بدھ، 29 جولائی، 2020

محمد بن قاسم قسط 3

*فاتح سندھ*

*🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱*

*مصنف*
*🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀*

*ترتیب*
*🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴*

*پیشکش*
*✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️*

*قسط نمبر 3*
 
اگلے روز علی الصباح عبدالشمس اپنے مکان کی چھت پر نیم خوابی کی حالت میں لیٹے لیٹے اذان کی دلکش آواز سن رہا تھا۔کچھ دیر انگڑائیاں لینے کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں۔سلمی ابھی تک گہری نیند سو رہی تھی۔عبد الشمس جگا کر صبح کی ہوا خوری کے ارادے سے نیچے اتر آیا۔
ابوالحسن کے ساتھی شبنم آلود گھاس پر چادریں بچھا کر اس کے پیچھے صف بستہ کھڑے تھے۔ابوالحسن نے نہایت دلکش آواز میں سورہ فاتحہ کے بعد چند آیات تلاوت کیں۔ قرآن مجید کے الفاظ نے عبدالشمس کے دل میں تلاطم بپا کردیا۔ اس کے پڑوسی عرب بھی اس کے قریب آکھڑے ہوئے اور اپنی قوم کے نوجوانوں کے نئے طریق عبادت کو دلچسپی سے دیکھنے لگے۔رکوع و سجود کے بعد دوسری رکعت تک عبدالشمس پر ایک بے خودی سی طاری ہوچکی تھی۔اس نے آہستہ آہستہ نمازیوں کی طرف چند قدم اٹھائے قریب پہنچ کر جھجکا، رکا، اور جزبات کے ہیجان کی کسی رو کے ماتحت بھاگتا ہوا صف میں کھڑا ہوگیا۔اس کے ساتھیوں نے اس کی تقلید کی۔نماز کے اختتام پر ابوالحسن نے آٹھ کر عبد الشمس کو گلے لگا لیا۔عبدالشمس کی آنکھوں سے مسرت کے آنسو جھلک رہے تھے۔ابوالحسن اور اس کے ساتھیوں نے اسے مبارک باد دی۔
عبدالشمس نے کہا۔”آپ کی زبان میں ایک جادو تھا۔مجھے کچھ اور سنائیے!“
ابوالحسن نے کہا۔”یہ میری آواز نا تھی۔یہ خدا کا کلام تھا۔“
عبدالشمس نے کہا۔”بے شک یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔سنائیے مجھے!“
ابوالحسن نے اپنےایک ساتھی طلحہ کی طرف اشارہ کیا۔ طلحہ قرآن کا حافظ تھا۔عرب اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔طلحہ نے سورہ یسین کی تلاوت کی۔قرآن مجید کے مقدس الفاظ اور طلحہ کی دل گداز آواز سے عبدالشمس اور اس کے ساتھیوں پر رقت طاری ہوگئی۔تلاوت کے بعد ابوالحسن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور اسلام کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ عبدالشمس اور اس کے ساتھی جو ایک مدت سے عربوں کی عظمت کی داستانیں سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا اعتراف کر چکے تھے۔ابو الحسن کی تبلیغ کے بعد دین اسلام کی صداقت پر ایمان لے آئے۔کلمہ توحید پڑھنے کے بعد عبدالشمس نے اپنے لیے عبداللہ کا نام پسند کیا۔

سلمی ناریل کے ایک درخت کا سہارہ لیے کھڑی یہ تمام واقعات دیکھ رہی تھی۔وہ جھجکتی ہوئی آگے بڑھی اور اپنے باپ سے کہنے لگی۔
”ابا جان! کیا عورتیں بھی مسلمان ہوسکتی ہیں؟“
عبداللہ نے مسکراتے ہوئے ابوالحسن کی طرف دیکھا اور وہ بولا۔”خدا کی رحمت عورتوں اور مردوں کے لیے یکساں ہے۔“
سلمی نے کہا۔”تو میرا نام بھی تبدیل کردیجیے! میں بھی مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔“
ابوالحسن نے کہا۔”تمہارا یہی نام ٹھیک ہے۔تم فقط کلمہ پڑھ لو۔“
سلمی نے کلمہ پڑھا اور سب نے ہاتھ اٹھا کر اس کے لیے دعا کی۔
آسمان پر بادل چھا رہے تھے۔ اچانک موسلادھار بارش ہونے لگی اور یہ لوگ ایک کمرے میں چلے آئے۔
تھوڑی دیر بعد بارش تھیم گئی اور دلیپ سنگھ نے آکر خبر دی کہ مہاراج آپ کا انتظار کررہے ہیں۔
ابوالحسن اپنے ساتھیوں کو وہیں چھوڑ کر دلیپ سنگھ کے ساتھ ہولیا۔

[7/29, 9:02 PM] ۔: دوپہر کے وقت ابوالحسن واپس آیا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ راجہ اور بعض سرداروں نے اور بھی عربی گھوڑے خریدنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس لیے ہمارا جہاز چوتھے روز واپس روانہ ہوجائے گا۔
عنداللہ(عبدالشمس) نے انھیں کچھ دن اور ٹھہرنے کے لیے کہا لیکن ابوالحسن نے جلد واپس آنے کا وعدہ کرکے اجازت حاصل کرلی۔
عبداللہ نے کہا ”ابھی ہمیں اسلام کے متعلق بہت کچھ جاننا ہے۔اگر آپ طلحہ کو یہاں چھوڑ جائیں تو بہت اچھا ہوگا۔“
ابوالحسن نے طلحہ کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا ”اگر یہ پسند کریں تو میں انھیں بخوشی یہاں چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔“
طلحہ نے یہ دعوت خوشی سے قبول کر لی۔
اگلے دن ابوالحسن کے ساتھی جہاز کے بادبانوں کی مرمت اور خوردونوش کا ضروری سامان خریدنے کے لیے روانہ ہوچکے تھے۔ دلیپ سنگھ اور عبداللہ سے مشورہ کرنے کے بعد ابوالحسن نے اپنے تمام سرمائے سے آٹھ ہاتھی اور باقی ناریل سے جہاز بھر لیا۔
شام کے وقت ابوالحسن عبداللہ کے باغیچے میں چہل قدم کر رہا تھا کہ پیچھے سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ مڑکر دیکھا تو سلمی کھڑی تھی۔وہ چہرہ جو دودن پہلے مسرتوں کا گہوارہ تھا۔اب حزن و ملال کی تصویر بنا ہوا تھا۔وہ آنکھیں جو اندھیری رات کے ستاروں سے زیادہ دلفریب اور چمکیلی تھیں،اب پرنم تھیں۔
اس نے قدرے بےاعتنائی سے پوچھا ”سلمی تم یہاں کیا کررہی ہو۔؟“
ابوالحسن کا روکھا پن دیکھ کر ضبط کی کوشش کے باوجود اس کے آنسو چھلک پرے۔کانپتے ہوئے ہونٹوں سے درد کی گہرائیوں میں ڈوبی ہوئی آواز نکلی ”آپ پرسوں جارہے ہیں۔“
”ہاں! لیکن تمہیں کیا؟ تم رو کیوں رہی ہو؟“
”کچھ نہیں! کچھ بھی تو نہیں۔“
آنسووں سے بھیگی ہوئی مسکڑاہٹ ابوالحسن کے دل پر اثر کیے بغیر نا رہی۔اس نے کہا ”سلمی! تم ابھی تک وہی ہو۔اسلام قبول کرنے کے باوجود میں تم میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھتا۔تمہیں اب نامحرموں کے سامنے آنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ایک مسلمان لڑکی کا سب سے بڑا زیور حیا ہے۔“

آپ اب تک مجھ سے خفا ہیں؟ آپ کے کہنے پر میں لباس تبدیل کرچکی ہوں، نماز پڑھ چکی ہوں۔پرسوں سے میں نے گھر کے باہر پاوں نہیں رکھا۔کیا یہ بھی ضروری ہے کہ میں ایک مسلمان کے سامنے بھی نا آوں؟“
”ہاں! یہ بھی ضروری ہے۔میں طلحہ کو یہاں چھوڑ کے جا رہا ہوں۔وہ تمہیں ایک مسلمان عورت کے فرائض سے آگاہ کرے گا۔تمہیں اسلام کی صحیح تعلیم دے گا۔“
سلمی نے جواب دیا۔”مجھے کسی اور تعلیم کی ضرورت نہیں۔آپ جو حکم دیں گے میں مانوں گی۔آپ کے اشارے پر میں پہاڑ پر سے کودنے اور ہاتھ پاوں باندھ کر سمندر میں چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہوں۔“
ابو الحسن نے کہا۔”سلمی! اگر تمہیں میری خوشی اتنی عزیز ہے تو سنو! میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا کہ تم سر سے پاوں تک اسلام کے سانچے میں ڈھل جاو۔سچے مسلمان کی ہر نیت اور ہر فعل کو کسی انسان کی خوشی نہیں بلکہ خدا کی خوشی کا طلبگار ہونا چاہیے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد تم ایک ایسی دنیا میں قدم رکھ چکی ہو جو ایک لامتناہی جدوجہد کا گھر ہے اس میدان میں کودنے والے کو دل میں انسووں اور آہوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔مسلمان کے لیے زندگی ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ اس کی پہلو میں وہ دل ہونا چائیے جو خدا کی راہ میں زندگی کی بلند ترین خوآہشات کو بھی قربان کرنے سے نا گھبرائے۔اس کا سینہ تیروں سے چھلنی ہو لیکن زبان سے آہ تک نا نکلے۔تم عرب جاو تو شاید یہ دیکھ کر حیران ہوگی کہ مسلمان عورتیں اپنے شوہروں، بھائیوں اور بیٹوں کو جہاد پر رخصت کرتی ہیں لیکن ان کی آنکھ میں آنسو تو درکنار پیشانی پر شکن تک نہیں آتی اور یہ صرف اس لیے ہے کہ وہ خدا کی خوشی کو دنیا کی ہر خوشی پر ترجیح دیتی ہیں۔اگر تم نے مجھے خوش کرنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے تو مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑے گا کہ تم اسلام کو سمجھی نہیں۔اگر خدا کو خوش کرنا چاہتی ہو تو گھر جاومیں طلحہ کو بھیجتا ہوں، وہ آج ہی تمہیں قرآن پڑھانا شروع کردے گا۔میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میں وآپس آوں تو تم میری پیراکی کا امتحان لینے کے لیے ساحل سے ایک میل کے فاصلے پر سمندر میں میرا استقبال نا کرو اور مجھے جنگلوں اور پہاڑوں میں تمہیں تلاش نا کرنا پڑے۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوگی کہ عبدالشمس کا نام تبدیل ہونے کے بعد اس کے گھر کا نقشہ بھی بدل چکا ہے اور اس چار دیوار میں ایک مسلمان لڑکی پرورش پا رہی ہے۔“
سلمی نے پرامید ہوکر پوچھا۔ ”آپ کب آئیں گے؟“
”میں دن معین نہیں کرسکتا لیکن ارادہ یہی ہے کہ گھوڑے خریدتے ہی وہاں سے وآپس آجاوں لیکن اگر مجھے جہاد کے لیے کہیں جانا پڑا تو ممکن ہے کہ دوبارا نا آسکوں۔“
سلمی کے چہرے پر پھر ایک بار اداسی چھا گئی۔

تیسرے دن آسمان پر بادل چھا رہے تھے۔سلمی کوٹھے پر چڑھ کر حسرت بھری نگاہوں سے سمندر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ساحل سے دور ابوالحسن کا جہاز موجوں پر رقص کرتا نظر آرہا تھا۔ہوا کے چند تیز جھونکے آئے اور بارش ہونے لگی۔بارش کی تیزی کے ساتھ اس کی نگاہوں کا دائرہ محدود ہوتا گیا۔ یہاں تک کے جہاز آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ضبط کی کوشش کے باوجود اس کی آنکھوں سے آنسو جھلک پڑے اور رقصاروں پر بہتے ہوئے بارش کے قطروں کے ساتھ مل گئے۔ سلمی دیر تک ہاتھ اٹھا کر یہ دعا دہراتی رہی۔ ”میرے مولی! اسے سمندر کی سرکش لہروں سے محفوظ رکھیو!“
باغیچے میں ابوالحسن سے آخری ملاقات کے بعد سلمی کے خیالات اور عادات میں بہت بڑی تبدیلی آچکی تھی۔اسے ابوالحسن کی بےاعتنائی کا بےحدملال تھا۔تاہم اسے انسانیت کا بلند ترین معیار تصور کرتے ہوئے وہ اس بات پر ایمان لاچکی تھی کہ اس کی جو عادات ابولحسن کو ناپسند ہیں۔یقیناً برٌی ہیں۔چنانچہ اس نے دوبارا کسی کے سامنے بے حجاب ہونے کی جرات نا کی۔
جب ابوالحسن اور اس کے ساتھی بندرگاہ کی طرف روانہ ہوئے تو اس نے اپنے دل سے یہ سوال کیا۔”کیا اس کے دل میں میرے لیے کوئی جگہ ہوسکتی ہے؟“ ابوالحسن کی باتیں یاد آتیں تو اس کے دل میں کبھی یاس کی تاریکیاں مسلط ہوجاتیں اور کبھی امید کے چراغ چمک اٹھتے۔
عبداللہ کی آواز سن کر وہ نیچے اتری۔بوڑھے باپ نے سوال کیا۔”سلمی! تم بارش میں اوپر کیا کررہی تھی؟“
”کچھ نہیں اباجی!میں۔۔۔۔۔۔۔۔“ سلمی کوئی بہانہ کرنا چاہتی تھی لیکن اسے ابولحسن کی نصیحت یاد آگئی اور وہ بولی۔”میں ان کا جہاز دیکھ رہی تھی۔“
عبداللہ نے کہا۔”وہ تو دیر ہوئی جاچکے۔جاو تم کپڑے بدل آو! طلحہ ابھی آجائے گا۔ ہم اس سے قرآن مجید پڑھیں گے۔“
سلمی نے پوچھا۔”آپ انھیں کہاں چھوڑ آئے ہیں؟“
”وہ راستے میں زید کے گھر ٹھر گیا تھا۔ابھی آجائے گا۔“

چند دنوں میں طلحہ کی تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ سلمی اب اپنی ہر بات میں ابوالحسن کی خوشی کو مقدم سمجھنے کی بجائے خدا کی رضا کو مقدم سمجھنے لگی۔تاہم ہر نماز کے بعد پہلی دعا ابوالحسن کے لیے ہوتی تھی۔
چھ مہینے گزر گئے ابوالحسن کی کوئی خبر نا آئی۔سلمی کی اداسی بے چینی میں تبدیل ہونے لگی۔وہ صبح و شام مکان کی چھت پر چڑھ کر سمندر کی طرف دیکھتی۔ بندرگاہ کی طرف آنے والا ہر جہاز اسے ابوالحسن کی آمد کی اطلاع دیتا۔وہ اپنے خادم کو دن میں کئی کئی بار بدرگاہ کی طرف بھیجتی۔جب وہ مایوس نگاہوں کے ساتھ وآپس آتا تو وہ بےقرار سی ہوکر پوچھتی۔”تم نے اچھی طرح دیکھا۔ممکن ہے ان میں کوئی عرب بھی ہو؟“
خادم جواب دیتا۔”وہ فلاں جگہ سے آیا ہے۔ میں پوری چھان بین کرکے آیا ہوں۔ ان میں ایک بھی عرب نہ تھا۔“
وہ امید و بیم کے سمندر میں غوطے کھانے والے انسان کی طرح تنکے کا سہارا لیتی اور کہتی۔”تم نے ملاحوں سے پوچھا ہوتا۔ممکن ہے انھوں نے راستے میں کسی بندرگاہ پر عربوں کا جہاز دیکھا ہو یا ان کے منعلق سنا ہو؟“
خادم پھر بھاگتا ہوا بندرگاہ جاتا۔سلمی کی امنگیں پرانی امیدیں کے کھنڈروں پر نئی امیدوں کا محل کھڑا کرلیتیں۔بوڑھے نوکر کاافسردہ اور ملول چہرہ پھروہی حوصلہ شکن خبر دیتا اور سلمی کی امیدوں کا محل دھڑم سے نیچے آرہتا۔ہر صبح وہ اپنی دل میں امید کے چراغ روشن کرتی۔جب سورج سمندر کی لہروں میں چھپ جاتا تو یہ چراغ بھی بجھ جاتا۔اس کے دل کی دھڑکنیں آھوں اور سسکیوں میں تبدیل ہوجاتیں۔

*جاری ہے*
*🌴🌴B4U🌴🌴*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

محمد بن قاسم قسط 3

*فاتح سندھ* *🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱* *مصنف* *🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀* *ترتیب* *🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴* *پیشکش* *✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️* *قسط نمبر 3*   اگل...