بدھ، 5 جون، 2019

اپنے مرکز سے اگر دُور نِکل جاؤ گے اپنے مرکز سے اگر دُور نِکل جاؤ گے خواب ہوجاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے اب تو چہرے کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں کِس کو معلوم تھا تم اِتنے بدل جاؤ گے اپنے پرچم کا کہیں رنگ بُھلا مت دینا سُرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے دے رہے ہیں تمھیں جو لوگ رفاقت کا فریب اُن کی تاریخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے اپنی مٹّی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو سنگِ مرمر پہ چلو گے تو پھِسل جاؤ گے خواب گاہوں سے نِکلتے ہُوئے ڈرتے کیوں ہو دھُوپ اِتنی تو نہیں ہے، کہ پِگھل جاؤ گے تیز قدموں سے چلو، اور تصادُم سے بچو بھِیڑ میں سُست چلو گے تو کُچل جاؤ گے ہمسفر ڈھُونڈو ، نہ رہبر کا سہارا چاہو ! ٹھوکریں کھاؤ گے تو ، خود ہی سنبھل جاؤ گے تم ہو ایک زِندۂ جاوید رِوایت کے چراغ تم کوئی شام کا سُورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے صُبحِ صادِق مجھے مطلُوب ہے کِس سے مانگوں تم تو بَھولے ہو، چراغوں سے بہل جاؤ گے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

محمد بن قاسم قسط 3

*فاتح سندھ* *🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱* *مصنف* *🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀* *ترتیب* *🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴* *پیشکش* *✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️* *قسط نمبر 3*   اگل...