بدھ، 29 جولائی، 2020

محمد بن قاسم قسط 2

*فاتح سندھ*

*🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱*

*مصنف*
*🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀*

*ترتیب*
*🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴*

*پیشکش*
*✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️*

*قسط نمبر 2*

ابوالحسن نے کہا”میں اس ملک کی حکومت سے اجازت لینا ضروری خیال کرتا ہوں“
لڑکی نے کہا”سراندیپ کا راجہ ایک مدت سے عربوں کے جہاز کا انتظار کررہا ہے۔جہاز کنارے تک لے چلیے؛ لیجیے راجہ کہ امیر البحر خود ہی آپہنچے۔“
دلیپ سنگھ عبدالشمس سے گہرے تعلقات کی بدولت عربی میں اچھی خاصی استعداد پیدا کرچکا تھا۔ اس نے جہاز پر چڑھتے ہی عربی زبان میں کہا ”آپ نے جہاز اتنی دور کیوں ٹھرا لیا؟“
ابوالحسن کی بجائے لڑکی نے جواب دیا۔ ”ان کا خیال تھا کہ شاید جہاز کو بندرگاہ پر لگانے سے پہلے راجہ سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔“
دلیپ سنگھ نے جواب دیا۔ ”مہاراج آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوں گے“
لڑکی نے کہا۔”میں جاتی ہوں لیکن اس بات کا خیال رہے کہ وہ سفید گھوڑا میرا ہے اور میں اس کے منہ مانگے دام دوں گی۔“ یہ کہہ کر لڑکی نے جبہ اتار کر ایک عرب کے کندھے پر پھینک دیا اور بھاگ کر سمندر میں چھلانگ لگا دی۔

عبدالشمس کو عربوں کے جہاز کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی۔اس نے شہر کے چند معززین کے ساتھ ابوالحسن اور اس کے ساتھیوں کا استقبال کیا، انھیں اپنے گھر اور ان کے گھوڑوں کو اپنے اصطبل میں جگہ دی۔آن کی آن میں پچاس گھوڑوں کے کوئی دوسو خریدار جمع ہوگئے اور تمام ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی دینے لگے۔
دلیپ سنگھ نے مشورہ دیا کہ راجہ کو دیکھائے بغیر کوئی گھوڑا فروخت نا کیا جائے، ممکن ہے وہ تمام گھوڑے خرید لیں۔عبدالشمس نے دلیپ سنگھ کی تائید کی۔ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ راجہ کا ایلچی آیا اور اس نے کہا ”مہاراج عرب تاجروں سے ملنا اور ان کے گھوڑے دیکھنا چاہتے ہیں۔“
دلیپ سنگھ نے ایلچی سے کہا ”تم جاو اور مہاراج سے کہو ہم آتے ہیں۔“ یہ کہہ کر ابوالحسن سے مخاطب ہوا۔ ”ایک گھوڑا شیخ عبدالشمس کی بیٹی نے اپنے لیے منتخب کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسے یہیں رہنے دیا جائے۔“
ابوالحسن نے کہا” اگر شیخ اپنے لیے لینا چاہتے ہیں تو مجھے عزر نہیں لیکن وہ لڑکیوں کی سواری کے قابل نہیں۔وہ بہت سرکش ہے!“
ایک طرف سے آواز آئی ”نہیں ابا جی! اس کا خیال ہے کہ ہم اس کی قیمت ادا نہیں کرسکیں گے۔“
ابوالحسن نے دیکھا۔وہی لڑکی جسے اس نے جہاز پر دیکھا تھا۔ ایک ہاتھ میں لگام اور دوسرے ہاتھ میں چابک لیے کھڑی تھی لیکن اس دفعہ اس کا لباس عرب عورتوں کاساتھا۔
ابوالحسن نے قدرے خفیف ہوکر کہا ”اگر مجھ پر اعتبار نہیں آتا تو تم خود دیکھ لو، اگر تم اسے لگام بھی دیکھ سکو تو یہی گھوڑا تمہارا انعام ہوگا!“
لڑکی تیزی سے قدم اٹھاتی ہوئی اصطبل کی طرف بڑھی، گھوڑے نے اسے دیکھتے ہی چارہ چھوڑ کر کان کھڑے کر لیے۔لڑکی نے گھوڑے کو تھپکی دی اور وہ پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوگیا۔اسے دیکھ کر دوسرے گھوڑے رسے تڑانے لگے۔

ابوالحسن نے کہا ٹھرو! اور اگے بڑھ کر گھوڑے کا رسہ کھول کر باہر لے آیا اور اسے ایک درخت کے ساتھ باندھ کر کہنے لگا ”اب آپ ہمت آزمائی کرسکتی ہیں“
لڑکی نے اچانک آگے بڑھ کر گھوڑے کا نچلا جبڑا پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے زخمی درندے کی طرح تڑپتے اچھلتے اور کودتے ہوئے جانور کے منہ میں لگام ٹھونس دی۔تماشائیوں نے حیرانی پر قابو نا پایا تھا کہ اس نے رسہ کھولا اور گھوڑے کی پیٹ پر سوار ہوگئی۔ گھوڑا چند بار سیخ پا ہونے کہ بعد چھلانگیں لگاتا ہوا مکان سے باہر نکل گیا۔
شیخ عبدالشمس نے فخریہ انداز میں کہا ”عرب کی گھوڑیوں نے ایسا گھوڑا پیدا نہیں کیا جس پر سلمی سواری نا کرسکتی ہو، مجھے افسوس ہے کہ آپ شرط ہار گئے لیکن اطمنان رکھیے! کہ آپ کو اس کی پوری قیمت ادا کی جائے گی۔“
ابوالحسن نے کہا ”یہ شرط نہ تھی، انعام تھا اور انعام کی قیمت نہیں لی جاتی۔ خوش قسمت ہے وہ گھوڑا جسے ایسا سوار مل جائے۔

راجہ دیکھنے سے پہلے ہی تمام گھوڑے خریدنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔شاہی خزانے سے جو قیمت ادا کی گئی وہ عربوں کی توقع سے کہیں زیادہ تھی۔ راجہ نے ابوالحسن سے ان کے نئے دین اور ان کی فتوحات کے متعلق کئی سوال کیے۔ دلیپ سنگھ نے ترجمانی کے فرائض سرانجام دیے۔ ابوالحسن نے تمام سوالات کے جواب دینے کے بعد دینِ اسلام کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی۔راجہ نے اسلام کی بہت سی خوبیوں کا اعتراف کرنے کے بعد ابوالحسن سے دوبارا ملاقات کا وعدہ لے کر اسے رخصت کیا۔
جب ابوالحسن اپنے میزبان کے گھر پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ سلمی ابھی تک گھر وآپس نہیں آئی اور عبدالشمس چند آدمیوں کے ہمراہ اس کی تلاش میں جا چکا ہے۔ابوالحسن نمازِ ظہر کے بعد پریشانی کی حالت میں مکان کے صحن میں ٹہل رہا تھا کہ سفید گھوڑا بے تجاشا بھاگتا ہوا اندر آیا۔گھوڑے کی لگام بھی غائب تھی۔
ابوالحسن نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر کہا ”خدا معلوم اسے کیا ہوا۔ یہ گھوڑا سرکش ضرور ہے لیکن گرے ہوئے سوار کو چھوڑ کر آنے والا نہیں اور لگام پاوں کے نیچے آکر ٹوٹ سکتی تھی، لیکن اس کا گرپڑنا ممکن نا تھا۔ میں جاتا ہوں۔“
ابوالحسن نے شیخ عبدالشمس کے خادم سے دوسری لگام منگوا کر گھوڑے کو دی اور ننگی پیٹ پر سوار ہوکر مکان سے باہر نکلا اور گھوڑے کو اس کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ گھوڑےکی رفتار ظاہر کرتی تھی کہ اس سے بہت زیادہ کام لیا جاچکا ہے۔ گھوڑا چند کوس گھنے جنگل میں سے گزرنے کے بعد ایک ٹیلے پر چڑھا اور ایک آبشار کے قریب جا کر رک گیا۔ اس سے اوپر جانے کا کوئی راستہ نا تھا۔ کچھ دیر ادھر ادھر دیکھنے کے بعد ابوالحسن گھوڑے سے نیچے اترا اور اسے ایک درخت کے ساتھ باندھ کر سلمی کو آواز دینے لگا۔دیر تک تلاش کرنے کے بعد وہ تھک کر آبشار کے قریب ایک پتھر کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ شام ہونے کو تھی۔ ابوالحسن نے عصر کی نماز ادا کی اور پھر دشوار گزار راستے سے اس مقام پر پہنچا، جہاں سے پہاڑی ندی کا پانی ایک آبشار کی شکل میں نیچے گرتا تھا۔ سلمی چند قدم کے فاصلے پر ندی کے کنارے ایک درخت کے نیچے لیٹی ہوئی تھی۔ابوالحسن کی نظر اس پر اس وقت پڑی جب ایک تین چار گز لمبا اور آدمی کی ران کے برابر موٹا اژدھا گھاس میں سے سرکتا ہوا اس کے قریب پہنچ رہا تھا۔ ابوالحسن سلمی! سلمی! کہتا ہوا بھاگا اور اس کا بازو پکڑ کر گھسیٹتا ہوا چند قدم دور لے گیا۔ سلمی نے ہلکی سی چیخ کے ساتھ آنکھیں کھولیں۔ اژدھا شکار کو جاتا ہوا دیکھ کر پھنکارتا ہوا نکلا۔ اتنی دیر میں ابوالحسن نیام سے تلوار تلوار نکال چکا تھا۔اژدھے نے اس کے بلکل قریب پہنچ کر گردن بلند کی۔ابوالحسن نے ایک طرف کود کر وار کیا، اژدھے کا سر کٹ کر علحیدہ ہوگیا۔ ابوالحسن نے ندی کے پانی سے تلوار صاف کرتے ہوئے کہا ”تم بہت بےوقوف ہو۔۔۔یہ سونے کی کون سی جگہ تھی؟؟“ 
سلمی ابھی تک دہشت زدہ ہوکر کانپ رہی تھی۔ وہ بولی ”میں تھک کر یہاں بیٹھ گئی تھی اور اونگھتے اونگھتے نا جانے کس وقت لیٹ کر سو گئی۔میں یہاں کئی بار آچکی ہوں۔لیکن ایسا اژدھا کہیں نہیں دیکھا۔ آپ پہنچ گئے ورنہ یہ اژدھا اسی طرح تڑپنے کی بجائے مجھے نگل چکا ہوتا۔ آپ یہاں کیسے؟؟؟“ 
”تم جانتی ہو میں یہاں کیسے پہنچا ہوں۔تم یہ بتاو کہ تم نے یہاں پہنچ کر گھوڑا کیوں چھوڑ دیا تھا؟“
سلمی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”میں نے کب چھوڑا۔وہ مجھے گرا کر بھاگ گیا تھا۔“ ابوالحسن نے زرا سخت لہجے میں کہا ”معلوم ہوتا ہے تمہاری تربیت بہت ناقص ماحول میں ہوئی ہے۔اس لیے تمہارے اخلاق کا معیار وہی ہونا چاہیے جو زمانہ جاہلیت کے عربوں کا تھا لیکن وہ بھی ہزار برائیوں کے باوجود مہمان سے جھوڑ بولنا ایک گھناونا فعل خیال کرتے تھے اور اس گھوڑے کو خالی واپس آتادیکھ کر مجھے یہ یقین نا آتا تھا کہ یہ تمہیں گرا کر بھاگ آیا ہے۔ اس کی تربیت میرے اصطبل میں ہوئی ہے۔ یہ سرکش اور مغرور ضرور ہے لیکن دھوکا دینا نہیں جانتا۔ سچ بتاو تم نے اپنے ہاتھوں سے اس کی لگام نہیں اتاری اور اسے ڈرا دھمکا کر وآپس نہیں بھیجا؟“

سلمی نے آنکھیں جھکاتے ہوئے جواب دیا۔ ”اگر آپ برا مانتے ہیں تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ کبھی جھوٹ نا بولوں گی۔“
”تم میں ایسی بہت سے باتیں ہیں جنھیں میں برا سمجھتا ہوں۔جنھیں ہر مسلمان برا جانے گا۔“
”آپ چاہیں تو میں ہر عادت چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔آپ کی خوشنودی میرا فرض ہے اور آپ نے تو آج میری جان بھی بچائی ہے۔“
”تمہیں مجھے خوش کرنے کی ضرورت نہیں۔میں چاہتا ہوں تمہارا خدا تم سے خوش ہو۔تمہیں صرف وہ چیز پسند کرنی چاہیے جو اسے پسند ہو اور ہر اس چیز کو ناپسند کرنا چاہیے جو اسے ناپسند ہو۔خدا کو عورتوں کا نیم عریاں لباس مردوں کے سامنے جانا پسند نہیں۔“
سلمی نے کہا۔”لباس تو میں نے آپ کے کہنے سے تبدیل کرلیا تھا۔؟
ابوالحسن نے کہا۔”لباس سے زیادہ دل کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔خیر اب باتوں کا وقت نہیں۔شام ہورہی ہے۔تمہارے والد پریشان ہوں گے۔وہ گھوڑے کے پہنچنے سے پہلے ہی تمہاری تلاش میں نکل گئے تھے۔“
چاندنی رات میں ابوالحسن اور سلمی جنگل عبور کررہے تھے۔سلمی گھوڑے پر سوار تھی۔ابوالحسن بھاگ تھامے اگے اگے چل رہا تھا۔راستے میں سلمی نے ابوالحسن کے بحری سفر، اس کی خاندان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق سوالات کیے لیکن اس کی توقع کے خلاف ابوالحسن کی بےاعتنائی بڑھتی گئی۔سلمی پریشان بھی تھی اور نادم بھی، بالآخر اس نے کہا ”آپ کو میری وجہ سے بہت تکلیف ہوئی، میں معافی چاہتی ہوں۔آپ مجھے سزا دے لیں خفا نا ہوں، یہ میرا قصور تھا اور مجھے پیدل چلنا چاہیے تھا۔میں اتر آتی ہوں۔آپ گھوڑے پر سوار ہو جائیں۔“
اس دفعہ بھی اس کی توقع کے خلاف ابوالحسن نے سردمہری سے جواب دیا۔”اگر مجھے اس بات کا خدشہ نا ہوتا کہ تم عورت ہواور کوئی درندہ تمہیں کھا جائے گا تو میں یقیناً اس وقت تمہارے ساتھ چلنا گوارا نا کرتا۔“
سلمی شکست خوردہ سی ہوکر تھوڑی دیر خاموش رہی۔پھر بولی۔”اگر وہ اژدھا مجھے نگل جاتا تو آپ کو اس بات کا افسوس ہوتا؟“
”یہ صرف تمہارے لیے ہی نہیں۔ میرے سامنے اگر وہ کسی کو بھی ہلاک کرتا تو مجھے اسی قدر افسوس ہوتا۔“
”آپ نے میرے لیے اپنی جان خطرے میں کیوں ڈالی؟“
”ایک انسان کی جان بچانا مسلمان کا فرض ہے۔“
سلمی دیر تک خاموش رہی۔دور سے چند گھوڑوں کی ٹاپ سنائی دی اور ابوالحسن نے کہا ”دیکھو! وہ ابھی تک تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔“
تھوڑی دیر بعد عبدالشمس اور اس کے ساتھی وہاں پہنچ گئے۔بیٹی کو سلامت دیکھ کر عبدالشمس نے واقعات کی تفصیل میں جانے کی ضرورت محسوس نا کی۔ سلمی کی زبانی اژدھے کا سن کر اس نے ابوالحسن کا شکریہ ادا کیا۔

*جاری ہے*
*🌴🌴B4U🌴🌴*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

محمد بن قاسم قسط 3

*فاتح سندھ* *🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱* *مصنف* *🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀* *ترتیب* *🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴* *پیشکش* *✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️* *قسط نمبر 3*   اگل...