرف تو وہ عرب کے متحدہ نمائندہ شیخ الشریف حسین سے مذاکرات کر رہی تھی جس میں تمام عرب ریاستوں کو آزادی اور خودمختاری کا وعدہ بھی شامل تھا اور دوسری طرف برطانیہ فرانس سے بھی خفیہ معاہدہ کرنے میں لگا ہوا تھا
چنانچہ برطانیہ و فرانس نے 1916 میں ایک خفیہ معاہدہ کر ہی لیا جسے برطانوی وزیر خارجہ،، سایکس،، اور فرانسیسی وزیر خارجہ،، پیکو،، کے درمیان کیا جانے والا،، سائکس پیکو معاہدہ’’
(Sykes picot agreement)
کے نام سے جانا جاتا ہے
:اس معاہدے کے تحت یہ طے ہوا
عرب خطے کو اس طرح تقسیم کیا کہ عراق، اردن، اور فلسطین کا حیفا اور اس کے آس پاس کا علاقہ
برطانیہ کے زیر کنٹرول رہے گا اور شام اور لبنان فرانس کے زیر کنٹرول اور فلسطین کو بین الاقوامی خطہ قرار دیا جائے
چنانچہ اس معاہدہ کے بعد برطانیہ نے شیخ الشریف حسین کے ساتھ کئے تمام معاہدے کا انکار کر دیا
پھر اپریل 1916 میں دوسرے معاہدے،، سان ریمو کانفرنس
(San Remo)
کے تحت فلسطين پر بین الاقوامی خطہ کے بجائے برطانیہ کے انتداب کے حق کو تسلیم کر لیا گیا ۔ برطانیہ نے صہیونی منصوبے کی پشت پناہی کی اور 2 نومبر 1917 کو فلسطین میں یہودیوں کے لئے ایک قومی وطن کے قیام پر مشتمل ” بالفور اعلامیہ” کا اعلان کر دیا
اور 1918 میں برطانیہ نے خطے پر قبضہ مکمل کر کے فلسطینی اراضی کا ایک حصہ صہیونیوں کے حوالہ کردیا
برطانوی سامراج کے خلاف فلسطینی قوم نے تحریک مزاحمت کا آغاز کیا اور یکے بعد دیگرے کئی بغاوتیں کی جن سے مجبور ہو کر برطانیہ نے مئی 1939 میں وائیٹ بک،،
white book،،
میں اگلے دس سالوں میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا
لیکن بعد میں نومبر 1945 میں برطانیہ اپنے سکریٹری،، بیون،،
کے بیان کے ذریعے اپنے تمام وعدے سے پھر گیا (Bevin)
اور پھر امریکہ کی سر پرستی میں صہیونی منصوبے کا آغاز ہوا
*جدید تاریخ اور یہودی قبضہ*
پہلی جنگ عظیم دسمبر 1917ء کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔ یہود و نصاریٰ کی سازش تحت نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی سے کام لیتے ہوئے فلسطین اور عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا اور جب 14 مئی 1948ء کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا
تو پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اس کے جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فلسطین کے 78 فیصد رقبے پر قابض ہو گئے، تاہم مشرقی
یروشلم (بیت المقدس) اور غرب اردن کے علاقے اردن کے قبضے میں آ گئے۔ تیسری عرب اسرائیل جنگ (جون 1967ء) میں اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی تسلط جما لیا۔ یوں مسلمانوں کا قبلہ اول ہنوز یہودیوں کے قبضے میں ہے۔
یہودیوں کے بقول 70ء کی تباہی سے ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دو ہزار سال سے یہودی زائرین آ کر رویا کرتے تھے اسی لیےاسے “دیوار گریہ” کہا جاتا ہے۔ اب یہودی مسجد اقصٰی کو گرا کو ہیکل تعمیر کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔
اسرائیل نے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت بھی بنا رکھا ہے۔
نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرار داد نمبر (181) پاس کر کے فلسطین کو دو ملک میں تقسیم کر دیا ایک عربی اور دوسرا یہودی 29
،، یہودی ملک کے لئے فلسطینی اراضی کا 54% حصہ ہوگا اور عرب حکومت کے لئے 45% حصہ ہوگا جبکہ 1% رقبہ،، القدس،، کا علاقہ بین الاقوامی خطہ قرار دیا گیا
فلسطینی تنازع کے حل کے لئے عرب ریاستوں نے مصری لیڈر جمال عبد الناصر کی قیادت تسلیم کر لی لیکن کوئی متفقہ لائحہ عمل نہ پیش کرسکیں لہٰذا معاملہ ٹلتا رہا اور صہیونی ریاست
اسرائیل روز بروز بڑھتی چلی گئی
فلسطین کی آزادی کی خاطر جون 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ بھی ہوئی جس میں عرب کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے بعد اسرائیل کے حوصلے اور بلند ہو گئے
2003
کے اعداد و شمار کے مطابق 1948 کی مقبوضہ اراضی سے ملک بدر کئے گئے فلسطینی مہاجرین کی تعداد چھپن لاکھ(56،00،000) سے زائد ہے
جبکہ مغربی کنارے اور غزہ سے بے دخل کیے گئے تقریباً دس لاکھ فلسطینی باشندوں کو اپنے وطن واپس آنے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے
یعنی کل ملا کر 56 لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزین مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
جو کہ فلسطین کی آبادی کا 68.8% بنتے ہیں
:فلسطین اور مسجد اقصی کے تنازع کے بعد عرب و اسرائیل کے بیچ جنگ
پہلی عرب اسرائیل جنگ:1948
دوسری عرب اسرائیل جنگ:(اکتوبر 1956ء-مارچ 1957ء)
تیسری عرب اسرائیل جنگ: (جون 1967ء)
چوتھی عرب اسرائیل جنگ: اکتوبر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ
1980 تا 1988 عراق ایران جنگ
1990 میں عراق کا کویت پر قبضہ
یہ تمام جنگیں تحریک مزاحمت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئیں کیونکہ اس سے پورا خلیج اندرونی مسائل میں الجھ کر رہ گیا
اکتوبر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ اس اعتبار سے کامیاب رہی کہ اس کے بعد،، تحریک آزادی فلسطین،، کو فلسطینی عوام کی واحد نمائندہ جماعت کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا
لیکن پھر مصر نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور ستمبر 1978 میں،، کیمپ ڈیوڈ معاہدہ،، کرلیا
اسی طرح 1980 تا 1988 عراق ایران جنگ سے بھی تحریک مزاحمت کو نقصان پہنچا اور 1990 میں عراق کا کویت پر قبضہ بھی تحریک مزاحمت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا کیونکہ اس سے پورا خلیج اندرونی مسائل میں الجھ کر رہ گیا
*القدس تاریخی تناظر میں*
300 قبل مسیح کنعانیوں (یبوسیوں) نے اس کو بنایا
1850 قبل مسیح حضرت ابراہیم علیہ السلام یہاں آئے اور یہاں کے بادشاہ سے ملے
931-970 قبل مسیح “القدس” پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت رہی
587 قبل مسیح بخت نصر کے ہاتھوں یہ تباہ کر دیا گیا اور یہاں کے یہودی قیدی بنا لئے گئے
135 میں رومی بادشاہ ھدریان نے یہاں سے یہود کو نکال باہر کیا
636- 400 میں القدس بزنطینی استعمار کے زیر نگیں رہا
15 ھجری، 636 عیسوی میں مسلمانوں نے معرکہ یرموک کے بعد ان علاقوں کو آزاد کرایا
17 ھجری، 638ء میں 3000 صحابہ نے اسے فتح کیا اور یہاں کے پادری صفر وینوسی نے شہر کی چابیاں عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے کیں اور معاہدہ کیا
493 ھجری، 1099ء میں صلیبیوں نے یہاں قبضہ کیا
583 ھجری، 1187ء میں معرکہ حطین میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کو شکست دے کر القدس کو آزاد کرایا
658 ھجری، 1260 ء میں معرکہ عین جالوت ہوا جس میں القدس کو تاتاریوں سے آزاد کرایا گیا
934 ھجری، 1516ء میں عثمانی خلافت نے اسے اپنا حصہ بنایا
1336 ھجری، 1917 ء میں پہلی جنگ عظیم ہوئی، خلافت عثمانیہ ختم کردی گئی اور القدس انگریز کے قبضے میں چلا گیا
1917 ء میں “بالفور” معاہدہ ہوا اور اس کے تحت “یہودی ریاست” قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا
1368 ھجری، 1948ء میں فلسطین کے 78 فیصد علاقے میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا گیا
1387 ھجری، 1967ء میں یہود نے فلسطین کے باقی ماندہ علاقوں پر قبضہ کر لیا
1408 ھجری، 1987ء میں یہودیوں کے خلاف جد و جہد کا اعلان کر دیا گیا
امریکہ نے تو 1995ء میں ہی بیت المقدس ( یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت مان لیا تھا لیکن سابقہ کسی صدر نے امریکی سفارت خانے کو منتقل کرنے کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا چنانچہ امریکی قانون کے تحت صدر کو ہر چھ ماہ بعد ایک صدارتی حکمنامہ جاری کرنا پڑتا ہے جس کے ذریعہ امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کے معاملے کو مؤخر کر دیا جاتا ہے
بالآخر امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر 2017 کو اپنے سابقہ تمام صدور کی روایات سے ہٹ کر مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کر ہی دیا جس سے پوری دنیا میں اور بطور خاص مشرق وسطٰی میں کافی بیچینی پھیل گئی
اور عالمی برادری کی جانب سے اس کی پرزور مخالفت کی جا رہی ہے
*آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بشارتیں*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ، فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ: يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللهِ هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، إِلَّا الْغَرْقَدَ، فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ
(رواه المسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک مسلمانوں کی یہود سے جنگ نہ ہو جائے پھر مسلم یہودی کو قتل کریں گے یہاں تک کہ یہودی درخت اور پتھر کے پیچھے چھپتے پھریں گے اور وہ پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان، اے اللہ کے بندے
یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے آؤ اسے قتل کر دو سوائے غرقد کے درخت کے ( وہ چھپے ہوئے یہودی کے بارے میں نہیں بتائے گا) کیوں کہ وہ یہود کا درخت ہے
(Holly fruits )اور غرقد کے ہی پھل کو آج مقدس پھل کے نام سے
جانا جاتا ہے
*🌿🌿B4U🌿🌿*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں