بدھ، 29 جولائی، 2020

محمد بن قاسم قسط 3

*فاتح سندھ*

*🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱*

*مصنف*
*🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀*

*ترتیب*
*🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴*

*پیشکش*
*✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️*

*قسط نمبر 3*
 
اگلے روز علی الصباح عبدالشمس اپنے مکان کی چھت پر نیم خوابی کی حالت میں لیٹے لیٹے اذان کی دلکش آواز سن رہا تھا۔کچھ دیر انگڑائیاں لینے کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں۔سلمی ابھی تک گہری نیند سو رہی تھی۔عبد الشمس جگا کر صبح کی ہوا خوری کے ارادے سے نیچے اتر آیا۔
ابوالحسن کے ساتھی شبنم آلود گھاس پر چادریں بچھا کر اس کے پیچھے صف بستہ کھڑے تھے۔ابوالحسن نے نہایت دلکش آواز میں سورہ فاتحہ کے بعد چند آیات تلاوت کیں۔ قرآن مجید کے الفاظ نے عبدالشمس کے دل میں تلاطم بپا کردیا۔ اس کے پڑوسی عرب بھی اس کے قریب آکھڑے ہوئے اور اپنی قوم کے نوجوانوں کے نئے طریق عبادت کو دلچسپی سے دیکھنے لگے۔رکوع و سجود کے بعد دوسری رکعت تک عبدالشمس پر ایک بے خودی سی طاری ہوچکی تھی۔اس نے آہستہ آہستہ نمازیوں کی طرف چند قدم اٹھائے قریب پہنچ کر جھجکا، رکا، اور جزبات کے ہیجان کی کسی رو کے ماتحت بھاگتا ہوا صف میں کھڑا ہوگیا۔اس کے ساتھیوں نے اس کی تقلید کی۔نماز کے اختتام پر ابوالحسن نے آٹھ کر عبد الشمس کو گلے لگا لیا۔عبدالشمس کی آنکھوں سے مسرت کے آنسو جھلک رہے تھے۔ابوالحسن اور اس کے ساتھیوں نے اسے مبارک باد دی۔
عبدالشمس نے کہا۔”آپ کی زبان میں ایک جادو تھا۔مجھے کچھ اور سنائیے!“
ابوالحسن نے کہا۔”یہ میری آواز نا تھی۔یہ خدا کا کلام تھا۔“
عبدالشمس نے کہا۔”بے شک یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔سنائیے مجھے!“
ابوالحسن نے اپنےایک ساتھی طلحہ کی طرف اشارہ کیا۔ طلحہ قرآن کا حافظ تھا۔عرب اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔طلحہ نے سورہ یسین کی تلاوت کی۔قرآن مجید کے مقدس الفاظ اور طلحہ کی دل گداز آواز سے عبدالشمس اور اس کے ساتھیوں پر رقت طاری ہوگئی۔تلاوت کے بعد ابوالحسن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور اسلام کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ عبدالشمس اور اس کے ساتھی جو ایک مدت سے عربوں کی عظمت کی داستانیں سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا اعتراف کر چکے تھے۔ابو الحسن کی تبلیغ کے بعد دین اسلام کی صداقت پر ایمان لے آئے۔کلمہ توحید پڑھنے کے بعد عبدالشمس نے اپنے لیے عبداللہ کا نام پسند کیا۔

سلمی ناریل کے ایک درخت کا سہارہ لیے کھڑی یہ تمام واقعات دیکھ رہی تھی۔وہ جھجکتی ہوئی آگے بڑھی اور اپنے باپ سے کہنے لگی۔
”ابا جان! کیا عورتیں بھی مسلمان ہوسکتی ہیں؟“
عبداللہ نے مسکراتے ہوئے ابوالحسن کی طرف دیکھا اور وہ بولا۔”خدا کی رحمت عورتوں اور مردوں کے لیے یکساں ہے۔“
سلمی نے کہا۔”تو میرا نام بھی تبدیل کردیجیے! میں بھی مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔“
ابوالحسن نے کہا۔”تمہارا یہی نام ٹھیک ہے۔تم فقط کلمہ پڑھ لو۔“
سلمی نے کلمہ پڑھا اور سب نے ہاتھ اٹھا کر اس کے لیے دعا کی۔
آسمان پر بادل چھا رہے تھے۔ اچانک موسلادھار بارش ہونے لگی اور یہ لوگ ایک کمرے میں چلے آئے۔
تھوڑی دیر بعد بارش تھیم گئی اور دلیپ سنگھ نے آکر خبر دی کہ مہاراج آپ کا انتظار کررہے ہیں۔
ابوالحسن اپنے ساتھیوں کو وہیں چھوڑ کر دلیپ سنگھ کے ساتھ ہولیا۔

[7/29, 9:02 PM] ۔: دوپہر کے وقت ابوالحسن واپس آیا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ راجہ اور بعض سرداروں نے اور بھی عربی گھوڑے خریدنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس لیے ہمارا جہاز چوتھے روز واپس روانہ ہوجائے گا۔
عنداللہ(عبدالشمس) نے انھیں کچھ دن اور ٹھہرنے کے لیے کہا لیکن ابوالحسن نے جلد واپس آنے کا وعدہ کرکے اجازت حاصل کرلی۔
عبداللہ نے کہا ”ابھی ہمیں اسلام کے متعلق بہت کچھ جاننا ہے۔اگر آپ طلحہ کو یہاں چھوڑ جائیں تو بہت اچھا ہوگا۔“
ابوالحسن نے طلحہ کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا ”اگر یہ پسند کریں تو میں انھیں بخوشی یہاں چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔“
طلحہ نے یہ دعوت خوشی سے قبول کر لی۔
اگلے دن ابوالحسن کے ساتھی جہاز کے بادبانوں کی مرمت اور خوردونوش کا ضروری سامان خریدنے کے لیے روانہ ہوچکے تھے۔ دلیپ سنگھ اور عبداللہ سے مشورہ کرنے کے بعد ابوالحسن نے اپنے تمام سرمائے سے آٹھ ہاتھی اور باقی ناریل سے جہاز بھر لیا۔
شام کے وقت ابوالحسن عبداللہ کے باغیچے میں چہل قدم کر رہا تھا کہ پیچھے سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ مڑکر دیکھا تو سلمی کھڑی تھی۔وہ چہرہ جو دودن پہلے مسرتوں کا گہوارہ تھا۔اب حزن و ملال کی تصویر بنا ہوا تھا۔وہ آنکھیں جو اندھیری رات کے ستاروں سے زیادہ دلفریب اور چمکیلی تھیں،اب پرنم تھیں۔
اس نے قدرے بےاعتنائی سے پوچھا ”سلمی تم یہاں کیا کررہی ہو۔؟“
ابوالحسن کا روکھا پن دیکھ کر ضبط کی کوشش کے باوجود اس کے آنسو چھلک پرے۔کانپتے ہوئے ہونٹوں سے درد کی گہرائیوں میں ڈوبی ہوئی آواز نکلی ”آپ پرسوں جارہے ہیں۔“
”ہاں! لیکن تمہیں کیا؟ تم رو کیوں رہی ہو؟“
”کچھ نہیں! کچھ بھی تو نہیں۔“
آنسووں سے بھیگی ہوئی مسکڑاہٹ ابوالحسن کے دل پر اثر کیے بغیر نا رہی۔اس نے کہا ”سلمی! تم ابھی تک وہی ہو۔اسلام قبول کرنے کے باوجود میں تم میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھتا۔تمہیں اب نامحرموں کے سامنے آنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ایک مسلمان لڑکی کا سب سے بڑا زیور حیا ہے۔“

آپ اب تک مجھ سے خفا ہیں؟ آپ کے کہنے پر میں لباس تبدیل کرچکی ہوں، نماز پڑھ چکی ہوں۔پرسوں سے میں نے گھر کے باہر پاوں نہیں رکھا۔کیا یہ بھی ضروری ہے کہ میں ایک مسلمان کے سامنے بھی نا آوں؟“
”ہاں! یہ بھی ضروری ہے۔میں طلحہ کو یہاں چھوڑ کے جا رہا ہوں۔وہ تمہیں ایک مسلمان عورت کے فرائض سے آگاہ کرے گا۔تمہیں اسلام کی صحیح تعلیم دے گا۔“
سلمی نے جواب دیا۔”مجھے کسی اور تعلیم کی ضرورت نہیں۔آپ جو حکم دیں گے میں مانوں گی۔آپ کے اشارے پر میں پہاڑ پر سے کودنے اور ہاتھ پاوں باندھ کر سمندر میں چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہوں۔“
ابو الحسن نے کہا۔”سلمی! اگر تمہیں میری خوشی اتنی عزیز ہے تو سنو! میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا کہ تم سر سے پاوں تک اسلام کے سانچے میں ڈھل جاو۔سچے مسلمان کی ہر نیت اور ہر فعل کو کسی انسان کی خوشی نہیں بلکہ خدا کی خوشی کا طلبگار ہونا چاہیے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد تم ایک ایسی دنیا میں قدم رکھ چکی ہو جو ایک لامتناہی جدوجہد کا گھر ہے اس میدان میں کودنے والے کو دل میں انسووں اور آہوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔مسلمان کے لیے زندگی ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ اس کی پہلو میں وہ دل ہونا چائیے جو خدا کی راہ میں زندگی کی بلند ترین خوآہشات کو بھی قربان کرنے سے نا گھبرائے۔اس کا سینہ تیروں سے چھلنی ہو لیکن زبان سے آہ تک نا نکلے۔تم عرب جاو تو شاید یہ دیکھ کر حیران ہوگی کہ مسلمان عورتیں اپنے شوہروں، بھائیوں اور بیٹوں کو جہاد پر رخصت کرتی ہیں لیکن ان کی آنکھ میں آنسو تو درکنار پیشانی پر شکن تک نہیں آتی اور یہ صرف اس لیے ہے کہ وہ خدا کی خوشی کو دنیا کی ہر خوشی پر ترجیح دیتی ہیں۔اگر تم نے مجھے خوش کرنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے تو مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑے گا کہ تم اسلام کو سمجھی نہیں۔اگر خدا کو خوش کرنا چاہتی ہو تو گھر جاومیں طلحہ کو بھیجتا ہوں، وہ آج ہی تمہیں قرآن پڑھانا شروع کردے گا۔میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میں وآپس آوں تو تم میری پیراکی کا امتحان لینے کے لیے ساحل سے ایک میل کے فاصلے پر سمندر میں میرا استقبال نا کرو اور مجھے جنگلوں اور پہاڑوں میں تمہیں تلاش نا کرنا پڑے۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوگی کہ عبدالشمس کا نام تبدیل ہونے کے بعد اس کے گھر کا نقشہ بھی بدل چکا ہے اور اس چار دیوار میں ایک مسلمان لڑکی پرورش پا رہی ہے۔“
سلمی نے پرامید ہوکر پوچھا۔ ”آپ کب آئیں گے؟“
”میں دن معین نہیں کرسکتا لیکن ارادہ یہی ہے کہ گھوڑے خریدتے ہی وہاں سے وآپس آجاوں لیکن اگر مجھے جہاد کے لیے کہیں جانا پڑا تو ممکن ہے کہ دوبارا نا آسکوں۔“
سلمی کے چہرے پر پھر ایک بار اداسی چھا گئی۔

تیسرے دن آسمان پر بادل چھا رہے تھے۔سلمی کوٹھے پر چڑھ کر حسرت بھری نگاہوں سے سمندر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ساحل سے دور ابوالحسن کا جہاز موجوں پر رقص کرتا نظر آرہا تھا۔ہوا کے چند تیز جھونکے آئے اور بارش ہونے لگی۔بارش کی تیزی کے ساتھ اس کی نگاہوں کا دائرہ محدود ہوتا گیا۔ یہاں تک کے جہاز آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ضبط کی کوشش کے باوجود اس کی آنکھوں سے آنسو جھلک پڑے اور رقصاروں پر بہتے ہوئے بارش کے قطروں کے ساتھ مل گئے۔ سلمی دیر تک ہاتھ اٹھا کر یہ دعا دہراتی رہی۔ ”میرے مولی! اسے سمندر کی سرکش لہروں سے محفوظ رکھیو!“
باغیچے میں ابوالحسن سے آخری ملاقات کے بعد سلمی کے خیالات اور عادات میں بہت بڑی تبدیلی آچکی تھی۔اسے ابوالحسن کی بےاعتنائی کا بےحدملال تھا۔تاہم اسے انسانیت کا بلند ترین معیار تصور کرتے ہوئے وہ اس بات پر ایمان لاچکی تھی کہ اس کی جو عادات ابولحسن کو ناپسند ہیں۔یقیناً برٌی ہیں۔چنانچہ اس نے دوبارا کسی کے سامنے بے حجاب ہونے کی جرات نا کی۔
جب ابوالحسن اور اس کے ساتھی بندرگاہ کی طرف روانہ ہوئے تو اس نے اپنے دل سے یہ سوال کیا۔”کیا اس کے دل میں میرے لیے کوئی جگہ ہوسکتی ہے؟“ ابوالحسن کی باتیں یاد آتیں تو اس کے دل میں کبھی یاس کی تاریکیاں مسلط ہوجاتیں اور کبھی امید کے چراغ چمک اٹھتے۔
عبداللہ کی آواز سن کر وہ نیچے اتری۔بوڑھے باپ نے سوال کیا۔”سلمی! تم بارش میں اوپر کیا کررہی تھی؟“
”کچھ نہیں اباجی!میں۔۔۔۔۔۔۔۔“ سلمی کوئی بہانہ کرنا چاہتی تھی لیکن اسے ابولحسن کی نصیحت یاد آگئی اور وہ بولی۔”میں ان کا جہاز دیکھ رہی تھی۔“
عبداللہ نے کہا۔”وہ تو دیر ہوئی جاچکے۔جاو تم کپڑے بدل آو! طلحہ ابھی آجائے گا۔ ہم اس سے قرآن مجید پڑھیں گے۔“
سلمی نے پوچھا۔”آپ انھیں کہاں چھوڑ آئے ہیں؟“
”وہ راستے میں زید کے گھر ٹھر گیا تھا۔ابھی آجائے گا۔“

چند دنوں میں طلحہ کی تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ سلمی اب اپنی ہر بات میں ابوالحسن کی خوشی کو مقدم سمجھنے کی بجائے خدا کی رضا کو مقدم سمجھنے لگی۔تاہم ہر نماز کے بعد پہلی دعا ابوالحسن کے لیے ہوتی تھی۔
چھ مہینے گزر گئے ابوالحسن کی کوئی خبر نا آئی۔سلمی کی اداسی بے چینی میں تبدیل ہونے لگی۔وہ صبح و شام مکان کی چھت پر چڑھ کر سمندر کی طرف دیکھتی۔ بندرگاہ کی طرف آنے والا ہر جہاز اسے ابوالحسن کی آمد کی اطلاع دیتا۔وہ اپنے خادم کو دن میں کئی کئی بار بدرگاہ کی طرف بھیجتی۔جب وہ مایوس نگاہوں کے ساتھ وآپس آتا تو وہ بےقرار سی ہوکر پوچھتی۔”تم نے اچھی طرح دیکھا۔ممکن ہے ان میں کوئی عرب بھی ہو؟“
خادم جواب دیتا۔”وہ فلاں جگہ سے آیا ہے۔ میں پوری چھان بین کرکے آیا ہوں۔ ان میں ایک بھی عرب نہ تھا۔“
وہ امید و بیم کے سمندر میں غوطے کھانے والے انسان کی طرح تنکے کا سہارا لیتی اور کہتی۔”تم نے ملاحوں سے پوچھا ہوتا۔ممکن ہے انھوں نے راستے میں کسی بندرگاہ پر عربوں کا جہاز دیکھا ہو یا ان کے منعلق سنا ہو؟“
خادم پھر بھاگتا ہوا بندرگاہ جاتا۔سلمی کی امنگیں پرانی امیدیں کے کھنڈروں پر نئی امیدوں کا محل کھڑا کرلیتیں۔بوڑھے نوکر کاافسردہ اور ملول چہرہ پھروہی حوصلہ شکن خبر دیتا اور سلمی کی امیدوں کا محل دھڑم سے نیچے آرہتا۔ہر صبح وہ اپنی دل میں امید کے چراغ روشن کرتی۔جب سورج سمندر کی لہروں میں چھپ جاتا تو یہ چراغ بھی بجھ جاتا۔اس کے دل کی دھڑکنیں آھوں اور سسکیوں میں تبدیل ہوجاتیں۔

*جاری ہے*
*🌴🌴B4U🌴🌴*

محمد بن قاسم قسط 2

*فاتح سندھ*

*🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱*

*مصنف*
*🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀*

*ترتیب*
*🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴*

*پیشکش*
*✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️*

*قسط نمبر 2*

ابوالحسن نے کہا”میں اس ملک کی حکومت سے اجازت لینا ضروری خیال کرتا ہوں“
لڑکی نے کہا”سراندیپ کا راجہ ایک مدت سے عربوں کے جہاز کا انتظار کررہا ہے۔جہاز کنارے تک لے چلیے؛ لیجیے راجہ کہ امیر البحر خود ہی آپہنچے۔“
دلیپ سنگھ عبدالشمس سے گہرے تعلقات کی بدولت عربی میں اچھی خاصی استعداد پیدا کرچکا تھا۔ اس نے جہاز پر چڑھتے ہی عربی زبان میں کہا ”آپ نے جہاز اتنی دور کیوں ٹھرا لیا؟“
ابوالحسن کی بجائے لڑکی نے جواب دیا۔ ”ان کا خیال تھا کہ شاید جہاز کو بندرگاہ پر لگانے سے پہلے راجہ سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔“
دلیپ سنگھ نے جواب دیا۔ ”مہاراج آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوں گے“
لڑکی نے کہا۔”میں جاتی ہوں لیکن اس بات کا خیال رہے کہ وہ سفید گھوڑا میرا ہے اور میں اس کے منہ مانگے دام دوں گی۔“ یہ کہہ کر لڑکی نے جبہ اتار کر ایک عرب کے کندھے پر پھینک دیا اور بھاگ کر سمندر میں چھلانگ لگا دی۔

عبدالشمس کو عربوں کے جہاز کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی۔اس نے شہر کے چند معززین کے ساتھ ابوالحسن اور اس کے ساتھیوں کا استقبال کیا، انھیں اپنے گھر اور ان کے گھوڑوں کو اپنے اصطبل میں جگہ دی۔آن کی آن میں پچاس گھوڑوں کے کوئی دوسو خریدار جمع ہوگئے اور تمام ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی دینے لگے۔
دلیپ سنگھ نے مشورہ دیا کہ راجہ کو دیکھائے بغیر کوئی گھوڑا فروخت نا کیا جائے، ممکن ہے وہ تمام گھوڑے خرید لیں۔عبدالشمس نے دلیپ سنگھ کی تائید کی۔ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ راجہ کا ایلچی آیا اور اس نے کہا ”مہاراج عرب تاجروں سے ملنا اور ان کے گھوڑے دیکھنا چاہتے ہیں۔“
دلیپ سنگھ نے ایلچی سے کہا ”تم جاو اور مہاراج سے کہو ہم آتے ہیں۔“ یہ کہہ کر ابوالحسن سے مخاطب ہوا۔ ”ایک گھوڑا شیخ عبدالشمس کی بیٹی نے اپنے لیے منتخب کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسے یہیں رہنے دیا جائے۔“
ابوالحسن نے کہا” اگر شیخ اپنے لیے لینا چاہتے ہیں تو مجھے عزر نہیں لیکن وہ لڑکیوں کی سواری کے قابل نہیں۔وہ بہت سرکش ہے!“
ایک طرف سے آواز آئی ”نہیں ابا جی! اس کا خیال ہے کہ ہم اس کی قیمت ادا نہیں کرسکیں گے۔“
ابوالحسن نے دیکھا۔وہی لڑکی جسے اس نے جہاز پر دیکھا تھا۔ ایک ہاتھ میں لگام اور دوسرے ہاتھ میں چابک لیے کھڑی تھی لیکن اس دفعہ اس کا لباس عرب عورتوں کاساتھا۔
ابوالحسن نے قدرے خفیف ہوکر کہا ”اگر مجھ پر اعتبار نہیں آتا تو تم خود دیکھ لو، اگر تم اسے لگام بھی دیکھ سکو تو یہی گھوڑا تمہارا انعام ہوگا!“
لڑکی تیزی سے قدم اٹھاتی ہوئی اصطبل کی طرف بڑھی، گھوڑے نے اسے دیکھتے ہی چارہ چھوڑ کر کان کھڑے کر لیے۔لڑکی نے گھوڑے کو تھپکی دی اور وہ پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوگیا۔اسے دیکھ کر دوسرے گھوڑے رسے تڑانے لگے۔

ابوالحسن نے کہا ٹھرو! اور اگے بڑھ کر گھوڑے کا رسہ کھول کر باہر لے آیا اور اسے ایک درخت کے ساتھ باندھ کر کہنے لگا ”اب آپ ہمت آزمائی کرسکتی ہیں“
لڑکی نے اچانک آگے بڑھ کر گھوڑے کا نچلا جبڑا پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے زخمی درندے کی طرح تڑپتے اچھلتے اور کودتے ہوئے جانور کے منہ میں لگام ٹھونس دی۔تماشائیوں نے حیرانی پر قابو نا پایا تھا کہ اس نے رسہ کھولا اور گھوڑے کی پیٹ پر سوار ہوگئی۔ گھوڑا چند بار سیخ پا ہونے کہ بعد چھلانگیں لگاتا ہوا مکان سے باہر نکل گیا۔
شیخ عبدالشمس نے فخریہ انداز میں کہا ”عرب کی گھوڑیوں نے ایسا گھوڑا پیدا نہیں کیا جس پر سلمی سواری نا کرسکتی ہو، مجھے افسوس ہے کہ آپ شرط ہار گئے لیکن اطمنان رکھیے! کہ آپ کو اس کی پوری قیمت ادا کی جائے گی۔“
ابوالحسن نے کہا ”یہ شرط نہ تھی، انعام تھا اور انعام کی قیمت نہیں لی جاتی۔ خوش قسمت ہے وہ گھوڑا جسے ایسا سوار مل جائے۔

راجہ دیکھنے سے پہلے ہی تمام گھوڑے خریدنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔شاہی خزانے سے جو قیمت ادا کی گئی وہ عربوں کی توقع سے کہیں زیادہ تھی۔ راجہ نے ابوالحسن سے ان کے نئے دین اور ان کی فتوحات کے متعلق کئی سوال کیے۔ دلیپ سنگھ نے ترجمانی کے فرائض سرانجام دیے۔ ابوالحسن نے تمام سوالات کے جواب دینے کے بعد دینِ اسلام کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی۔راجہ نے اسلام کی بہت سی خوبیوں کا اعتراف کرنے کے بعد ابوالحسن سے دوبارا ملاقات کا وعدہ لے کر اسے رخصت کیا۔
جب ابوالحسن اپنے میزبان کے گھر پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ سلمی ابھی تک گھر وآپس نہیں آئی اور عبدالشمس چند آدمیوں کے ہمراہ اس کی تلاش میں جا چکا ہے۔ابوالحسن نمازِ ظہر کے بعد پریشانی کی حالت میں مکان کے صحن میں ٹہل رہا تھا کہ سفید گھوڑا بے تجاشا بھاگتا ہوا اندر آیا۔گھوڑے کی لگام بھی غائب تھی۔
ابوالحسن نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر کہا ”خدا معلوم اسے کیا ہوا۔ یہ گھوڑا سرکش ضرور ہے لیکن گرے ہوئے سوار کو چھوڑ کر آنے والا نہیں اور لگام پاوں کے نیچے آکر ٹوٹ سکتی تھی، لیکن اس کا گرپڑنا ممکن نا تھا۔ میں جاتا ہوں۔“
ابوالحسن نے شیخ عبدالشمس کے خادم سے دوسری لگام منگوا کر گھوڑے کو دی اور ننگی پیٹ پر سوار ہوکر مکان سے باہر نکلا اور گھوڑے کو اس کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ گھوڑےکی رفتار ظاہر کرتی تھی کہ اس سے بہت زیادہ کام لیا جاچکا ہے۔ گھوڑا چند کوس گھنے جنگل میں سے گزرنے کے بعد ایک ٹیلے پر چڑھا اور ایک آبشار کے قریب جا کر رک گیا۔ اس سے اوپر جانے کا کوئی راستہ نا تھا۔ کچھ دیر ادھر ادھر دیکھنے کے بعد ابوالحسن گھوڑے سے نیچے اترا اور اسے ایک درخت کے ساتھ باندھ کر سلمی کو آواز دینے لگا۔دیر تک تلاش کرنے کے بعد وہ تھک کر آبشار کے قریب ایک پتھر کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ شام ہونے کو تھی۔ ابوالحسن نے عصر کی نماز ادا کی اور پھر دشوار گزار راستے سے اس مقام پر پہنچا، جہاں سے پہاڑی ندی کا پانی ایک آبشار کی شکل میں نیچے گرتا تھا۔ سلمی چند قدم کے فاصلے پر ندی کے کنارے ایک درخت کے نیچے لیٹی ہوئی تھی۔ابوالحسن کی نظر اس پر اس وقت پڑی جب ایک تین چار گز لمبا اور آدمی کی ران کے برابر موٹا اژدھا گھاس میں سے سرکتا ہوا اس کے قریب پہنچ رہا تھا۔ ابوالحسن سلمی! سلمی! کہتا ہوا بھاگا اور اس کا بازو پکڑ کر گھسیٹتا ہوا چند قدم دور لے گیا۔ سلمی نے ہلکی سی چیخ کے ساتھ آنکھیں کھولیں۔ اژدھا شکار کو جاتا ہوا دیکھ کر پھنکارتا ہوا نکلا۔ اتنی دیر میں ابوالحسن نیام سے تلوار تلوار نکال چکا تھا۔اژدھے نے اس کے بلکل قریب پہنچ کر گردن بلند کی۔ابوالحسن نے ایک طرف کود کر وار کیا، اژدھے کا سر کٹ کر علحیدہ ہوگیا۔ ابوالحسن نے ندی کے پانی سے تلوار صاف کرتے ہوئے کہا ”تم بہت بےوقوف ہو۔۔۔یہ سونے کی کون سی جگہ تھی؟؟“ 
سلمی ابھی تک دہشت زدہ ہوکر کانپ رہی تھی۔ وہ بولی ”میں تھک کر یہاں بیٹھ گئی تھی اور اونگھتے اونگھتے نا جانے کس وقت لیٹ کر سو گئی۔میں یہاں کئی بار آچکی ہوں۔لیکن ایسا اژدھا کہیں نہیں دیکھا۔ آپ پہنچ گئے ورنہ یہ اژدھا اسی طرح تڑپنے کی بجائے مجھے نگل چکا ہوتا۔ آپ یہاں کیسے؟؟؟“ 
”تم جانتی ہو میں یہاں کیسے پہنچا ہوں۔تم یہ بتاو کہ تم نے یہاں پہنچ کر گھوڑا کیوں چھوڑ دیا تھا؟“
سلمی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”میں نے کب چھوڑا۔وہ مجھے گرا کر بھاگ گیا تھا۔“ ابوالحسن نے زرا سخت لہجے میں کہا ”معلوم ہوتا ہے تمہاری تربیت بہت ناقص ماحول میں ہوئی ہے۔اس لیے تمہارے اخلاق کا معیار وہی ہونا چاہیے جو زمانہ جاہلیت کے عربوں کا تھا لیکن وہ بھی ہزار برائیوں کے باوجود مہمان سے جھوڑ بولنا ایک گھناونا فعل خیال کرتے تھے اور اس گھوڑے کو خالی واپس آتادیکھ کر مجھے یہ یقین نا آتا تھا کہ یہ تمہیں گرا کر بھاگ آیا ہے۔ اس کی تربیت میرے اصطبل میں ہوئی ہے۔ یہ سرکش اور مغرور ضرور ہے لیکن دھوکا دینا نہیں جانتا۔ سچ بتاو تم نے اپنے ہاتھوں سے اس کی لگام نہیں اتاری اور اسے ڈرا دھمکا کر وآپس نہیں بھیجا؟“

سلمی نے آنکھیں جھکاتے ہوئے جواب دیا۔ ”اگر آپ برا مانتے ہیں تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ کبھی جھوٹ نا بولوں گی۔“
”تم میں ایسی بہت سے باتیں ہیں جنھیں میں برا سمجھتا ہوں۔جنھیں ہر مسلمان برا جانے گا۔“
”آپ چاہیں تو میں ہر عادت چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔آپ کی خوشنودی میرا فرض ہے اور آپ نے تو آج میری جان بھی بچائی ہے۔“
”تمہیں مجھے خوش کرنے کی ضرورت نہیں۔میں چاہتا ہوں تمہارا خدا تم سے خوش ہو۔تمہیں صرف وہ چیز پسند کرنی چاہیے جو اسے پسند ہو اور ہر اس چیز کو ناپسند کرنا چاہیے جو اسے ناپسند ہو۔خدا کو عورتوں کا نیم عریاں لباس مردوں کے سامنے جانا پسند نہیں۔“
سلمی نے کہا۔”لباس تو میں نے آپ کے کہنے سے تبدیل کرلیا تھا۔؟
ابوالحسن نے کہا۔”لباس سے زیادہ دل کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔خیر اب باتوں کا وقت نہیں۔شام ہورہی ہے۔تمہارے والد پریشان ہوں گے۔وہ گھوڑے کے پہنچنے سے پہلے ہی تمہاری تلاش میں نکل گئے تھے۔“
چاندنی رات میں ابوالحسن اور سلمی جنگل عبور کررہے تھے۔سلمی گھوڑے پر سوار تھی۔ابوالحسن بھاگ تھامے اگے اگے چل رہا تھا۔راستے میں سلمی نے ابوالحسن کے بحری سفر، اس کی خاندان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق سوالات کیے لیکن اس کی توقع کے خلاف ابوالحسن کی بےاعتنائی بڑھتی گئی۔سلمی پریشان بھی تھی اور نادم بھی، بالآخر اس نے کہا ”آپ کو میری وجہ سے بہت تکلیف ہوئی، میں معافی چاہتی ہوں۔آپ مجھے سزا دے لیں خفا نا ہوں، یہ میرا قصور تھا اور مجھے پیدل چلنا چاہیے تھا۔میں اتر آتی ہوں۔آپ گھوڑے پر سوار ہو جائیں۔“
اس دفعہ بھی اس کی توقع کے خلاف ابوالحسن نے سردمہری سے جواب دیا۔”اگر مجھے اس بات کا خدشہ نا ہوتا کہ تم عورت ہواور کوئی درندہ تمہیں کھا جائے گا تو میں یقیناً اس وقت تمہارے ساتھ چلنا گوارا نا کرتا۔“
سلمی شکست خوردہ سی ہوکر تھوڑی دیر خاموش رہی۔پھر بولی۔”اگر وہ اژدھا مجھے نگل جاتا تو آپ کو اس بات کا افسوس ہوتا؟“
”یہ صرف تمہارے لیے ہی نہیں۔ میرے سامنے اگر وہ کسی کو بھی ہلاک کرتا تو مجھے اسی قدر افسوس ہوتا۔“
”آپ نے میرے لیے اپنی جان خطرے میں کیوں ڈالی؟“
”ایک انسان کی جان بچانا مسلمان کا فرض ہے۔“
سلمی دیر تک خاموش رہی۔دور سے چند گھوڑوں کی ٹاپ سنائی دی اور ابوالحسن نے کہا ”دیکھو! وہ ابھی تک تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔“
تھوڑی دیر بعد عبدالشمس اور اس کے ساتھی وہاں پہنچ گئے۔بیٹی کو سلامت دیکھ کر عبدالشمس نے واقعات کی تفصیل میں جانے کی ضرورت محسوس نا کی۔ سلمی کی زبانی اژدھے کا سن کر اس نے ابوالحسن کا شکریہ ادا کیا۔

*جاری ہے*
*🌴🌴B4U🌴🌴*

محمد بن قاسم قسط 1

*فاتح سندھ*

*🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱*

*مصنف*
*🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀*

*ترتیب*
*🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴*

*پیشکش*
*✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️*

*قسط نمبر 1*

*ابوالحسن*

ہندوستان کے مغربی ساحل کی اہم بندرگاہوں اور جزیرا سراندیپ(موجودہ سریلنکا یا سیلون) کے ساتھ ایک مدت سے عربوں کے تجارتی تعلقات چلے آرہے تھے۔زمانہ جاہلیت میں چند عرب تاجر سر اندیپ میں آباد ہوگئے تھے اور جب عرب میں ایک نئے دین کا چرچا ہونے لگا تو یہ دین ان عربوں کو اپنے آباواجداد کے مذہب کو ترک کرنے پر آمادہ نا کرسکا۔لیکن ایرانیوں اور رومیوں کے مقابلے میں عربوں کی شاندار فتوحات کی خبریں سن کر ان کی قومی عصبیت جاگ آٹھی تھی۔ ایران، عرب کے مقابلے میں ایک متمدن ملک سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے ہندوستان کے بازاروں میں عرب کے مقابلے میں ایران کی مصنوعات کی زیادہ قدر تھی۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے حکمران حیران کو ایک طاقتور ہمسایہ خیال کرتے تھے اور عربوں کے مقابلے میں ایرانی تاجروں کو زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔اگر شام سے کوئی قافلہ آجاتا تو روما کی قدیم سطوت سے مرعوب ہندوستانی انھیں بھی عربوں سے زیادہ مرعات دیتے۔ لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شاندار فتوحات نے عربوں کے مطلق ہمسایہ ممالک کے زاویہ نگاہ کو تبدیل کردیا۔
سراندیپ اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں آباد ہونے والے وہ ےاجر جو ابھی تک عرب کے اندرونی انقلاب سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔ کفر کے مقابلے میں اسلام کی فتوحات کو ایرانیون اور رومیوں کے مقابلے میں عرب کی فتوحات سمجھ کر پھولے نہیں سماتے تھے۔ عربوں کے نئے دین سے ان کی نفرت اب محبت میں تبدیل ہورہی تھی۔ اس زمانے میں جن لوگوں کو عرب جانے کا اتفاق ہوا وہ اسلام کی نعمتوں سے مالا مال ہو کر وآپس آئے۔
عبدالشمس عرب عرب تاجروں کا سرکردہ تھا۔ اس کا خاندان ایک مدت سے سر آندیپ میں آباد تھا۔ وہ اسی جزیرے میں پیدا ہوا اور اسی جگہ آباد ہونے والے ایک عرب خاندان کی لڑکی سے شادی کی۔ جوانی سے بڑھاپے تک اس کے بحری سفر بھی سراندیپ سے کاٹھیاوار تک محدود رہے۔اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کے عرب میں اس کے خاندان کے دوسرے افراد کون ہیں اور کس جگہ رہتے ہیں۔
دوسرے عربوں کی طرح وہ بھی مادرِ وطن کے ساتھ اس وقت دلچسپی لینے لگا جب یرموک اور قادسیہ میں مسلمانوں کی شاندار فتوحات کی خبریں دنیا کے ہر گوشے میں پہنچ چکی تھیں۔

موجودہ راجہ کے باپ کو انھی خبروں نے عرب کے ایک بےنام تاجر کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر آمادہ کیا تھا۔ اس نے عبدالشمس اور اس کے ساتھیوں کو دربار میں بلایا اور بیش قیمت تحائف دے کر رخصت کیا۔
سن ٤٥ہجری میں اپنے باپ کی وفات کے بعد نئے راجہ نے تخت نشین ہوتے ہی عبدالشمس کو اپنے پاس بلایا اور کہا ”مدت سے ہمارے ملک میں تمہارے ملک کا کوئی تاجر نہیں آیا۔ میں عرب کے تازہ حالات معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے تمہارے نئے دین کے ساتھ دلچسپی ہے اگر تم وہاں جانا پسند کرو تو میں تمہارے لیے ہر سہولت مہیا کرنے کے لیے تیار ہوں۔“
عبدالشمس نے کہا ”آپ کے منہ سے میرے دل کی دبی ہوئی آواز نکلی ہے۔ میں جانے کے لیے تیار ہوں۔“
پانچ عرب تاجروں کے سوا باقی سب عبدالشمس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوگئے۔
دس دن بعد بندرگاہ پر ایک جہاز کھڑا تھا اور عرب اپنے اپنے بال بچوں سے رخصت ہورہے تھے۔عبدالشمس کی بیوی فوت ہوچکی تھی اس نے سینے پر پتھر رکھ کر اپنی اکلوتی بیٹی کو الوداع کہا۔ اس لڑکی کا نام سلمی تھا۔ شہر میں کوئی شخص ایسا نا تھا جو اسے نسوانی حسن کا بلند ترین معیار تصور نا کرتا۔ شہ سوار اسے سرکش گھوڑوں کو دوڑاتے اوربہترین تیراک اسے خوفناک آبشاروں میں کودتے اورسمندر میں مچھلی کی طرح تیرتے دیکھ کر دم بخود رہ جاتے۔
عبدالشمس کی روانگی کے بیس دن بعد کاٹھیاوار کے تاجروں کا ایک جہاز بندرگاہ پر رکا اور عبدالشمس اور اس کے دوساتھیوں نے اتر کر یہ خبر سنائی کہ ان کا جہاز اور دوسرے ساتھی سمندر کی لہروں کا شکار ہوچکے ہیں اور اگر کاٹھیاوار کے تاجروں کا جہاز وقت پر نا پہنچتا تو وہ بھی چند ساعت اور پانی میں ہاتھ پاوں مارنے کے بعد ڈوب جاتے۔

راجہ نے اس حادثے کی خبر نہایت افسوس کے ساتھ سنی۔ سندھی تاجروں کے سردار کا نام دلیپ سنگھ تھا۔ راجہ نے اسے دربار میں بلایا اور تین عربوں کی جان بچانے کے عوض اسے تین ہاتھی انعام دے۔ راجہ کو مہربان دیکھ کر دلیپ سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے وہاں آباد ہونے کا خیال ظاہر کیا۔ راجہ نے خوشی کے ساتھ ان کی یہ درخواست منظور کی اور شاہی خزانے سے ان کے لیے مکانات تعمیر کروا دیے۔
چند سال کی وفادارانہ خدمات کے بعد دلیپ سنگھ کو راجہ کے بحری بیڑے کا افسرِ اعلی بنا دیا گیا۔

اس واقع کے تین سال بعد ابوالحسن پہلا مسلمان تھا جسے تجارت کا ارادہ اور تبلیغ کا شوق اس دور افتادہ جزیرے تک لے آیا۔
کئی ہفتوں کے سفر کے بعد ایک صبح ابوالحسن اور اس کے ساتھ جہاز پر کھڑے سراندیپ کے سرسبز ساحل کی طرف دیکھ رہے تھے۔
بندرگاہ کے قریب مرد،عورتیں اور بچے کشتیوں پر سوار ہوکر اور چند تیرتے ہوئے لوگ جہاز کے استقبال کے لیے نکلے۔ ایک کشتی پر ابوالحسن کو جزیرے کی سیہ فارم اور نیم عریاں عورتوں کے درمیان ایک احنبی صورت دیکھائی دی۔ اس کا رنگ سرخ و سفید اور شکل جزیرے کے باشندوں سے مختلف تھی۔دوسری کشتیوں سے پہلے جہاز کے قریب پہنچنے کے لیے وہ اپنی کشتی پر کھڑی دو تنو مند ملاحوں کو جو کشتی کے چپو چلا رہے تھے، ڈانٹ ڈپٹ کر رہی تھی۔
یہ کشتی تمام کشتیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جہاز کے قریب آلگی۔ لڑکی نے ابوالحسن کی طرف دیکھا اور اس نے بےباک نگاہوں کا جواب دینے کی بجائے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ابوالحسن کے ساتھیوں کو بھی عورتوں کا نیم عریاں لباس پسند نا آیا۔حسین لڑکی نے جہاز والوں کی بےاعتنائی کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے سراندیپی زبان میں کچھ کہا لیکن جہاز پر سے کوئی جواب نا آیا۔
اچانک ابوالحسن نے کسی کی چیخ پکار سن کر نیچے دیکھا۔کشتی سے آٹھ دس گز کے فاصلے پر وہی خوبصورت لڑکی پانی میں غوطے کھا رہی تھی اور کشتی والے اس کی چیخ و پکار کے باواجود سخت بے اعتنائی سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ابوالحسن نے پہلے رسی کی سیڑھی پھینکی لیکن جب اس بات کا یقین ہوگیا کہ لڑکی کے ہاتھ پاوں جواب دے رہے ہیں اور وہ سیڑھی تک نہیں پہنچ سکتی تو وہ کپڑوں سمیت سمندر میں کود پڑا لیکن لڑکی اچانک پانی میں غائب ہوگئی اور وہ پریشان ہوکر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اتنی دیر میں بہت سی کشتیاں جہاز کے گرد جمع ہوچکی تھیں اور جزیرے کے باشندے قہقہے لگا رہے تھے۔۔۔

ابوالحسن نے تین مرتبہ غوطہ لگانے کے بعد دل برداشتہ ہوکر سیڑھی کی رسی پکڑ لی اور وہ جہاز پر چڑھنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ اوپر سے اس کا ساتھی چلانے لگا۔ ”وہ ادھر ہے جہاز کی دوسری طرف۔وہ ڈوب رہی ہے شاید کسی مچھلی نے پکڑ رکھا ہے“
مقامی مردوں اور عورتوں نے پھر قہقہہ لگایا۔ابوالحسن لڑکی کے جہاز کی دوسری طرف پہنچنے کی وجہ نا سمجھ سکا۔ تشویش اور حیرانی کے ملے جلے جزبات کے ساتھ اس نے جلد ہی پھر غوطہ لگایا اور جہاز کے نیچے سے گزرتا ہوا دوسری طرف پہنچ گیا۔وہاں کوئی نا تھا۔اوپر سے اس کا وہی ساتھی شور مچا رہا تھا: ”وہ ڈوب گئی۔اسے مچھلی نگل گئی۔“
ابوالحسن مایوس ہوکر پھر دوسری طرف پہنچا۔اس دفعہ لوگوں کے قہقہوں میں اس کے ساتھی بھی شریک تھے اور ایک عرب نے کہا ”آپ آجایے وہ آپ سے بہتر تیر سکتی ہے۔“
ابوالحسن نے کھسیانا ہوکر سیڑھی پکڑ لی لیکن ابھی ایک ہی پاوں اوپر رکھا تھا کہ کسی نے اس کی ٹانگ پکڑ کرپانی میں گرا دیا۔اس نے سنبھل کر ادھر ادھر دیکھا تو لڑکی تیزی سے سیڑھی پر چڑھ رہی تھی۔
ابوالحسن جہاز پر پہنچا تو اس کے ساتھی پریشان ہوکر لڑکی کے قہقہے سن رہے تھے۔
لڑکی نے ابوالحسن کی طرف دیکھ کر عربی میں کہا ”مجھے آپ کے بھیگ جانے کا بہت افسوس ہے۔“
لڑکی کے منہ سے عربی کے الفاظ سن کر سب کی نگاہیں اس ہر جم کر رھ گئیں۔

ابوالحسن نے پوچھا ”کیا تم عرب ہو؟“
لڑکی نے ایک طرف سر جھکا کر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کے بالوں کا پانی نچوڑتے ہوئے جواب دیا”ہاں! میں عرب ہوں۔ ایک مدت سے ہم عربوں کے جہازوں کی راہ دیکھا کرتے تھے۔ میں آپ کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ آپ کیا مال لائے ہیں؟“
ایک عرب لڑکی کو اسے لباس میں دیکھنا ابوالحسن اور اس کے ساتھیوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔وہ پریشان ہوکر ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
لڑکی نے اپنے سوال کا جواب نا پاکر پھر پوچھا ”میں پوچھتی ہوں آپ کیا مال لائے ہیں؟ آپ حیران کیوں ہیں۔ کیا عرب عورتیں تیرنا نہیں جانتیں۔ آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ اچھا میں خود دیکھ لیتی ہوں۔“
ابوالحسن نے کہا ”ٹھہرو! ہم گھوڑے لائے ہیں۔ میں تمہیں خود دیکھاتا ہوں لیکن میں حیران ہوں کہ اس جزیرے کے عرب ابھی تک زمانہ جاہلیت کے عربوں سے بدتر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کیا انھیں انسانوں کا سا لباس پہننا اور مردوں سے حیا کرنا کسی نے نہیں سیکھایا؟“
لڑکی کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ اس نے جواب دیا”کیا یہ انسانوں کا لباس نہیں؟“
”نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے گھر تک اسلام کی روشنی ابھی تک نہیں آئی۔“ یہ کہہ کر ابوالحسن نے ایک جبہ اٹھایا اور لڑکی کے کندھوں پر ڈال کر کہا ”اب تم ہمارا جہاز دیکھ سکتی ہو۔“
لڑکی نے ابوالحسن کے الفاظ سے زیادہ اس کی شخصیت سے مرعوب ہوکر اپنے عریاں بازوں اور پنڈلیوں کو جبے میں چھپا لیا۔
ابوالحسن کی پونجی پچاس عرب گھوڑے تھے۔لڑکی نے یکے بعد دیگرے تمام گھوڑوں کا معائنہ کیا اور ایک گھوڑے کی پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولی ”میں یہ خریدوں گی۔ اس کی قیمت کیا ہے؟“
ابوالحسن نے کہا ”تم میں ابھی تک عربوں کی ایک خصوصیت باقی ہے۔یہی گھوڑا ان سب میں بہترین ہے لیکن تم نا اس کی قیمت ادا کرسکو گی اور نہ یہ عورتوں کی سواری کے قابل ہے۔یہ جس قدر خوبصورت اور تیز رفتار ہے اسی قدر منہ زور بھی ہے۔“
لڑکی اس کے جواب پر مسکرائی اور بولی ”خیر دیکھا جائے گا۔ آپ نے جہاز اتنی دور کیوں ٹہرا لیا؟“

*جاری ہے*
*🌴🌴B4U🌴🌴*

پیر، 20 جولائی، 2020

معرکہ حق و باطل

*🌴🌴معرکہ حق و باطل🌴🌴*

*پیشکش*
*🍀🍀علم کا خزانہ🍀🍀*

*ترتیب*
*🌱🌱ایاز وسیر🌱🌱*

*قسط نمبر 2*


*ساٹھ ہجری کے اختتام سے پناہ مانگنے کا حکم*

 حضرت امام حسین کی شہادتِ عظمیٰ کی یہ ایک منفرد خوبی ہے کہ حضور نبیٴ اکرم ﷺ نے اس کی تفصیلات بہت پہلے بتا دیں تھیں جس کی جزئیات سے اہلِ بیت واقف ہو چکے تھے اور انہیں بہ خوبی پتہ چل چکا تھا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ان حیرت انگیز اور قبل از وقت تفصیلات کو معجزانہ پیشن گوئی کے سوا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ۔
یہی وجہ ہے کہ میدان ِ صفین کی طرف جاتے ہوئے راستے میں حضرت علی  شیرِ خدا نے کربلا کے ان مقامات کی نشان دہی کر دی تھی جہاں ان حضرات کو شہید ہونا تھا ۔
 ان واقعات کا بہ نظر غور جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نبی ِ اکرم ﷺ نے دیگر تفصیلات کے ساتھ بعض خاص لوگوں کو ماہ و سا ل سے بھی آگاہ کر دیا تھا ۔

اور وہ حتمی طور پر جانتے تھے کہ یہ افسوس ناک سانحہ کب وقوع پذیر ہونے والا ہے۔
حضرت ابوہریرہ  بھی ان خاص لوگوں اور محرم راز دوستوں میں سے تھے جنہیں اچھی طرح علم تھا کہ ساٹھ ہجری کے اختتام تک سیاسی اور ملکی حالات مستحکم نہیں رہیں گے بلکہ ان میں نمایاں تبدیلیاں آ جائیں گی۔حکومت کی دیکھ بھال ایسے غیر صالح اور اوباش نوعمر لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے گی جن کے پیشِ نظر امانتِ الٰہی نہیں بلکہ تعیش ِ زندگی ہو گی۔اور وہ اقتدار کو عیش و عشرت ، شراب و کباب، بد معاشی ، آوارگی ، بد کاری اور عوام پر ظلم و ستم ڈھانے کے لیے بے دریغ استعمال کریں گے۔
حضرت ابو ہریرہ  اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ”میں ساٹھ ہجری کے اختتام اور نو عمر لوگوں کی امارت سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں “
 ان کا مطلب یہ تھا کہ ایک خوفناک دور شروع ہونے والا ہے جس میں اوباش لڑکے سلطنت و حکومت پر قابض ہوں گے جس سے امتِ مسلمہ کو ناقابلِ تلافی نقصان ہو گا۔ایسے اوباش لڑکوں کے بارے میں آپ ﷺ نے پہلے سے خبردار فرما دیا تھا :
 ” اس امت کی ہلاکت قریش کے اوباش نوجوانوں کے ہاتھوں ہو گی۔
بیشک میری امت میں جھگڑا و فساد بے وقوف اوباش نوجوانوں کے ہاتھوں برپا ہو گا۔“
 حضرت ابوہریرہ نے ایک اور روایت میں فرمایا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ:
 ” اہل ِ عرب کے لیے اس شر کی وجہ سے تباہی و بربادی ہے جو ساٹھ ہجری کے اختتام پر قریب آ چکی ہے۔“
 امانت کو مالِ غنیمت اور صدقہ و زکوٰة کو تاوان خیال کیا جائے گا۔
اور گواہی شخصی جان پہچان کی بنا پر ہو گی۔اور فیصلہ ذاتی خواہش کی بنا پر ہو گا۔
 حضرت امِ سلمہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
 ” ( میرے جگر گوشہ )حسین ابن ِ علی کو ساٹھ ہجری کے اختتام پر شہید کر دیا جائے گا۔ جب ایک اوباش نوجوان ان پر چڑھائی کرے گا۔“

حضور نبیِ اکرم ﷺ کی پیشن گوئی کے مطابق ساٹھ ہجری میں قبیلہ قریش کے شخص بنوامیہ کا اوباش نوجوان یزید بن معاویہ تخت نشین ہو ا۔
اور اکسٹھ ہجری کے ابتدائی دس دنوں میں سانحہٴ کربلا پیش آیا ۔جس کا واضح مطلب یہ ہو اکہ حضور ﷺ نے یزید کی حکومت سے پناہ مانگنے کا حکم فرمایا تھا ۔اور بتا دیا تھا کہ یہی وہ شخص ہو گا جواہل ِ بیت کے خون سے ہاتھ رنگے گا۔اس لیے حضور ﷺ کے حکم کی پیروی میں حضرت ابو ہریرہ یزید کی نوخیز اور لا اوبالی حکومت اور اس کے ظلم و ستم سے بھرپور دور سے پناہ مانگا کرتے تھے۔
آپ کی دعا قبول ہوئی اور آپ  ایک سال پہلے ہی فوت ہو گئے۔
 یزید کی تخت ِ نشینی اور طلب ِ بیعت
   حضرت امیر معاویہ کی وفات کے بعد یزید نے تخت نشین ہوتے ہی اپنی بیعت کے لیے ہر طرف خطوط اور حکم نامے جاری کر دیے۔اس وقت مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عقبہ تھے۔اس کو اپنے باپ کی وفات کی اطلاع کی اور کہا کہ ہر خاص و عام سے میری بیعت لو اور حسین بن علی ، عبد اللہ بن زبیر اور عبد اللہ بن عمر سے پہلے بیعت لو اور ان سب کو ایک لمحے کی بھی مہلت نہ دو۔
کیوں کہ یہ امتِ مسلم کی ایسی بلند پایہ شخصیات ہیں کہ جن سے یزید کو اندیشہ تھا کہ کہیں ان میں سے کوئی فرد خلافت کا دعویٰ نہ کردے۔اس لیے یزید کے لیے اپنی حکومت کی مضبوطی کے لیے ضروری تھا کہ وہ ان حضرات سے بیعت لے۔لہذاٰ اس نے تخت نشین ہوتے ہی مدینہ کے گورنر ولید بن عقبہ کو اپنے باپ حضرت امیر معاویہ کی وفات کی خبر کے ساتھ ہی یہ حکم نامہ جاری کر دیا کہ حضرت امام ِ حسین حضرت عبد اللہ بن عمر  اورحضرت عبد اللہ بن زبیر  سے میرے حق میں بیعت لو۔اور جب تک وہ میری بیعت نہ کریں انہیں ہرگز مت چھوڑو ۔
(تاریخ الطبری۶: ۲۴)

*ولید کا مروان سے مشورہ*

 یزید کے اس حکم نامے کے ملنے سے ولید بہت گھبرا گیا ۔کیونکہ وہ ایک رحم دل اور خاندان ِ نبوت کی تعظیم و احترام کرنے والا گورنر تھا ۔اور یزید کے حکم کی تعمیل اس کے لیے مشکل تھی۔وہ جانتا تھا کہ ان حضرات سے یزید کے لیے بیعت لینا آسان نہیں ۔اس لیے اس نے مشورے کے لیے اپنے نائب مروان بن حاکم کو بلوا بھیجا اور ساری صورت ِ حال سے آگاہ کیا۔
مروان چونکہ سخت مزاج اور سنگ دل شخص تھا ۔ اس نے کہا کہ ان تینوں کو اسی وقت بلائیں اور بیعت کے لیے کہیں۔اگر وہ بیعت کر لیں تو بہتر ورنہ تینوں کو قتل کر دیں اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو امیر معاویہ کی موت کی خبر ہو جانے پر وہ تینوں الگ الگ مقام پر جا کر مداعی خلافت بن کھڑے ہوں گے۔

اور پھر ان پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا ۔البتہ ابن عمرجدال و قتال کو پسند نہیں کرتے۔
وہ خلافت کے طلب گار بھی نہیں ہیں ۔سوائے اس کے کہ خلافت خود بخود ان کو دی جائے۔
(ابن اثیر۴: ۱۵ ۔ البدایہ النہایہ ۸:۱۶۷)
 مروان بن حاکم وہ شخص ہے کہ جب اس کی پیدائش ہوئی اور حضور ِ اقدس ﷺ کی خدمت میں تخنیک ( کوئی چیز چبا کر نرم کر کے کھلانے) کے لیے لایا گیاتو حضور ﷺ نے فرمایا ۔ ”یہ گرگٹ کا بیٹا گرگٹ ہے“
 اور بخاری، نسائی ، ابن ِ ابی حاتم اپنی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ  نے فرمایا:
 حضور نبیِ کریم ﷺ نے مروان کے باپ حاکم پر لعنت فرمائی ، جب کہ مروان صولبِ پدر(پدر باپ کو کہتے ہیں یعنی کہ باپ میں ابھی آنے والے بچے کا نطفہ موجود تھا اور وہ ماں کے پیٹ میں بچے کے وجود میں آکر پرورش پانے کے مراحل میں بھی نہیں آیا تھا)میں تھاتو وہ بھی اللہ کی لعنت سے حصہ پانے والوں میں سے ہوا۔
وہ مروان کہ اس کو اور اس کے باپ کو حضور نبی اکرم ﷺ نے گرگٹ فرمایا اور جس کے باپ پر حضور نبی اکرم ﷺ نے نہ صرف لعنت فرمائی بلکہ اس کے باپ کو شہر بدر فرما کر طائف میں رہنے کا حکم فرمایا۔ایسے مروان سے بھلا خیر کی امید کیسے ہو سکتی تھی۔
 ولید نے حضرت امام ِ حسین  اور حضرت عبد اللہ بن زبیر کو بلانے کے لیے قاصد بھیجا۔
قاصد نے ان دونوں حضرات کو مسجد ِ نبوی ﷺ میں بیٹھا پایا۔قاصد ایسے وقت میں آپ حضرات کے پاس بلانے آیا جس وقت ولید کسی سے نہ ملتا تھا ۔قاصد نے کہا کہ آپ دونوں حضرات کو امیر نے بلایا ہے۔انہوں نے کہا کہ تم چلو ہم ابھی آتے ہیں ۔پھر حضرت ابن زبیر  نے حضرت امام حسین سے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ امیر نے ہمیں ایسے وقت میں کیوں طلب کیا ہے جس وقت وہ کسی سے ملتا بھی نہیں؟حضرت امام حسین  نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ حضرت امیر معاویہ وفات پا گئے ہیں اور ہمیں اس لیے بلایا گیا ہے کہ ان کی وفات کی خبر پھیلنے سے پہلے ہم سے یزید کے حق میں بیعت لے لی جائے۔

اس پر حضرت ابن ِ زبیر  نے کہا کہ میرا بھی یہی گمان ہے ۔ پھر انہوں نے حضرت امام حسین سے پوچھا کہ آپ کا کیا ارادہ ہے؟حضرت امام حسین  نے فرمایا کہ میں اس وقت اپنے جوانوں کو لے کر چلتا ہوں کیوں کہ انکار کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ معاملہ نازک صورت اختیار کر جائے ۔حضرت امام حسین اپنی حفاظت کا سامان لے کر ولید کے پا س پہنچے۔آپ  نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ میں اندر جاتا ہوں ، اگر میں تمہیں بلاؤں یا تم سمجھو کہ میری آواز بلند ہو رہی ہے تو فوراً اندر آ جانا ۔
اور جب تک میں باہر نہ آ جاؤں تم یہاں سے مت ہٹنا ۔
 آپ  اندر گئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے ۔اس وقت ولید کے پاس مروان بھی موجود تھا۔ ولید نے آپ  کو حضرت امیر معاویہ  کے وفات پا جانے کی خبر سنائی اور یزید کی بیعت کے لیے کہا۔ آپ  نے تعزیت کے بعد فرمایا کہ میرے جیسا آدمی اس طرح چھپ کربیعت نہیں کر سکتا اور نہ ہی میرے لیے اس طرح چھپ کر بیعت کرنا مناسب ہے۔
اگر آپ باہر نکل کر سب لوگوں سے بیعت طلب کریں تو ان کے ساتھ مجھے بھی بیعت کے لیے کہنا ۔ولید کیونکہ امن پسند آدمی تھا اسے حضرت امام حسین  کی بات پسند آئی اور اس نے کہا کہ اچھا آپ تشریف لے جائیں۔اس پر مروان نے ولید سے کہا کہ اگر اس وقت تم نے ان کو جانے دیا اور بیعت نہ لی تو تم کبھی بھی ان پر قابو نہ پا سکو گے۔ان کو قید کر لو۔ اگر یہ بیعت کر لیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان کا سر قلم کر دو۔
حضرت امام حسین یہ سن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ” ابن الزرقا! تو مجھے قتل کرے گا یا یہ کریں گے؟خدا کی قسم تو جھوٹا اور کمینہ ہے۔“یہ کہہ کر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے ۔
 آپ کے تشریف لے جانے کے بعد مروان نے ولید سے کہا ” تم نے میرا قتل کا مشورہ نہ مانا اب تم کبھی دوبارہ ان پر قابو نہ پا سکو گے“ ۔ ولید نے کہاتم پر افسوس کہ تم مجھے ایسے مشورے دے رہے ہو جس میں میرے دین کی تباہی ہے۔

کیا میں نواسئہ رسول ﷺ کو صرف اسی وجہ سے قتل کر دیتا کہ انہوں نے یزید کی بیعت نہیں کی ۔ خدائے ذوالجلال کی قسم! مجھے ساری دنیا کا مال و متاع مل جائے تو بھی میں ان کے خون سے اپنے ہاتھوں کو آلودہ ہرگز نہیں کر سکتا ۔ یہ سن کرمروان نے کہا کہ ” تم ٹھیک کہتے ہو“۔یہ بات اس نے صرف ظاہراً کہی تھی ورنہ دل میں ولید کی بات کو ناپسند کرتا تھا۔
(ابن اثیر۴ :۱۵:۱۶)
 حضرت امام حسین خوب جانتے تھے کہ آپ  کے انکار سے یزید بدبخت جان کا دشمن اور خون کا پیاسا ہو جائے گا۔
لیکن آپ کی غیرت ، تقویٰ و پرہیزگاری نے اجازت نہ دی کہ اپنی جان بچانے کی خاطر نااہل کے ہاتھ بیعت کر لیں اور نواسئہ رسولﷺ ہونے یا مسلمانوں کی تباہی کی پرواہ نہ کریں۔اگر آپ یزید کی بیعت کر لیتے تو وہ آپ کی بڑی قدر و منزلت کرتا اور دنیا کی بے شمار دولت آپ  کے قدموں میں ڈھیر کر دیتا لیکن یزید کی بد کاری کے جواز کے لیے آپ کی بیعت کرنا سند ہو جاتی اور اسلام کا نظام درہم برہم ہو جاتا ۔
اور دین میں ایسے فساد برپا ہوتے کہ جس کا دور کرنا صرف مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ۔بہر حال آپ  یزید کی بیعت کے لیے تیار نہ ہوئے۔شام کے وقت ولید نے پھرحضرت امام حسین  کے پاس آدمی بھیجا ۔آپ نے فرمایا کہ اس وقت تو میں نہیں آ سکتا صبح ہونے دیں پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ولید نے یہ بات مان لی۔

*جاری ہے*
*🌿🌿B4U🌿🌿*

معرکہ حق و باطل

*🌴🌴معرکہ حق و باطل🌴🌴*

*پیشکش*
*🍀🍀علم کا خزانہ🍀🍀*

*ترتیب*
*🌱🌱ایاز وسیر🌱🌱*

*1قسط نمبر *


*تاریخِ اسلام اور شہادتیں*
 
 تاریخِ اسلام میں بیشمار شہادتیں ہوئیں اور ہر شہادت اپنی جگہ ایک نمایاں اہمیت ، انفرادی قدر و منزلت اور مقام کی حامل ہے۔ہر شہادت میں اسلام کی بقاء ودوام، آقا ﷺ کے دین اور آپ ﷺ کی سنتِ مبارکہ کی حیات ِ جاوداں کے راز پوشیدہ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخِ اسلام میں ہر شہادت اپنی جگہ اہم شمار کی جاتی ہے لیکن شہادتِ امامِ حسین کا واقعہ کئی اعتبارسے باقی تمام شہادتوں سے مختلف اور منفرد ہے۔اس کی انفرادیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ خانوادہٴ رسول ﷺ کے چشم و چراغ تھے۔ اور ایسے چشم و چراغ کہ جنہوں نے بارگاہ ِ رسالت ﷺ کی گود میں پرورش پائی تھی۔

آپ ﷺ کے مبارک کاندھوں پر سواری کی تھی۔
آپ ﷺ کے لعابِ دہن کو اپنی غذا بنایا تھا ۔اور جنہیں نبیِ کریم ﷺ کا بیٹا ہونے کا شرف حاصل تھا۔اس لیے غربت ، پردیس اور مظلومیت کی حالت میں یزیدیوں کے ہاتھوں شہادت باقی شہادتوں پر ایک نمایاں فوقیت اور برتری رکھتی ہے۔

*خلافت ِ راشدہ کی مدت*
 
 حضور نبی ِ اکرم ﷺ نے اپنے بعد قائم ہونے والے دور ِ حکومت کی پہلے ہی نشان دہی فرما دی تھی۔
 حضرت سفینہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبیِ اکرم ﷺ نے فرمایا میری امت میں خلافت تیس برس تک رہے گی۔پھر اس کے بعد ملوکیت ہو گی۔
 حضور نبی ِ اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق خلافتِ راشدہ آپ ﷺ کے بعد تیس سال تک ہو گی۔اس کے بعد دورِ ملو کیت کا آغاز ہو گا۔
خیر و فلاح پر مبنی طرزِ حکومت بدل دیا جائے گا۔ اور امتِ مسلمہ میں سیاسی اقتدار کی جو شکل رائج پائے گی وہ ملوکیت کی صورت میں ہو گی۔ حضورِاکرم ﷺکی پیشن گوئی کے مطابق حضرت ابو بکر صدیق دو برس، تین ماہ دس دن تک تختِ خلافت پر فائزرہے ۔پھر خلیفہٴ ثانی حضرت عمر ِ فاروق نے دس برس ،چھے ماہ اورچار دن تک اس منصب کو زینت بخشی۔پھر خلیفہٴ ثالث یعنی تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی کا دور آیا۔
آپ گیارہ برس، گیارہ ماہ اوراٹھائیس دن تک خلیفہ رہے۔آپ کے بعد خلیفہٴ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ چار برس نو ماہ تک اس اعلیٰ منصب پر فائز رہے اور آپ تبلیغِ دین کے لیے جو کچھ کر سکتے تھے ،بڑی جان فشانی ، جرات و ہمت اور نہایت جوش و جذبے کے ساتھ وہ سب کچھ کیا۔آپ کی شہادت کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت امامِ حسین  نے یہ 
عہدہ سنبھالا اور تقریبا ً چھ ماہ اس منصب پر فائز رہے۔

سیدنا امامِ حسین کے دورِخلافت کے چھ ماہ شمار کر کے تیس برس تک مشتمل یہ زمانہ عہد ِخلافتِ راشدہ کہلاتا ہے۔
 حضرت علی شیرِ خدا کے اعلان ِ خلافت کے ساتھ ہی ملک شام میں حضرت امیر معاویہ نے اپنی آزاد حکومت کا اعلان کر دیا۔اور حضرت علی کی خلافت کو تسلیم نہ کیا ۔اس پر امتِ مسلمہ متفق رہی ہے کہ خلافت بہر طور حضرت علی کا حق تھا۔
آپ ہی خلیفہٴ بر حق اور خلیفہٴ راشد تھے۔حضرت امیر معاویہ  کا یہ فیصلہ آئمہ اہل ِ سنت کے ہاں اجتہادی خطا کے طور پر لیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ اجتہاد کا مطلب ہے کہ زمانے کے مطابق علمائے امت کا مل کر ایسا فیصلہ کرنا جو امت کے لیے آسانی کرے مگر وہ شرح کے خلاف نہ ہو ۔اگر وہاں ایسا فیصلہ ہو جائے جو کسی کو تو فائدہ دینے کے لیے ہو مگر وہ امت کے لیے نقصان دہ ہو۔
تو وہ اجتہاد غلط تھاکیونکہ اس کی ضرورت نہیں تھی ۔اور اس سے نقصان بھی ہونے کا خطرہ تھا۔
 علامہ تفتازانی لکھتے ہیں ” اہل ِ حق کا ایک بات پر اتفاق ہے کہ اس پورے معاملے میں حضرت علی درست تھے۔“
  حضرت امیر معاویہ کے جداگانہ اعلانِ حکومت کے بعدحضرت علی  کے ساتھ ان کی کشمکش کا آغاز ہو گیا۔
جو کہ حضرت علی کی زندگی میں جاری رہا۔جس کے نتیجے میں جنگِ جمل اور جنگِ صفین جیسے چھوٹے بڑے معرکے ہوئے اور پھر حضرت علی کی شہادت کے بعد حضرت امام حسین جب مسند خلافت پر بیٹھے تو امیر معاویہ نے ان کی خلافت کو بھی تسلیم نہ کیا۔اس طرح مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان اختلاف قائم رہا ۔اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے حضرت امام ِ حسین نے چھ ماہ میں ہی چند شرائط پر مسند ِ خلافت چھوڑ کر امیر معاویہ کو مسلمانوں کا امیر تسلیم کر لیا۔

*مرکز ِ خلافت کی کوفہ منتقلی*

 حضرت علی نے اپنے دور میں تخت ِ خلافت مدینہ منورہ سے منتقل کر کے کوفہ میں قائم کر لیا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت امیر معاویہ  کا دارالحکومت دمشق تھاجو کہ مدینہ سے بہت دور اور لمبی مسافت پر تھا۔
اس قدر دور رہ کر پوری خلافت کے انتظام و انصرام میں دشواری ہوتی تھی۔اس لیے اس دشواری اور اس علاقے میں ہونے والی مسلسل بغاوتوں پر قابو پانے کے پیش ِ نظر آپ  نے دارالحکومت کوفہ کو منتخب فرمایا۔جب حضرت علی نے اپنی خلافت کا مرکز کوفہ قرار دیا تو وہ جو خود کو شیعان ِ علی ( حضرت علی کا گروہ)کہلانے والے تھے۔ہر طرف سے سمٹ سمٹ کر حضرت علی کے قرب کے خیال سے کوفہ میں جمع ہونے لگے۔
اور کثرت کے ساتھ انہوں نے کوفہ میں سکونت اور رہائش اختیار کی۔اور اس طرح کوفہ شیعان ِ علی کا مرکز بن گیا ۔
 اس دور میں چار جماعتیں وجود میںآ ئیں جن میں سے ایک جماعت ایسی تھی جس نے کھل کر حضرت علی کی حمایت کی اور بنو امیہ اور دیگر شخصیات کی مخالفت کا اعلان کر دیا۔اس جماعت نے خود کو ’ شیعان ‘ کی جماعت قرار دیا ۔
وہ اسی سیاسی حمایت کی بنا پر آگے چل کر ”جماعت شیعان ِ علی“ قرار پائی ۔
 یاد رہے کہ جو شیعان ِ علی کا نام اس وقت معروف ہوا اس سے فقہی اور مذہبی نقطئہ نظر سے وہ شیعہ مکتب ِ فکر مراد نہیں تھا جو بعد میں باقاعدہ فقہ ( فقہٴ جعفریہ )کی تدوین و تالیف کے بعد وجود میں آیا۔بلکہ اس سے مراد حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے درمیان اختلاف کے وقت حضرت علی کی سیاسی حمایت کے طور پر پیدا ہونے والا گروہ ہے۔
 دوسرا طبقہ بنو امیہ کی حمایت پر وجود میں آیا۔پہلے پہل یہی دو گروہ آپس میں متصادم رہے۔

(بنو امیہ، قبیلہ قریش کی ایک شاخ ہے جس میں سے خاندان حضرت امیر معاویہ بھی ہے۔ ایسے ہی جیسے کہ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو ہاشم ہے جس میں سے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہے)
 تیسرا اسی دور میں ایک اور طبقہ وجود میں آیا جس نے حضرت علی  اور حضرت امیر معاویہ  دونوں کی مخالفت کی۔
اس طبقے نے ان دونوں ہستیوں کے خلاف ایک مسلح کشمکش کا آغا ز کیا۔یہ طبقہ خوارج کہلاتا ہے۔یہ خارجی نماز روزے کے پابند تھے۔نوافل ، تہجد ، کثرت ِ ذکر اور کثرت ِ تلاوت جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے۔”ان الحکمالا للہ “یعنی ”حکم صرف اللہ کا “ کانعرہ بلند کرتے تھے۔لیکن معاذاللہ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کو واجب القتل اور کافر گردانتے تھے۔
 چوتھا طبقہ کثیر صحابہ کرام اور ان کی پیروی کرنے والوں کا تھا ۔جو حضرت علی کی خلافت کو برحق جانتے تھے۔لیکن حضرت معاویہ کے بارے میں خاموش تھے

*جاری ہے*
*🌿🌿B4U🌿🌿*

محمد بن قاسم قسط 3

*فاتح سندھ* *🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱* *مصنف* *🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀* *ترتیب* *🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴* *پیشکش* *✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️* *قسط نمبر 3*   اگل...