بدھ، 29 جولائی، 2020

محمد بن قاسم قسط 3

*فاتح سندھ*

*🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱*

*مصنف*
*🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀*

*ترتیب*
*🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴*

*پیشکش*
*✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️*

*قسط نمبر 3*
 
اگلے روز علی الصباح عبدالشمس اپنے مکان کی چھت پر نیم خوابی کی حالت میں لیٹے لیٹے اذان کی دلکش آواز سن رہا تھا۔کچھ دیر انگڑائیاں لینے کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں۔سلمی ابھی تک گہری نیند سو رہی تھی۔عبد الشمس جگا کر صبح کی ہوا خوری کے ارادے سے نیچے اتر آیا۔
ابوالحسن کے ساتھی شبنم آلود گھاس پر چادریں بچھا کر اس کے پیچھے صف بستہ کھڑے تھے۔ابوالحسن نے نہایت دلکش آواز میں سورہ فاتحہ کے بعد چند آیات تلاوت کیں۔ قرآن مجید کے الفاظ نے عبدالشمس کے دل میں تلاطم بپا کردیا۔ اس کے پڑوسی عرب بھی اس کے قریب آکھڑے ہوئے اور اپنی قوم کے نوجوانوں کے نئے طریق عبادت کو دلچسپی سے دیکھنے لگے۔رکوع و سجود کے بعد دوسری رکعت تک عبدالشمس پر ایک بے خودی سی طاری ہوچکی تھی۔اس نے آہستہ آہستہ نمازیوں کی طرف چند قدم اٹھائے قریب پہنچ کر جھجکا، رکا، اور جزبات کے ہیجان کی کسی رو کے ماتحت بھاگتا ہوا صف میں کھڑا ہوگیا۔اس کے ساتھیوں نے اس کی تقلید کی۔نماز کے اختتام پر ابوالحسن نے آٹھ کر عبد الشمس کو گلے لگا لیا۔عبدالشمس کی آنکھوں سے مسرت کے آنسو جھلک رہے تھے۔ابوالحسن اور اس کے ساتھیوں نے اسے مبارک باد دی۔
عبدالشمس نے کہا۔”آپ کی زبان میں ایک جادو تھا۔مجھے کچھ اور سنائیے!“
ابوالحسن نے کہا۔”یہ میری آواز نا تھی۔یہ خدا کا کلام تھا۔“
عبدالشمس نے کہا۔”بے شک یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔سنائیے مجھے!“
ابوالحسن نے اپنےایک ساتھی طلحہ کی طرف اشارہ کیا۔ طلحہ قرآن کا حافظ تھا۔عرب اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔طلحہ نے سورہ یسین کی تلاوت کی۔قرآن مجید کے مقدس الفاظ اور طلحہ کی دل گداز آواز سے عبدالشمس اور اس کے ساتھیوں پر رقت طاری ہوگئی۔تلاوت کے بعد ابوالحسن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور اسلام کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ عبدالشمس اور اس کے ساتھی جو ایک مدت سے عربوں کی عظمت کی داستانیں سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا اعتراف کر چکے تھے۔ابو الحسن کی تبلیغ کے بعد دین اسلام کی صداقت پر ایمان لے آئے۔کلمہ توحید پڑھنے کے بعد عبدالشمس نے اپنے لیے عبداللہ کا نام پسند کیا۔

سلمی ناریل کے ایک درخت کا سہارہ لیے کھڑی یہ تمام واقعات دیکھ رہی تھی۔وہ جھجکتی ہوئی آگے بڑھی اور اپنے باپ سے کہنے لگی۔
”ابا جان! کیا عورتیں بھی مسلمان ہوسکتی ہیں؟“
عبداللہ نے مسکراتے ہوئے ابوالحسن کی طرف دیکھا اور وہ بولا۔”خدا کی رحمت عورتوں اور مردوں کے لیے یکساں ہے۔“
سلمی نے کہا۔”تو میرا نام بھی تبدیل کردیجیے! میں بھی مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔“
ابوالحسن نے کہا۔”تمہارا یہی نام ٹھیک ہے۔تم فقط کلمہ پڑھ لو۔“
سلمی نے کلمہ پڑھا اور سب نے ہاتھ اٹھا کر اس کے لیے دعا کی۔
آسمان پر بادل چھا رہے تھے۔ اچانک موسلادھار بارش ہونے لگی اور یہ لوگ ایک کمرے میں چلے آئے۔
تھوڑی دیر بعد بارش تھیم گئی اور دلیپ سنگھ نے آکر خبر دی کہ مہاراج آپ کا انتظار کررہے ہیں۔
ابوالحسن اپنے ساتھیوں کو وہیں چھوڑ کر دلیپ سنگھ کے ساتھ ہولیا۔

[7/29, 9:02 PM] ۔: دوپہر کے وقت ابوالحسن واپس آیا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ راجہ اور بعض سرداروں نے اور بھی عربی گھوڑے خریدنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس لیے ہمارا جہاز چوتھے روز واپس روانہ ہوجائے گا۔
عنداللہ(عبدالشمس) نے انھیں کچھ دن اور ٹھہرنے کے لیے کہا لیکن ابوالحسن نے جلد واپس آنے کا وعدہ کرکے اجازت حاصل کرلی۔
عبداللہ نے کہا ”ابھی ہمیں اسلام کے متعلق بہت کچھ جاننا ہے۔اگر آپ طلحہ کو یہاں چھوڑ جائیں تو بہت اچھا ہوگا۔“
ابوالحسن نے طلحہ کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا ”اگر یہ پسند کریں تو میں انھیں بخوشی یہاں چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔“
طلحہ نے یہ دعوت خوشی سے قبول کر لی۔
اگلے دن ابوالحسن کے ساتھی جہاز کے بادبانوں کی مرمت اور خوردونوش کا ضروری سامان خریدنے کے لیے روانہ ہوچکے تھے۔ دلیپ سنگھ اور عبداللہ سے مشورہ کرنے کے بعد ابوالحسن نے اپنے تمام سرمائے سے آٹھ ہاتھی اور باقی ناریل سے جہاز بھر لیا۔
شام کے وقت ابوالحسن عبداللہ کے باغیچے میں چہل قدم کر رہا تھا کہ پیچھے سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ مڑکر دیکھا تو سلمی کھڑی تھی۔وہ چہرہ جو دودن پہلے مسرتوں کا گہوارہ تھا۔اب حزن و ملال کی تصویر بنا ہوا تھا۔وہ آنکھیں جو اندھیری رات کے ستاروں سے زیادہ دلفریب اور چمکیلی تھیں،اب پرنم تھیں۔
اس نے قدرے بےاعتنائی سے پوچھا ”سلمی تم یہاں کیا کررہی ہو۔؟“
ابوالحسن کا روکھا پن دیکھ کر ضبط کی کوشش کے باوجود اس کے آنسو چھلک پرے۔کانپتے ہوئے ہونٹوں سے درد کی گہرائیوں میں ڈوبی ہوئی آواز نکلی ”آپ پرسوں جارہے ہیں۔“
”ہاں! لیکن تمہیں کیا؟ تم رو کیوں رہی ہو؟“
”کچھ نہیں! کچھ بھی تو نہیں۔“
آنسووں سے بھیگی ہوئی مسکڑاہٹ ابوالحسن کے دل پر اثر کیے بغیر نا رہی۔اس نے کہا ”سلمی! تم ابھی تک وہی ہو۔اسلام قبول کرنے کے باوجود میں تم میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھتا۔تمہیں اب نامحرموں کے سامنے آنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ایک مسلمان لڑکی کا سب سے بڑا زیور حیا ہے۔“

آپ اب تک مجھ سے خفا ہیں؟ آپ کے کہنے پر میں لباس تبدیل کرچکی ہوں، نماز پڑھ چکی ہوں۔پرسوں سے میں نے گھر کے باہر پاوں نہیں رکھا۔کیا یہ بھی ضروری ہے کہ میں ایک مسلمان کے سامنے بھی نا آوں؟“
”ہاں! یہ بھی ضروری ہے۔میں طلحہ کو یہاں چھوڑ کے جا رہا ہوں۔وہ تمہیں ایک مسلمان عورت کے فرائض سے آگاہ کرے گا۔تمہیں اسلام کی صحیح تعلیم دے گا۔“
سلمی نے جواب دیا۔”مجھے کسی اور تعلیم کی ضرورت نہیں۔آپ جو حکم دیں گے میں مانوں گی۔آپ کے اشارے پر میں پہاڑ پر سے کودنے اور ہاتھ پاوں باندھ کر سمندر میں چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہوں۔“
ابو الحسن نے کہا۔”سلمی! اگر تمہیں میری خوشی اتنی عزیز ہے تو سنو! میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا کہ تم سر سے پاوں تک اسلام کے سانچے میں ڈھل جاو۔سچے مسلمان کی ہر نیت اور ہر فعل کو کسی انسان کی خوشی نہیں بلکہ خدا کی خوشی کا طلبگار ہونا چاہیے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد تم ایک ایسی دنیا میں قدم رکھ چکی ہو جو ایک لامتناہی جدوجہد کا گھر ہے اس میدان میں کودنے والے کو دل میں انسووں اور آہوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔مسلمان کے لیے زندگی ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ اس کی پہلو میں وہ دل ہونا چائیے جو خدا کی راہ میں زندگی کی بلند ترین خوآہشات کو بھی قربان کرنے سے نا گھبرائے۔اس کا سینہ تیروں سے چھلنی ہو لیکن زبان سے آہ تک نا نکلے۔تم عرب جاو تو شاید یہ دیکھ کر حیران ہوگی کہ مسلمان عورتیں اپنے شوہروں، بھائیوں اور بیٹوں کو جہاد پر رخصت کرتی ہیں لیکن ان کی آنکھ میں آنسو تو درکنار پیشانی پر شکن تک نہیں آتی اور یہ صرف اس لیے ہے کہ وہ خدا کی خوشی کو دنیا کی ہر خوشی پر ترجیح دیتی ہیں۔اگر تم نے مجھے خوش کرنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے تو مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑے گا کہ تم اسلام کو سمجھی نہیں۔اگر خدا کو خوش کرنا چاہتی ہو تو گھر جاومیں طلحہ کو بھیجتا ہوں، وہ آج ہی تمہیں قرآن پڑھانا شروع کردے گا۔میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میں وآپس آوں تو تم میری پیراکی کا امتحان لینے کے لیے ساحل سے ایک میل کے فاصلے پر سمندر میں میرا استقبال نا کرو اور مجھے جنگلوں اور پہاڑوں میں تمہیں تلاش نا کرنا پڑے۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوگی کہ عبدالشمس کا نام تبدیل ہونے کے بعد اس کے گھر کا نقشہ بھی بدل چکا ہے اور اس چار دیوار میں ایک مسلمان لڑکی پرورش پا رہی ہے۔“
سلمی نے پرامید ہوکر پوچھا۔ ”آپ کب آئیں گے؟“
”میں دن معین نہیں کرسکتا لیکن ارادہ یہی ہے کہ گھوڑے خریدتے ہی وہاں سے وآپس آجاوں لیکن اگر مجھے جہاد کے لیے کہیں جانا پڑا تو ممکن ہے کہ دوبارا نا آسکوں۔“
سلمی کے چہرے پر پھر ایک بار اداسی چھا گئی۔

تیسرے دن آسمان پر بادل چھا رہے تھے۔سلمی کوٹھے پر چڑھ کر حسرت بھری نگاہوں سے سمندر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ساحل سے دور ابوالحسن کا جہاز موجوں پر رقص کرتا نظر آرہا تھا۔ہوا کے چند تیز جھونکے آئے اور بارش ہونے لگی۔بارش کی تیزی کے ساتھ اس کی نگاہوں کا دائرہ محدود ہوتا گیا۔ یہاں تک کے جہاز آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ضبط کی کوشش کے باوجود اس کی آنکھوں سے آنسو جھلک پڑے اور رقصاروں پر بہتے ہوئے بارش کے قطروں کے ساتھ مل گئے۔ سلمی دیر تک ہاتھ اٹھا کر یہ دعا دہراتی رہی۔ ”میرے مولی! اسے سمندر کی سرکش لہروں سے محفوظ رکھیو!“
باغیچے میں ابوالحسن سے آخری ملاقات کے بعد سلمی کے خیالات اور عادات میں بہت بڑی تبدیلی آچکی تھی۔اسے ابوالحسن کی بےاعتنائی کا بےحدملال تھا۔تاہم اسے انسانیت کا بلند ترین معیار تصور کرتے ہوئے وہ اس بات پر ایمان لاچکی تھی کہ اس کی جو عادات ابولحسن کو ناپسند ہیں۔یقیناً برٌی ہیں۔چنانچہ اس نے دوبارا کسی کے سامنے بے حجاب ہونے کی جرات نا کی۔
جب ابوالحسن اور اس کے ساتھی بندرگاہ کی طرف روانہ ہوئے تو اس نے اپنے دل سے یہ سوال کیا۔”کیا اس کے دل میں میرے لیے کوئی جگہ ہوسکتی ہے؟“ ابوالحسن کی باتیں یاد آتیں تو اس کے دل میں کبھی یاس کی تاریکیاں مسلط ہوجاتیں اور کبھی امید کے چراغ چمک اٹھتے۔
عبداللہ کی آواز سن کر وہ نیچے اتری۔بوڑھے باپ نے سوال کیا۔”سلمی! تم بارش میں اوپر کیا کررہی تھی؟“
”کچھ نہیں اباجی!میں۔۔۔۔۔۔۔۔“ سلمی کوئی بہانہ کرنا چاہتی تھی لیکن اسے ابولحسن کی نصیحت یاد آگئی اور وہ بولی۔”میں ان کا جہاز دیکھ رہی تھی۔“
عبداللہ نے کہا۔”وہ تو دیر ہوئی جاچکے۔جاو تم کپڑے بدل آو! طلحہ ابھی آجائے گا۔ ہم اس سے قرآن مجید پڑھیں گے۔“
سلمی نے پوچھا۔”آپ انھیں کہاں چھوڑ آئے ہیں؟“
”وہ راستے میں زید کے گھر ٹھر گیا تھا۔ابھی آجائے گا۔“

چند دنوں میں طلحہ کی تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ سلمی اب اپنی ہر بات میں ابوالحسن کی خوشی کو مقدم سمجھنے کی بجائے خدا کی رضا کو مقدم سمجھنے لگی۔تاہم ہر نماز کے بعد پہلی دعا ابوالحسن کے لیے ہوتی تھی۔
چھ مہینے گزر گئے ابوالحسن کی کوئی خبر نا آئی۔سلمی کی اداسی بے چینی میں تبدیل ہونے لگی۔وہ صبح و شام مکان کی چھت پر چڑھ کر سمندر کی طرف دیکھتی۔ بندرگاہ کی طرف آنے والا ہر جہاز اسے ابوالحسن کی آمد کی اطلاع دیتا۔وہ اپنے خادم کو دن میں کئی کئی بار بدرگاہ کی طرف بھیجتی۔جب وہ مایوس نگاہوں کے ساتھ وآپس آتا تو وہ بےقرار سی ہوکر پوچھتی۔”تم نے اچھی طرح دیکھا۔ممکن ہے ان میں کوئی عرب بھی ہو؟“
خادم جواب دیتا۔”وہ فلاں جگہ سے آیا ہے۔ میں پوری چھان بین کرکے آیا ہوں۔ ان میں ایک بھی عرب نہ تھا۔“
وہ امید و بیم کے سمندر میں غوطے کھانے والے انسان کی طرح تنکے کا سہارا لیتی اور کہتی۔”تم نے ملاحوں سے پوچھا ہوتا۔ممکن ہے انھوں نے راستے میں کسی بندرگاہ پر عربوں کا جہاز دیکھا ہو یا ان کے منعلق سنا ہو؟“
خادم پھر بھاگتا ہوا بندرگاہ جاتا۔سلمی کی امنگیں پرانی امیدیں کے کھنڈروں پر نئی امیدوں کا محل کھڑا کرلیتیں۔بوڑھے نوکر کاافسردہ اور ملول چہرہ پھروہی حوصلہ شکن خبر دیتا اور سلمی کی امیدوں کا محل دھڑم سے نیچے آرہتا۔ہر صبح وہ اپنی دل میں امید کے چراغ روشن کرتی۔جب سورج سمندر کی لہروں میں چھپ جاتا تو یہ چراغ بھی بجھ جاتا۔اس کے دل کی دھڑکنیں آھوں اور سسکیوں میں تبدیل ہوجاتیں۔

*جاری ہے*
*🌴🌴B4U🌴🌴*

محمد بن قاسم قسط 2

*فاتح سندھ*

*🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱*

*مصنف*
*🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀*

*ترتیب*
*🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴*

*پیشکش*
*✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️*

*قسط نمبر 2*

ابوالحسن نے کہا”میں اس ملک کی حکومت سے اجازت لینا ضروری خیال کرتا ہوں“
لڑکی نے کہا”سراندیپ کا راجہ ایک مدت سے عربوں کے جہاز کا انتظار کررہا ہے۔جہاز کنارے تک لے چلیے؛ لیجیے راجہ کہ امیر البحر خود ہی آپہنچے۔“
دلیپ سنگھ عبدالشمس سے گہرے تعلقات کی بدولت عربی میں اچھی خاصی استعداد پیدا کرچکا تھا۔ اس نے جہاز پر چڑھتے ہی عربی زبان میں کہا ”آپ نے جہاز اتنی دور کیوں ٹھرا لیا؟“
ابوالحسن کی بجائے لڑکی نے جواب دیا۔ ”ان کا خیال تھا کہ شاید جہاز کو بندرگاہ پر لگانے سے پہلے راجہ سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔“
دلیپ سنگھ نے جواب دیا۔ ”مہاراج آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوں گے“
لڑکی نے کہا۔”میں جاتی ہوں لیکن اس بات کا خیال رہے کہ وہ سفید گھوڑا میرا ہے اور میں اس کے منہ مانگے دام دوں گی۔“ یہ کہہ کر لڑکی نے جبہ اتار کر ایک عرب کے کندھے پر پھینک دیا اور بھاگ کر سمندر میں چھلانگ لگا دی۔

عبدالشمس کو عربوں کے جہاز کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی۔اس نے شہر کے چند معززین کے ساتھ ابوالحسن اور اس کے ساتھیوں کا استقبال کیا، انھیں اپنے گھر اور ان کے گھوڑوں کو اپنے اصطبل میں جگہ دی۔آن کی آن میں پچاس گھوڑوں کے کوئی دوسو خریدار جمع ہوگئے اور تمام ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی دینے لگے۔
دلیپ سنگھ نے مشورہ دیا کہ راجہ کو دیکھائے بغیر کوئی گھوڑا فروخت نا کیا جائے، ممکن ہے وہ تمام گھوڑے خرید لیں۔عبدالشمس نے دلیپ سنگھ کی تائید کی۔ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ راجہ کا ایلچی آیا اور اس نے کہا ”مہاراج عرب تاجروں سے ملنا اور ان کے گھوڑے دیکھنا چاہتے ہیں۔“
دلیپ سنگھ نے ایلچی سے کہا ”تم جاو اور مہاراج سے کہو ہم آتے ہیں۔“ یہ کہہ کر ابوالحسن سے مخاطب ہوا۔ ”ایک گھوڑا شیخ عبدالشمس کی بیٹی نے اپنے لیے منتخب کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسے یہیں رہنے دیا جائے۔“
ابوالحسن نے کہا” اگر شیخ اپنے لیے لینا چاہتے ہیں تو مجھے عزر نہیں لیکن وہ لڑکیوں کی سواری کے قابل نہیں۔وہ بہت سرکش ہے!“
ایک طرف سے آواز آئی ”نہیں ابا جی! اس کا خیال ہے کہ ہم اس کی قیمت ادا نہیں کرسکیں گے۔“
ابوالحسن نے دیکھا۔وہی لڑکی جسے اس نے جہاز پر دیکھا تھا۔ ایک ہاتھ میں لگام اور دوسرے ہاتھ میں چابک لیے کھڑی تھی لیکن اس دفعہ اس کا لباس عرب عورتوں کاساتھا۔
ابوالحسن نے قدرے خفیف ہوکر کہا ”اگر مجھ پر اعتبار نہیں آتا تو تم خود دیکھ لو، اگر تم اسے لگام بھی دیکھ سکو تو یہی گھوڑا تمہارا انعام ہوگا!“
لڑکی تیزی سے قدم اٹھاتی ہوئی اصطبل کی طرف بڑھی، گھوڑے نے اسے دیکھتے ہی چارہ چھوڑ کر کان کھڑے کر لیے۔لڑکی نے گھوڑے کو تھپکی دی اور وہ پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوگیا۔اسے دیکھ کر دوسرے گھوڑے رسے تڑانے لگے۔

ابوالحسن نے کہا ٹھرو! اور اگے بڑھ کر گھوڑے کا رسہ کھول کر باہر لے آیا اور اسے ایک درخت کے ساتھ باندھ کر کہنے لگا ”اب آپ ہمت آزمائی کرسکتی ہیں“
لڑکی نے اچانک آگے بڑھ کر گھوڑے کا نچلا جبڑا پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے زخمی درندے کی طرح تڑپتے اچھلتے اور کودتے ہوئے جانور کے منہ میں لگام ٹھونس دی۔تماشائیوں نے حیرانی پر قابو نا پایا تھا کہ اس نے رسہ کھولا اور گھوڑے کی پیٹ پر سوار ہوگئی۔ گھوڑا چند بار سیخ پا ہونے کہ بعد چھلانگیں لگاتا ہوا مکان سے باہر نکل گیا۔
شیخ عبدالشمس نے فخریہ انداز میں کہا ”عرب کی گھوڑیوں نے ایسا گھوڑا پیدا نہیں کیا جس پر سلمی سواری نا کرسکتی ہو، مجھے افسوس ہے کہ آپ شرط ہار گئے لیکن اطمنان رکھیے! کہ آپ کو اس کی پوری قیمت ادا کی جائے گی۔“
ابوالحسن نے کہا ”یہ شرط نہ تھی، انعام تھا اور انعام کی قیمت نہیں لی جاتی۔ خوش قسمت ہے وہ گھوڑا جسے ایسا سوار مل جائے۔

راجہ دیکھنے سے پہلے ہی تمام گھوڑے خریدنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔شاہی خزانے سے جو قیمت ادا کی گئی وہ عربوں کی توقع سے کہیں زیادہ تھی۔ راجہ نے ابوالحسن سے ان کے نئے دین اور ان کی فتوحات کے متعلق کئی سوال کیے۔ دلیپ سنگھ نے ترجمانی کے فرائض سرانجام دیے۔ ابوالحسن نے تمام سوالات کے جواب دینے کے بعد دینِ اسلام کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی۔راجہ نے اسلام کی بہت سی خوبیوں کا اعتراف کرنے کے بعد ابوالحسن سے دوبارا ملاقات کا وعدہ لے کر اسے رخصت کیا۔
جب ابوالحسن اپنے میزبان کے گھر پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ سلمی ابھی تک گھر وآپس نہیں آئی اور عبدالشمس چند آدمیوں کے ہمراہ اس کی تلاش میں جا چکا ہے۔ابوالحسن نمازِ ظہر کے بعد پریشانی کی حالت میں مکان کے صحن میں ٹہل رہا تھا کہ سفید گھوڑا بے تجاشا بھاگتا ہوا اندر آیا۔گھوڑے کی لگام بھی غائب تھی۔
ابوالحسن نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر کہا ”خدا معلوم اسے کیا ہوا۔ یہ گھوڑا سرکش ضرور ہے لیکن گرے ہوئے سوار کو چھوڑ کر آنے والا نہیں اور لگام پاوں کے نیچے آکر ٹوٹ سکتی تھی، لیکن اس کا گرپڑنا ممکن نا تھا۔ میں جاتا ہوں۔“
ابوالحسن نے شیخ عبدالشمس کے خادم سے دوسری لگام منگوا کر گھوڑے کو دی اور ننگی پیٹ پر سوار ہوکر مکان سے باہر نکلا اور گھوڑے کو اس کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ گھوڑےکی رفتار ظاہر کرتی تھی کہ اس سے بہت زیادہ کام لیا جاچکا ہے۔ گھوڑا چند کوس گھنے جنگل میں سے گزرنے کے بعد ایک ٹیلے پر چڑھا اور ایک آبشار کے قریب جا کر رک گیا۔ اس سے اوپر جانے کا کوئی راستہ نا تھا۔ کچھ دیر ادھر ادھر دیکھنے کے بعد ابوالحسن گھوڑے سے نیچے اترا اور اسے ایک درخت کے ساتھ باندھ کر سلمی کو آواز دینے لگا۔دیر تک تلاش کرنے کے بعد وہ تھک کر آبشار کے قریب ایک پتھر کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ شام ہونے کو تھی۔ ابوالحسن نے عصر کی نماز ادا کی اور پھر دشوار گزار راستے سے اس مقام پر پہنچا، جہاں سے پہاڑی ندی کا پانی ایک آبشار کی شکل میں نیچے گرتا تھا۔ سلمی چند قدم کے فاصلے پر ندی کے کنارے ایک درخت کے نیچے لیٹی ہوئی تھی۔ابوالحسن کی نظر اس پر اس وقت پڑی جب ایک تین چار گز لمبا اور آدمی کی ران کے برابر موٹا اژدھا گھاس میں سے سرکتا ہوا اس کے قریب پہنچ رہا تھا۔ ابوالحسن سلمی! سلمی! کہتا ہوا بھاگا اور اس کا بازو پکڑ کر گھسیٹتا ہوا چند قدم دور لے گیا۔ سلمی نے ہلکی سی چیخ کے ساتھ آنکھیں کھولیں۔ اژدھا شکار کو جاتا ہوا دیکھ کر پھنکارتا ہوا نکلا۔ اتنی دیر میں ابوالحسن نیام سے تلوار تلوار نکال چکا تھا۔اژدھے نے اس کے بلکل قریب پہنچ کر گردن بلند کی۔ابوالحسن نے ایک طرف کود کر وار کیا، اژدھے کا سر کٹ کر علحیدہ ہوگیا۔ ابوالحسن نے ندی کے پانی سے تلوار صاف کرتے ہوئے کہا ”تم بہت بےوقوف ہو۔۔۔یہ سونے کی کون سی جگہ تھی؟؟“ 
سلمی ابھی تک دہشت زدہ ہوکر کانپ رہی تھی۔ وہ بولی ”میں تھک کر یہاں بیٹھ گئی تھی اور اونگھتے اونگھتے نا جانے کس وقت لیٹ کر سو گئی۔میں یہاں کئی بار آچکی ہوں۔لیکن ایسا اژدھا کہیں نہیں دیکھا۔ آپ پہنچ گئے ورنہ یہ اژدھا اسی طرح تڑپنے کی بجائے مجھے نگل چکا ہوتا۔ آپ یہاں کیسے؟؟؟“ 
”تم جانتی ہو میں یہاں کیسے پہنچا ہوں۔تم یہ بتاو کہ تم نے یہاں پہنچ کر گھوڑا کیوں چھوڑ دیا تھا؟“
سلمی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”میں نے کب چھوڑا۔وہ مجھے گرا کر بھاگ گیا تھا۔“ ابوالحسن نے زرا سخت لہجے میں کہا ”معلوم ہوتا ہے تمہاری تربیت بہت ناقص ماحول میں ہوئی ہے۔اس لیے تمہارے اخلاق کا معیار وہی ہونا چاہیے جو زمانہ جاہلیت کے عربوں کا تھا لیکن وہ بھی ہزار برائیوں کے باوجود مہمان سے جھوڑ بولنا ایک گھناونا فعل خیال کرتے تھے اور اس گھوڑے کو خالی واپس آتادیکھ کر مجھے یہ یقین نا آتا تھا کہ یہ تمہیں گرا کر بھاگ آیا ہے۔ اس کی تربیت میرے اصطبل میں ہوئی ہے۔ یہ سرکش اور مغرور ضرور ہے لیکن دھوکا دینا نہیں جانتا۔ سچ بتاو تم نے اپنے ہاتھوں سے اس کی لگام نہیں اتاری اور اسے ڈرا دھمکا کر وآپس نہیں بھیجا؟“

سلمی نے آنکھیں جھکاتے ہوئے جواب دیا۔ ”اگر آپ برا مانتے ہیں تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ کبھی جھوٹ نا بولوں گی۔“
”تم میں ایسی بہت سے باتیں ہیں جنھیں میں برا سمجھتا ہوں۔جنھیں ہر مسلمان برا جانے گا۔“
”آپ چاہیں تو میں ہر عادت چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔آپ کی خوشنودی میرا فرض ہے اور آپ نے تو آج میری جان بھی بچائی ہے۔“
”تمہیں مجھے خوش کرنے کی ضرورت نہیں۔میں چاہتا ہوں تمہارا خدا تم سے خوش ہو۔تمہیں صرف وہ چیز پسند کرنی چاہیے جو اسے پسند ہو اور ہر اس چیز کو ناپسند کرنا چاہیے جو اسے ناپسند ہو۔خدا کو عورتوں کا نیم عریاں لباس مردوں کے سامنے جانا پسند نہیں۔“
سلمی نے کہا۔”لباس تو میں نے آپ کے کہنے سے تبدیل کرلیا تھا۔؟
ابوالحسن نے کہا۔”لباس سے زیادہ دل کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔خیر اب باتوں کا وقت نہیں۔شام ہورہی ہے۔تمہارے والد پریشان ہوں گے۔وہ گھوڑے کے پہنچنے سے پہلے ہی تمہاری تلاش میں نکل گئے تھے۔“
چاندنی رات میں ابوالحسن اور سلمی جنگل عبور کررہے تھے۔سلمی گھوڑے پر سوار تھی۔ابوالحسن بھاگ تھامے اگے اگے چل رہا تھا۔راستے میں سلمی نے ابوالحسن کے بحری سفر، اس کی خاندان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق سوالات کیے لیکن اس کی توقع کے خلاف ابوالحسن کی بےاعتنائی بڑھتی گئی۔سلمی پریشان بھی تھی اور نادم بھی، بالآخر اس نے کہا ”آپ کو میری وجہ سے بہت تکلیف ہوئی، میں معافی چاہتی ہوں۔آپ مجھے سزا دے لیں خفا نا ہوں، یہ میرا قصور تھا اور مجھے پیدل چلنا چاہیے تھا۔میں اتر آتی ہوں۔آپ گھوڑے پر سوار ہو جائیں۔“
اس دفعہ بھی اس کی توقع کے خلاف ابوالحسن نے سردمہری سے جواب دیا۔”اگر مجھے اس بات کا خدشہ نا ہوتا کہ تم عورت ہواور کوئی درندہ تمہیں کھا جائے گا تو میں یقیناً اس وقت تمہارے ساتھ چلنا گوارا نا کرتا۔“
سلمی شکست خوردہ سی ہوکر تھوڑی دیر خاموش رہی۔پھر بولی۔”اگر وہ اژدھا مجھے نگل جاتا تو آپ کو اس بات کا افسوس ہوتا؟“
”یہ صرف تمہارے لیے ہی نہیں۔ میرے سامنے اگر وہ کسی کو بھی ہلاک کرتا تو مجھے اسی قدر افسوس ہوتا۔“
”آپ نے میرے لیے اپنی جان خطرے میں کیوں ڈالی؟“
”ایک انسان کی جان بچانا مسلمان کا فرض ہے۔“
سلمی دیر تک خاموش رہی۔دور سے چند گھوڑوں کی ٹاپ سنائی دی اور ابوالحسن نے کہا ”دیکھو! وہ ابھی تک تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔“
تھوڑی دیر بعد عبدالشمس اور اس کے ساتھی وہاں پہنچ گئے۔بیٹی کو سلامت دیکھ کر عبدالشمس نے واقعات کی تفصیل میں جانے کی ضرورت محسوس نا کی۔ سلمی کی زبانی اژدھے کا سن کر اس نے ابوالحسن کا شکریہ ادا کیا۔

*جاری ہے*
*🌴🌴B4U🌴🌴*

محمد بن قاسم قسط 1

*فاتح سندھ*

*🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱*

*مصنف*
*🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀*

*ترتیب*
*🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴*

*پیشکش*
*✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️*

*قسط نمبر 1*

*ابوالحسن*

ہندوستان کے مغربی ساحل کی اہم بندرگاہوں اور جزیرا سراندیپ(موجودہ سریلنکا یا سیلون) کے ساتھ ایک مدت سے عربوں کے تجارتی تعلقات چلے آرہے تھے۔زمانہ جاہلیت میں چند عرب تاجر سر اندیپ میں آباد ہوگئے تھے اور جب عرب میں ایک نئے دین کا چرچا ہونے لگا تو یہ دین ان عربوں کو اپنے آباواجداد کے مذہب کو ترک کرنے پر آمادہ نا کرسکا۔لیکن ایرانیوں اور رومیوں کے مقابلے میں عربوں کی شاندار فتوحات کی خبریں سن کر ان کی قومی عصبیت جاگ آٹھی تھی۔ ایران، عرب کے مقابلے میں ایک متمدن ملک سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے ہندوستان کے بازاروں میں عرب کے مقابلے میں ایران کی مصنوعات کی زیادہ قدر تھی۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے حکمران حیران کو ایک طاقتور ہمسایہ خیال کرتے تھے اور عربوں کے مقابلے میں ایرانی تاجروں کو زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔اگر شام سے کوئی قافلہ آجاتا تو روما کی قدیم سطوت سے مرعوب ہندوستانی انھیں بھی عربوں سے زیادہ مرعات دیتے۔ لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شاندار فتوحات نے عربوں کے مطلق ہمسایہ ممالک کے زاویہ نگاہ کو تبدیل کردیا۔
سراندیپ اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں آباد ہونے والے وہ ےاجر جو ابھی تک عرب کے اندرونی انقلاب سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔ کفر کے مقابلے میں اسلام کی فتوحات کو ایرانیون اور رومیوں کے مقابلے میں عرب کی فتوحات سمجھ کر پھولے نہیں سماتے تھے۔ عربوں کے نئے دین سے ان کی نفرت اب محبت میں تبدیل ہورہی تھی۔ اس زمانے میں جن لوگوں کو عرب جانے کا اتفاق ہوا وہ اسلام کی نعمتوں سے مالا مال ہو کر وآپس آئے۔
عبدالشمس عرب عرب تاجروں کا سرکردہ تھا۔ اس کا خاندان ایک مدت سے سر آندیپ میں آباد تھا۔ وہ اسی جزیرے میں پیدا ہوا اور اسی جگہ آباد ہونے والے ایک عرب خاندان کی لڑکی سے شادی کی۔ جوانی سے بڑھاپے تک اس کے بحری سفر بھی سراندیپ سے کاٹھیاوار تک محدود رہے۔اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کے عرب میں اس کے خاندان کے دوسرے افراد کون ہیں اور کس جگہ رہتے ہیں۔
دوسرے عربوں کی طرح وہ بھی مادرِ وطن کے ساتھ اس وقت دلچسپی لینے لگا جب یرموک اور قادسیہ میں مسلمانوں کی شاندار فتوحات کی خبریں دنیا کے ہر گوشے میں پہنچ چکی تھیں۔

موجودہ راجہ کے باپ کو انھی خبروں نے عرب کے ایک بےنام تاجر کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر آمادہ کیا تھا۔ اس نے عبدالشمس اور اس کے ساتھیوں کو دربار میں بلایا اور بیش قیمت تحائف دے کر رخصت کیا۔
سن ٤٥ہجری میں اپنے باپ کی وفات کے بعد نئے راجہ نے تخت نشین ہوتے ہی عبدالشمس کو اپنے پاس بلایا اور کہا ”مدت سے ہمارے ملک میں تمہارے ملک کا کوئی تاجر نہیں آیا۔ میں عرب کے تازہ حالات معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے تمہارے نئے دین کے ساتھ دلچسپی ہے اگر تم وہاں جانا پسند کرو تو میں تمہارے لیے ہر سہولت مہیا کرنے کے لیے تیار ہوں۔“
عبدالشمس نے کہا ”آپ کے منہ سے میرے دل کی دبی ہوئی آواز نکلی ہے۔ میں جانے کے لیے تیار ہوں۔“
پانچ عرب تاجروں کے سوا باقی سب عبدالشمس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوگئے۔
دس دن بعد بندرگاہ پر ایک جہاز کھڑا تھا اور عرب اپنے اپنے بال بچوں سے رخصت ہورہے تھے۔عبدالشمس کی بیوی فوت ہوچکی تھی اس نے سینے پر پتھر رکھ کر اپنی اکلوتی بیٹی کو الوداع کہا۔ اس لڑکی کا نام سلمی تھا۔ شہر میں کوئی شخص ایسا نا تھا جو اسے نسوانی حسن کا بلند ترین معیار تصور نا کرتا۔ شہ سوار اسے سرکش گھوڑوں کو دوڑاتے اوربہترین تیراک اسے خوفناک آبشاروں میں کودتے اورسمندر میں مچھلی کی طرح تیرتے دیکھ کر دم بخود رہ جاتے۔
عبدالشمس کی روانگی کے بیس دن بعد کاٹھیاوار کے تاجروں کا ایک جہاز بندرگاہ پر رکا اور عبدالشمس اور اس کے دوساتھیوں نے اتر کر یہ خبر سنائی کہ ان کا جہاز اور دوسرے ساتھی سمندر کی لہروں کا شکار ہوچکے ہیں اور اگر کاٹھیاوار کے تاجروں کا جہاز وقت پر نا پہنچتا تو وہ بھی چند ساعت اور پانی میں ہاتھ پاوں مارنے کے بعد ڈوب جاتے۔

راجہ نے اس حادثے کی خبر نہایت افسوس کے ساتھ سنی۔ سندھی تاجروں کے سردار کا نام دلیپ سنگھ تھا۔ راجہ نے اسے دربار میں بلایا اور تین عربوں کی جان بچانے کے عوض اسے تین ہاتھی انعام دے۔ راجہ کو مہربان دیکھ کر دلیپ سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے وہاں آباد ہونے کا خیال ظاہر کیا۔ راجہ نے خوشی کے ساتھ ان کی یہ درخواست منظور کی اور شاہی خزانے سے ان کے لیے مکانات تعمیر کروا دیے۔
چند سال کی وفادارانہ خدمات کے بعد دلیپ سنگھ کو راجہ کے بحری بیڑے کا افسرِ اعلی بنا دیا گیا۔

اس واقع کے تین سال بعد ابوالحسن پہلا مسلمان تھا جسے تجارت کا ارادہ اور تبلیغ کا شوق اس دور افتادہ جزیرے تک لے آیا۔
کئی ہفتوں کے سفر کے بعد ایک صبح ابوالحسن اور اس کے ساتھ جہاز پر کھڑے سراندیپ کے سرسبز ساحل کی طرف دیکھ رہے تھے۔
بندرگاہ کے قریب مرد،عورتیں اور بچے کشتیوں پر سوار ہوکر اور چند تیرتے ہوئے لوگ جہاز کے استقبال کے لیے نکلے۔ ایک کشتی پر ابوالحسن کو جزیرے کی سیہ فارم اور نیم عریاں عورتوں کے درمیان ایک احنبی صورت دیکھائی دی۔ اس کا رنگ سرخ و سفید اور شکل جزیرے کے باشندوں سے مختلف تھی۔دوسری کشتیوں سے پہلے جہاز کے قریب پہنچنے کے لیے وہ اپنی کشتی پر کھڑی دو تنو مند ملاحوں کو جو کشتی کے چپو چلا رہے تھے، ڈانٹ ڈپٹ کر رہی تھی۔
یہ کشتی تمام کشتیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جہاز کے قریب آلگی۔ لڑکی نے ابوالحسن کی طرف دیکھا اور اس نے بےباک نگاہوں کا جواب دینے کی بجائے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ابوالحسن کے ساتھیوں کو بھی عورتوں کا نیم عریاں لباس پسند نا آیا۔حسین لڑکی نے جہاز والوں کی بےاعتنائی کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے سراندیپی زبان میں کچھ کہا لیکن جہاز پر سے کوئی جواب نا آیا۔
اچانک ابوالحسن نے کسی کی چیخ پکار سن کر نیچے دیکھا۔کشتی سے آٹھ دس گز کے فاصلے پر وہی خوبصورت لڑکی پانی میں غوطے کھا رہی تھی اور کشتی والے اس کی چیخ و پکار کے باواجود سخت بے اعتنائی سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ابوالحسن نے پہلے رسی کی سیڑھی پھینکی لیکن جب اس بات کا یقین ہوگیا کہ لڑکی کے ہاتھ پاوں جواب دے رہے ہیں اور وہ سیڑھی تک نہیں پہنچ سکتی تو وہ کپڑوں سمیت سمندر میں کود پڑا لیکن لڑکی اچانک پانی میں غائب ہوگئی اور وہ پریشان ہوکر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اتنی دیر میں بہت سی کشتیاں جہاز کے گرد جمع ہوچکی تھیں اور جزیرے کے باشندے قہقہے لگا رہے تھے۔۔۔

ابوالحسن نے تین مرتبہ غوطہ لگانے کے بعد دل برداشتہ ہوکر سیڑھی کی رسی پکڑ لی اور وہ جہاز پر چڑھنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ اوپر سے اس کا ساتھی چلانے لگا۔ ”وہ ادھر ہے جہاز کی دوسری طرف۔وہ ڈوب رہی ہے شاید کسی مچھلی نے پکڑ رکھا ہے“
مقامی مردوں اور عورتوں نے پھر قہقہہ لگایا۔ابوالحسن لڑکی کے جہاز کی دوسری طرف پہنچنے کی وجہ نا سمجھ سکا۔ تشویش اور حیرانی کے ملے جلے جزبات کے ساتھ اس نے جلد ہی پھر غوطہ لگایا اور جہاز کے نیچے سے گزرتا ہوا دوسری طرف پہنچ گیا۔وہاں کوئی نا تھا۔اوپر سے اس کا وہی ساتھی شور مچا رہا تھا: ”وہ ڈوب گئی۔اسے مچھلی نگل گئی۔“
ابوالحسن مایوس ہوکر پھر دوسری طرف پہنچا۔اس دفعہ لوگوں کے قہقہوں میں اس کے ساتھی بھی شریک تھے اور ایک عرب نے کہا ”آپ آجایے وہ آپ سے بہتر تیر سکتی ہے۔“
ابوالحسن نے کھسیانا ہوکر سیڑھی پکڑ لی لیکن ابھی ایک ہی پاوں اوپر رکھا تھا کہ کسی نے اس کی ٹانگ پکڑ کرپانی میں گرا دیا۔اس نے سنبھل کر ادھر ادھر دیکھا تو لڑکی تیزی سے سیڑھی پر چڑھ رہی تھی۔
ابوالحسن جہاز پر پہنچا تو اس کے ساتھی پریشان ہوکر لڑکی کے قہقہے سن رہے تھے۔
لڑکی نے ابوالحسن کی طرف دیکھ کر عربی میں کہا ”مجھے آپ کے بھیگ جانے کا بہت افسوس ہے۔“
لڑکی کے منہ سے عربی کے الفاظ سن کر سب کی نگاہیں اس ہر جم کر رھ گئیں۔

ابوالحسن نے پوچھا ”کیا تم عرب ہو؟“
لڑکی نے ایک طرف سر جھکا کر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کے بالوں کا پانی نچوڑتے ہوئے جواب دیا”ہاں! میں عرب ہوں۔ ایک مدت سے ہم عربوں کے جہازوں کی راہ دیکھا کرتے تھے۔ میں آپ کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ آپ کیا مال لائے ہیں؟“
ایک عرب لڑکی کو اسے لباس میں دیکھنا ابوالحسن اور اس کے ساتھیوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔وہ پریشان ہوکر ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
لڑکی نے اپنے سوال کا جواب نا پاکر پھر پوچھا ”میں پوچھتی ہوں آپ کیا مال لائے ہیں؟ آپ حیران کیوں ہیں۔ کیا عرب عورتیں تیرنا نہیں جانتیں۔ آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ اچھا میں خود دیکھ لیتی ہوں۔“
ابوالحسن نے کہا ”ٹھہرو! ہم گھوڑے لائے ہیں۔ میں تمہیں خود دیکھاتا ہوں لیکن میں حیران ہوں کہ اس جزیرے کے عرب ابھی تک زمانہ جاہلیت کے عربوں سے بدتر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کیا انھیں انسانوں کا سا لباس پہننا اور مردوں سے حیا کرنا کسی نے نہیں سیکھایا؟“
لڑکی کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ اس نے جواب دیا”کیا یہ انسانوں کا لباس نہیں؟“
”نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے گھر تک اسلام کی روشنی ابھی تک نہیں آئی۔“ یہ کہہ کر ابوالحسن نے ایک جبہ اٹھایا اور لڑکی کے کندھوں پر ڈال کر کہا ”اب تم ہمارا جہاز دیکھ سکتی ہو۔“
لڑکی نے ابوالحسن کے الفاظ سے زیادہ اس کی شخصیت سے مرعوب ہوکر اپنے عریاں بازوں اور پنڈلیوں کو جبے میں چھپا لیا۔
ابوالحسن کی پونجی پچاس عرب گھوڑے تھے۔لڑکی نے یکے بعد دیگرے تمام گھوڑوں کا معائنہ کیا اور ایک گھوڑے کی پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولی ”میں یہ خریدوں گی۔ اس کی قیمت کیا ہے؟“
ابوالحسن نے کہا ”تم میں ابھی تک عربوں کی ایک خصوصیت باقی ہے۔یہی گھوڑا ان سب میں بہترین ہے لیکن تم نا اس کی قیمت ادا کرسکو گی اور نہ یہ عورتوں کی سواری کے قابل ہے۔یہ جس قدر خوبصورت اور تیز رفتار ہے اسی قدر منہ زور بھی ہے۔“
لڑکی اس کے جواب پر مسکرائی اور بولی ”خیر دیکھا جائے گا۔ آپ نے جہاز اتنی دور کیوں ٹہرا لیا؟“

*جاری ہے*
*🌴🌴B4U🌴🌴*

پیر، 20 جولائی، 2020

معرکہ حق و باطل

*🌴🌴معرکہ حق و باطل🌴🌴*

*پیشکش*
*🍀🍀علم کا خزانہ🍀🍀*

*ترتیب*
*🌱🌱ایاز وسیر🌱🌱*

*قسط نمبر 2*


*ساٹھ ہجری کے اختتام سے پناہ مانگنے کا حکم*

 حضرت امام حسین کی شہادتِ عظمیٰ کی یہ ایک منفرد خوبی ہے کہ حضور نبیٴ اکرم ﷺ نے اس کی تفصیلات بہت پہلے بتا دیں تھیں جس کی جزئیات سے اہلِ بیت واقف ہو چکے تھے اور انہیں بہ خوبی پتہ چل چکا تھا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ان حیرت انگیز اور قبل از وقت تفصیلات کو معجزانہ پیشن گوئی کے سوا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ۔
یہی وجہ ہے کہ میدان ِ صفین کی طرف جاتے ہوئے راستے میں حضرت علی  شیرِ خدا نے کربلا کے ان مقامات کی نشان دہی کر دی تھی جہاں ان حضرات کو شہید ہونا تھا ۔
 ان واقعات کا بہ نظر غور جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نبی ِ اکرم ﷺ نے دیگر تفصیلات کے ساتھ بعض خاص لوگوں کو ماہ و سا ل سے بھی آگاہ کر دیا تھا ۔

اور وہ حتمی طور پر جانتے تھے کہ یہ افسوس ناک سانحہ کب وقوع پذیر ہونے والا ہے۔
حضرت ابوہریرہ  بھی ان خاص لوگوں اور محرم راز دوستوں میں سے تھے جنہیں اچھی طرح علم تھا کہ ساٹھ ہجری کے اختتام تک سیاسی اور ملکی حالات مستحکم نہیں رہیں گے بلکہ ان میں نمایاں تبدیلیاں آ جائیں گی۔حکومت کی دیکھ بھال ایسے غیر صالح اور اوباش نوعمر لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے گی جن کے پیشِ نظر امانتِ الٰہی نہیں بلکہ تعیش ِ زندگی ہو گی۔اور وہ اقتدار کو عیش و عشرت ، شراب و کباب، بد معاشی ، آوارگی ، بد کاری اور عوام پر ظلم و ستم ڈھانے کے لیے بے دریغ استعمال کریں گے۔
حضرت ابو ہریرہ  اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ”میں ساٹھ ہجری کے اختتام اور نو عمر لوگوں کی امارت سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں “
 ان کا مطلب یہ تھا کہ ایک خوفناک دور شروع ہونے والا ہے جس میں اوباش لڑکے سلطنت و حکومت پر قابض ہوں گے جس سے امتِ مسلمہ کو ناقابلِ تلافی نقصان ہو گا۔ایسے اوباش لڑکوں کے بارے میں آپ ﷺ نے پہلے سے خبردار فرما دیا تھا :
 ” اس امت کی ہلاکت قریش کے اوباش نوجوانوں کے ہاتھوں ہو گی۔
بیشک میری امت میں جھگڑا و فساد بے وقوف اوباش نوجوانوں کے ہاتھوں برپا ہو گا۔“
 حضرت ابوہریرہ نے ایک اور روایت میں فرمایا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ:
 ” اہل ِ عرب کے لیے اس شر کی وجہ سے تباہی و بربادی ہے جو ساٹھ ہجری کے اختتام پر قریب آ چکی ہے۔“
 امانت کو مالِ غنیمت اور صدقہ و زکوٰة کو تاوان خیال کیا جائے گا۔
اور گواہی شخصی جان پہچان کی بنا پر ہو گی۔اور فیصلہ ذاتی خواہش کی بنا پر ہو گا۔
 حضرت امِ سلمہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
 ” ( میرے جگر گوشہ )حسین ابن ِ علی کو ساٹھ ہجری کے اختتام پر شہید کر دیا جائے گا۔ جب ایک اوباش نوجوان ان پر چڑھائی کرے گا۔“

حضور نبیِ اکرم ﷺ کی پیشن گوئی کے مطابق ساٹھ ہجری میں قبیلہ قریش کے شخص بنوامیہ کا اوباش نوجوان یزید بن معاویہ تخت نشین ہو ا۔
اور اکسٹھ ہجری کے ابتدائی دس دنوں میں سانحہٴ کربلا پیش آیا ۔جس کا واضح مطلب یہ ہو اکہ حضور ﷺ نے یزید کی حکومت سے پناہ مانگنے کا حکم فرمایا تھا ۔اور بتا دیا تھا کہ یہی وہ شخص ہو گا جواہل ِ بیت کے خون سے ہاتھ رنگے گا۔اس لیے حضور ﷺ کے حکم کی پیروی میں حضرت ابو ہریرہ یزید کی نوخیز اور لا اوبالی حکومت اور اس کے ظلم و ستم سے بھرپور دور سے پناہ مانگا کرتے تھے۔
آپ کی دعا قبول ہوئی اور آپ  ایک سال پہلے ہی فوت ہو گئے۔
 یزید کی تخت ِ نشینی اور طلب ِ بیعت
   حضرت امیر معاویہ کی وفات کے بعد یزید نے تخت نشین ہوتے ہی اپنی بیعت کے لیے ہر طرف خطوط اور حکم نامے جاری کر دیے۔اس وقت مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عقبہ تھے۔اس کو اپنے باپ کی وفات کی اطلاع کی اور کہا کہ ہر خاص و عام سے میری بیعت لو اور حسین بن علی ، عبد اللہ بن زبیر اور عبد اللہ بن عمر سے پہلے بیعت لو اور ان سب کو ایک لمحے کی بھی مہلت نہ دو۔
کیوں کہ یہ امتِ مسلم کی ایسی بلند پایہ شخصیات ہیں کہ جن سے یزید کو اندیشہ تھا کہ کہیں ان میں سے کوئی فرد خلافت کا دعویٰ نہ کردے۔اس لیے یزید کے لیے اپنی حکومت کی مضبوطی کے لیے ضروری تھا کہ وہ ان حضرات سے بیعت لے۔لہذاٰ اس نے تخت نشین ہوتے ہی مدینہ کے گورنر ولید بن عقبہ کو اپنے باپ حضرت امیر معاویہ کی وفات کی خبر کے ساتھ ہی یہ حکم نامہ جاری کر دیا کہ حضرت امام ِ حسین حضرت عبد اللہ بن عمر  اورحضرت عبد اللہ بن زبیر  سے میرے حق میں بیعت لو۔اور جب تک وہ میری بیعت نہ کریں انہیں ہرگز مت چھوڑو ۔
(تاریخ الطبری۶: ۲۴)

*ولید کا مروان سے مشورہ*

 یزید کے اس حکم نامے کے ملنے سے ولید بہت گھبرا گیا ۔کیونکہ وہ ایک رحم دل اور خاندان ِ نبوت کی تعظیم و احترام کرنے والا گورنر تھا ۔اور یزید کے حکم کی تعمیل اس کے لیے مشکل تھی۔وہ جانتا تھا کہ ان حضرات سے یزید کے لیے بیعت لینا آسان نہیں ۔اس لیے اس نے مشورے کے لیے اپنے نائب مروان بن حاکم کو بلوا بھیجا اور ساری صورت ِ حال سے آگاہ کیا۔
مروان چونکہ سخت مزاج اور سنگ دل شخص تھا ۔ اس نے کہا کہ ان تینوں کو اسی وقت بلائیں اور بیعت کے لیے کہیں۔اگر وہ بیعت کر لیں تو بہتر ورنہ تینوں کو قتل کر دیں اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو امیر معاویہ کی موت کی خبر ہو جانے پر وہ تینوں الگ الگ مقام پر جا کر مداعی خلافت بن کھڑے ہوں گے۔

اور پھر ان پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا ۔البتہ ابن عمرجدال و قتال کو پسند نہیں کرتے۔
وہ خلافت کے طلب گار بھی نہیں ہیں ۔سوائے اس کے کہ خلافت خود بخود ان کو دی جائے۔
(ابن اثیر۴: ۱۵ ۔ البدایہ النہایہ ۸:۱۶۷)
 مروان بن حاکم وہ شخص ہے کہ جب اس کی پیدائش ہوئی اور حضور ِ اقدس ﷺ کی خدمت میں تخنیک ( کوئی چیز چبا کر نرم کر کے کھلانے) کے لیے لایا گیاتو حضور ﷺ نے فرمایا ۔ ”یہ گرگٹ کا بیٹا گرگٹ ہے“
 اور بخاری، نسائی ، ابن ِ ابی حاتم اپنی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ  نے فرمایا:
 حضور نبیِ کریم ﷺ نے مروان کے باپ حاکم پر لعنت فرمائی ، جب کہ مروان صولبِ پدر(پدر باپ کو کہتے ہیں یعنی کہ باپ میں ابھی آنے والے بچے کا نطفہ موجود تھا اور وہ ماں کے پیٹ میں بچے کے وجود میں آکر پرورش پانے کے مراحل میں بھی نہیں آیا تھا)میں تھاتو وہ بھی اللہ کی لعنت سے حصہ پانے والوں میں سے ہوا۔
وہ مروان کہ اس کو اور اس کے باپ کو حضور نبی اکرم ﷺ نے گرگٹ فرمایا اور جس کے باپ پر حضور نبی اکرم ﷺ نے نہ صرف لعنت فرمائی بلکہ اس کے باپ کو شہر بدر فرما کر طائف میں رہنے کا حکم فرمایا۔ایسے مروان سے بھلا خیر کی امید کیسے ہو سکتی تھی۔
 ولید نے حضرت امام ِ حسین  اور حضرت عبد اللہ بن زبیر کو بلانے کے لیے قاصد بھیجا۔
قاصد نے ان دونوں حضرات کو مسجد ِ نبوی ﷺ میں بیٹھا پایا۔قاصد ایسے وقت میں آپ حضرات کے پاس بلانے آیا جس وقت ولید کسی سے نہ ملتا تھا ۔قاصد نے کہا کہ آپ دونوں حضرات کو امیر نے بلایا ہے۔انہوں نے کہا کہ تم چلو ہم ابھی آتے ہیں ۔پھر حضرت ابن زبیر  نے حضرت امام حسین سے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ امیر نے ہمیں ایسے وقت میں کیوں طلب کیا ہے جس وقت وہ کسی سے ملتا بھی نہیں؟حضرت امام حسین  نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ حضرت امیر معاویہ وفات پا گئے ہیں اور ہمیں اس لیے بلایا گیا ہے کہ ان کی وفات کی خبر پھیلنے سے پہلے ہم سے یزید کے حق میں بیعت لے لی جائے۔

اس پر حضرت ابن ِ زبیر  نے کہا کہ میرا بھی یہی گمان ہے ۔ پھر انہوں نے حضرت امام حسین سے پوچھا کہ آپ کا کیا ارادہ ہے؟حضرت امام حسین  نے فرمایا کہ میں اس وقت اپنے جوانوں کو لے کر چلتا ہوں کیوں کہ انکار کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ معاملہ نازک صورت اختیار کر جائے ۔حضرت امام حسین اپنی حفاظت کا سامان لے کر ولید کے پا س پہنچے۔آپ  نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ میں اندر جاتا ہوں ، اگر میں تمہیں بلاؤں یا تم سمجھو کہ میری آواز بلند ہو رہی ہے تو فوراً اندر آ جانا ۔
اور جب تک میں باہر نہ آ جاؤں تم یہاں سے مت ہٹنا ۔
 آپ  اندر گئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے ۔اس وقت ولید کے پاس مروان بھی موجود تھا۔ ولید نے آپ  کو حضرت امیر معاویہ  کے وفات پا جانے کی خبر سنائی اور یزید کی بیعت کے لیے کہا۔ آپ  نے تعزیت کے بعد فرمایا کہ میرے جیسا آدمی اس طرح چھپ کربیعت نہیں کر سکتا اور نہ ہی میرے لیے اس طرح چھپ کر بیعت کرنا مناسب ہے۔
اگر آپ باہر نکل کر سب لوگوں سے بیعت طلب کریں تو ان کے ساتھ مجھے بھی بیعت کے لیے کہنا ۔ولید کیونکہ امن پسند آدمی تھا اسے حضرت امام حسین  کی بات پسند آئی اور اس نے کہا کہ اچھا آپ تشریف لے جائیں۔اس پر مروان نے ولید سے کہا کہ اگر اس وقت تم نے ان کو جانے دیا اور بیعت نہ لی تو تم کبھی بھی ان پر قابو نہ پا سکو گے۔ان کو قید کر لو۔ اگر یہ بیعت کر لیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان کا سر قلم کر دو۔
حضرت امام حسین یہ سن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ” ابن الزرقا! تو مجھے قتل کرے گا یا یہ کریں گے؟خدا کی قسم تو جھوٹا اور کمینہ ہے۔“یہ کہہ کر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے ۔
 آپ کے تشریف لے جانے کے بعد مروان نے ولید سے کہا ” تم نے میرا قتل کا مشورہ نہ مانا اب تم کبھی دوبارہ ان پر قابو نہ پا سکو گے“ ۔ ولید نے کہاتم پر افسوس کہ تم مجھے ایسے مشورے دے رہے ہو جس میں میرے دین کی تباہی ہے۔

کیا میں نواسئہ رسول ﷺ کو صرف اسی وجہ سے قتل کر دیتا کہ انہوں نے یزید کی بیعت نہیں کی ۔ خدائے ذوالجلال کی قسم! مجھے ساری دنیا کا مال و متاع مل جائے تو بھی میں ان کے خون سے اپنے ہاتھوں کو آلودہ ہرگز نہیں کر سکتا ۔ یہ سن کرمروان نے کہا کہ ” تم ٹھیک کہتے ہو“۔یہ بات اس نے صرف ظاہراً کہی تھی ورنہ دل میں ولید کی بات کو ناپسند کرتا تھا۔
(ابن اثیر۴ :۱۵:۱۶)
 حضرت امام حسین خوب جانتے تھے کہ آپ  کے انکار سے یزید بدبخت جان کا دشمن اور خون کا پیاسا ہو جائے گا۔
لیکن آپ کی غیرت ، تقویٰ و پرہیزگاری نے اجازت نہ دی کہ اپنی جان بچانے کی خاطر نااہل کے ہاتھ بیعت کر لیں اور نواسئہ رسولﷺ ہونے یا مسلمانوں کی تباہی کی پرواہ نہ کریں۔اگر آپ یزید کی بیعت کر لیتے تو وہ آپ کی بڑی قدر و منزلت کرتا اور دنیا کی بے شمار دولت آپ  کے قدموں میں ڈھیر کر دیتا لیکن یزید کی بد کاری کے جواز کے لیے آپ کی بیعت کرنا سند ہو جاتی اور اسلام کا نظام درہم برہم ہو جاتا ۔
اور دین میں ایسے فساد برپا ہوتے کہ جس کا دور کرنا صرف مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ۔بہر حال آپ  یزید کی بیعت کے لیے تیار نہ ہوئے۔شام کے وقت ولید نے پھرحضرت امام حسین  کے پاس آدمی بھیجا ۔آپ نے فرمایا کہ اس وقت تو میں نہیں آ سکتا صبح ہونے دیں پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ولید نے یہ بات مان لی۔

*جاری ہے*
*🌿🌿B4U🌿🌿*

معرکہ حق و باطل

*🌴🌴معرکہ حق و باطل🌴🌴*

*پیشکش*
*🍀🍀علم کا خزانہ🍀🍀*

*ترتیب*
*🌱🌱ایاز وسیر🌱🌱*

*1قسط نمبر *


*تاریخِ اسلام اور شہادتیں*
 
 تاریخِ اسلام میں بیشمار شہادتیں ہوئیں اور ہر شہادت اپنی جگہ ایک نمایاں اہمیت ، انفرادی قدر و منزلت اور مقام کی حامل ہے۔ہر شہادت میں اسلام کی بقاء ودوام، آقا ﷺ کے دین اور آپ ﷺ کی سنتِ مبارکہ کی حیات ِ جاوداں کے راز پوشیدہ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخِ اسلام میں ہر شہادت اپنی جگہ اہم شمار کی جاتی ہے لیکن شہادتِ امامِ حسین کا واقعہ کئی اعتبارسے باقی تمام شہادتوں سے مختلف اور منفرد ہے۔اس کی انفرادیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ خانوادہٴ رسول ﷺ کے چشم و چراغ تھے۔ اور ایسے چشم و چراغ کہ جنہوں نے بارگاہ ِ رسالت ﷺ کی گود میں پرورش پائی تھی۔

آپ ﷺ کے مبارک کاندھوں پر سواری کی تھی۔
آپ ﷺ کے لعابِ دہن کو اپنی غذا بنایا تھا ۔اور جنہیں نبیِ کریم ﷺ کا بیٹا ہونے کا شرف حاصل تھا۔اس لیے غربت ، پردیس اور مظلومیت کی حالت میں یزیدیوں کے ہاتھوں شہادت باقی شہادتوں پر ایک نمایاں فوقیت اور برتری رکھتی ہے۔

*خلافت ِ راشدہ کی مدت*
 
 حضور نبی ِ اکرم ﷺ نے اپنے بعد قائم ہونے والے دور ِ حکومت کی پہلے ہی نشان دہی فرما دی تھی۔
 حضرت سفینہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبیِ اکرم ﷺ نے فرمایا میری امت میں خلافت تیس برس تک رہے گی۔پھر اس کے بعد ملوکیت ہو گی۔
 حضور نبی ِ اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق خلافتِ راشدہ آپ ﷺ کے بعد تیس سال تک ہو گی۔اس کے بعد دورِ ملو کیت کا آغاز ہو گا۔
خیر و فلاح پر مبنی طرزِ حکومت بدل دیا جائے گا۔ اور امتِ مسلمہ میں سیاسی اقتدار کی جو شکل رائج پائے گی وہ ملوکیت کی صورت میں ہو گی۔ حضورِاکرم ﷺکی پیشن گوئی کے مطابق حضرت ابو بکر صدیق دو برس، تین ماہ دس دن تک تختِ خلافت پر فائزرہے ۔پھر خلیفہٴ ثانی حضرت عمر ِ فاروق نے دس برس ،چھے ماہ اورچار دن تک اس منصب کو زینت بخشی۔پھر خلیفہٴ ثالث یعنی تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی کا دور آیا۔
آپ گیارہ برس، گیارہ ماہ اوراٹھائیس دن تک خلیفہ رہے۔آپ کے بعد خلیفہٴ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ چار برس نو ماہ تک اس اعلیٰ منصب پر فائز رہے اور آپ تبلیغِ دین کے لیے جو کچھ کر سکتے تھے ،بڑی جان فشانی ، جرات و ہمت اور نہایت جوش و جذبے کے ساتھ وہ سب کچھ کیا۔آپ کی شہادت کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت امامِ حسین  نے یہ 
عہدہ سنبھالا اور تقریبا ً چھ ماہ اس منصب پر فائز رہے۔

سیدنا امامِ حسین کے دورِخلافت کے چھ ماہ شمار کر کے تیس برس تک مشتمل یہ زمانہ عہد ِخلافتِ راشدہ کہلاتا ہے۔
 حضرت علی شیرِ خدا کے اعلان ِ خلافت کے ساتھ ہی ملک شام میں حضرت امیر معاویہ نے اپنی آزاد حکومت کا اعلان کر دیا۔اور حضرت علی کی خلافت کو تسلیم نہ کیا ۔اس پر امتِ مسلمہ متفق رہی ہے کہ خلافت بہر طور حضرت علی کا حق تھا۔
آپ ہی خلیفہٴ بر حق اور خلیفہٴ راشد تھے۔حضرت امیر معاویہ  کا یہ فیصلہ آئمہ اہل ِ سنت کے ہاں اجتہادی خطا کے طور پر لیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ اجتہاد کا مطلب ہے کہ زمانے کے مطابق علمائے امت کا مل کر ایسا فیصلہ کرنا جو امت کے لیے آسانی کرے مگر وہ شرح کے خلاف نہ ہو ۔اگر وہاں ایسا فیصلہ ہو جائے جو کسی کو تو فائدہ دینے کے لیے ہو مگر وہ امت کے لیے نقصان دہ ہو۔
تو وہ اجتہاد غلط تھاکیونکہ اس کی ضرورت نہیں تھی ۔اور اس سے نقصان بھی ہونے کا خطرہ تھا۔
 علامہ تفتازانی لکھتے ہیں ” اہل ِ حق کا ایک بات پر اتفاق ہے کہ اس پورے معاملے میں حضرت علی درست تھے۔“
  حضرت امیر معاویہ کے جداگانہ اعلانِ حکومت کے بعدحضرت علی  کے ساتھ ان کی کشمکش کا آغاز ہو گیا۔
جو کہ حضرت علی کی زندگی میں جاری رہا۔جس کے نتیجے میں جنگِ جمل اور جنگِ صفین جیسے چھوٹے بڑے معرکے ہوئے اور پھر حضرت علی کی شہادت کے بعد حضرت امام حسین جب مسند خلافت پر بیٹھے تو امیر معاویہ نے ان کی خلافت کو بھی تسلیم نہ کیا۔اس طرح مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان اختلاف قائم رہا ۔اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے حضرت امام ِ حسین نے چھ ماہ میں ہی چند شرائط پر مسند ِ خلافت چھوڑ کر امیر معاویہ کو مسلمانوں کا امیر تسلیم کر لیا۔

*مرکز ِ خلافت کی کوفہ منتقلی*

 حضرت علی نے اپنے دور میں تخت ِ خلافت مدینہ منورہ سے منتقل کر کے کوفہ میں قائم کر لیا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت امیر معاویہ  کا دارالحکومت دمشق تھاجو کہ مدینہ سے بہت دور اور لمبی مسافت پر تھا۔
اس قدر دور رہ کر پوری خلافت کے انتظام و انصرام میں دشواری ہوتی تھی۔اس لیے اس دشواری اور اس علاقے میں ہونے والی مسلسل بغاوتوں پر قابو پانے کے پیش ِ نظر آپ  نے دارالحکومت کوفہ کو منتخب فرمایا۔جب حضرت علی نے اپنی خلافت کا مرکز کوفہ قرار دیا تو وہ جو خود کو شیعان ِ علی ( حضرت علی کا گروہ)کہلانے والے تھے۔ہر طرف سے سمٹ سمٹ کر حضرت علی کے قرب کے خیال سے کوفہ میں جمع ہونے لگے۔
اور کثرت کے ساتھ انہوں نے کوفہ میں سکونت اور رہائش اختیار کی۔اور اس طرح کوفہ شیعان ِ علی کا مرکز بن گیا ۔
 اس دور میں چار جماعتیں وجود میںآ ئیں جن میں سے ایک جماعت ایسی تھی جس نے کھل کر حضرت علی کی حمایت کی اور بنو امیہ اور دیگر شخصیات کی مخالفت کا اعلان کر دیا۔اس جماعت نے خود کو ’ شیعان ‘ کی جماعت قرار دیا ۔
وہ اسی سیاسی حمایت کی بنا پر آگے چل کر ”جماعت شیعان ِ علی“ قرار پائی ۔
 یاد رہے کہ جو شیعان ِ علی کا نام اس وقت معروف ہوا اس سے فقہی اور مذہبی نقطئہ نظر سے وہ شیعہ مکتب ِ فکر مراد نہیں تھا جو بعد میں باقاعدہ فقہ ( فقہٴ جعفریہ )کی تدوین و تالیف کے بعد وجود میں آیا۔بلکہ اس سے مراد حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے درمیان اختلاف کے وقت حضرت علی کی سیاسی حمایت کے طور پر پیدا ہونے والا گروہ ہے۔
 دوسرا طبقہ بنو امیہ کی حمایت پر وجود میں آیا۔پہلے پہل یہی دو گروہ آپس میں متصادم رہے۔

(بنو امیہ، قبیلہ قریش کی ایک شاخ ہے جس میں سے خاندان حضرت امیر معاویہ بھی ہے۔ ایسے ہی جیسے کہ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو ہاشم ہے جس میں سے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہے)
 تیسرا اسی دور میں ایک اور طبقہ وجود میں آیا جس نے حضرت علی  اور حضرت امیر معاویہ  دونوں کی مخالفت کی۔
اس طبقے نے ان دونوں ہستیوں کے خلاف ایک مسلح کشمکش کا آغا ز کیا۔یہ طبقہ خوارج کہلاتا ہے۔یہ خارجی نماز روزے کے پابند تھے۔نوافل ، تہجد ، کثرت ِ ذکر اور کثرت ِ تلاوت جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے۔”ان الحکمالا للہ “یعنی ”حکم صرف اللہ کا “ کانعرہ بلند کرتے تھے۔لیکن معاذاللہ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کو واجب القتل اور کافر گردانتے تھے۔
 چوتھا طبقہ کثیر صحابہ کرام اور ان کی پیروی کرنے والوں کا تھا ۔جو حضرت علی کی خلافت کو برحق جانتے تھے۔لیکن حضرت معاویہ کے بارے میں خاموش تھے

*جاری ہے*
*🌿🌿B4U🌿🌿*

منگول آندھی، جس سے بغداد آج تک سنبھل نہیں پایا



*مرتب*
*🌱🌱ایاز وسیر🌱🌱*

*پیشکش*
*🌴🌴علم کا خزانہ🌴🌴*


منگول افواج نے پچھلے 13 دن سے بغداد کو گھیرے میں لے 
رکھا تھا۔ جب مزاحمت کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں تو دس فروری سنہ 1258 کو فصیل کے دروازے کھل گئے۔ 37 ویں عباسی خلیفہ مستعصم باللہ اپنے وزرا اور امرا کے ہمراہ مرکزی دروازے سے برآمد ہوئے اور ہلاکو خان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
ہلاکو نے وہی کیا جو اس کے دادا چنگیز خان پچھلی نصف صدی سے کرتے چلے آئے تھے۔ اس نے خلیفہ کے علاوہ تمام اشرافیہ کو وہیں تلوار کے گھاٹ اتار دیا اور منگول دستے ام البلاد بغداد میں داخل ہو گئے۔
اس کے اگلے چند دن تک جو ہوا اس کا کچھ اندازہ مورخ عبداللہ وصاف شیرازی کے الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے:
'وہ شہر میں بھوکے گدھوں کی طرح پھِر گئے، اس طرح جیسے غضبناک بھیڑیے بھیڑوں پر ہِلہ بول دیتے ہیں۔ بستر اور تکیے چاقوؤں سے پھاڑ دیے گئے۔ حرم کی عورتیں گلیوں میں گھسیٹی گئیں اور ان میں سے ہر ایک تاتاریوں کا کھلونا بن کر رہ گئی۔'

دریائے دجلہ کے دونوں کناروں پر آباد بغداد، الف لیلہ کی شہرزاد کا شہر، خلیفہ ہارون الرشید اور مامون کے قائم کردہ دارالترجمہ کا شہر تھا۔ یہ وہ شہر تھا جہاں مترجموں کو کتابیں تول کر سونا بطور معاوضہ دیا جاتا تھا۔ یہ دلکشا مسجدوں، وسیع کتب خانوں، عالیشان محلات، سرسبز باغات، لبالب بازاروں، علم افروز مدرسوں اور پرتعیش حماموں کا شہر تھا۔
اس بات کا درست تخمینہ لگانا مشکل ہے کہ کتنے لوگ اس قتلِ عام کا شکار ہوئے۔ مورخین کا اندازہ ہے کہ دو لاکھ سے لے کر دس لاکھ لوگ تلوار، تیر یا بھالے کے گھاٹ اتار دیے گئے۔
تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ بغداد کی گلیاں لاشوں سے اٹی پڑی تھیں۔ چند دن کے اندر اندر ان سے اٹھنے والے تعفن کی وجہ سے ہلاکو خان کو شہر سے باہر خیمہ لگانے پر مجبور ہونا پڑا۔
اسی دوران جب عظیم الشان شاہی محل کو آگ لگائی گئی تو اس میں استعمال ہونے والے آبنوس اور صندل کی قیمتی لکڑی کی خوشبو آس پاس کے علاقے کی فضاؤں میں پھیلی بدبو میں مدغم ہو گئی ہو گی۔

کچھ اسی طرح کا ادغام دجلہ میں بھی دیکھنے میں آیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس اساطیری دریا کا مٹیالا پانی پہلے چند دن سرخ بہتا رہا اور پھر سیاہ پڑ گیا۔ سرخی کی وجہ وہ خون تھا جو گلیوں سے بہہ بہہ کر دریا میں شامل ہوتا رہا اور سیاہی اس وجہ سے کہ شہر کے سینکڑوں کتب خانوں میں محفوظ نادر نسخے دریا میں پھینک دیے گئے تھے اور ان کی سیاہی نے گھل گھل کر دریا کی سرخی کو ماند کر دیا۔
فارسی کے عظیم شاعر شیخ سعدی خاصا عرصہ بغداد میں رہے تھے اور انھوں نے یہیں کے مدرسۂ نظامیہ میں تعلیم حاصل کی تھی۔ چنانچہ انھوں نے سقوطِ بغداد کا یادگار نوحہ لکھا جس کا ایک ایک شعر دل کو دہلا دیتا ہے۔
ہلاکو خان نے 29 جنوری سنہ 1257 کو بغداد کے محاصرے کا آغاز کیا تھا۔ حملے سے پہلے اس نے خلیفہ معتصم کو لکھا:
'لوہے کے سوئے کو مکہ مارنے کی کوشش نہ کرو۔ سورج کو بجھی ہوئی موم بتی سمجھنے کی غلطی نہ کرو۔ بغداد کی دیواریں فوراً گرا دو۔ اس کی خندقیں پاٹ دو، حکومت چھوڑ دو اور ہمارے پاس آ جاؤ۔ اگر ہم نے بغداد پر چڑھائی کی تو تمھیں گہری ترین پاتال میں پناہ ملے گی نہ بلند ترین آسمان میں۔'
37 ویں عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کی وہ شان و شوکت تو نہیں تھی جو ان کے عظیم الشان اجداد کے حصے میں آئی تھی، لیکن پھر بھی مسلم دنیا کے بیشتر حصے پر ان کا سکہ چلتا تھا اور خلیفہ کو زعم تھا کہ اس پر حملے کی خبر سن کر مراکش سے لے کر ایران تک کے سبھی مسلمان ان کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں گے۔
چنانچہ خلیفہ نے ہلاکو کو جواب میں لکھا: 'نوجوان، دس دن کی خوش قسمتی سے تم خود کو کائنات کا مالک سمجھنے لگے ہو۔ جان لو کہ مشرق تا مغرب خدا کے ماننے والے اہلِ ایمان میری رعایا ہیں۔ سلامتی سے لوٹ جاؤ۔'
ہلاکو خان کو اپنے منگول سپاہیوں کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد تھا۔ وہ پچھلے چار عشروں کے دوران اپنے آبائی وطن منگولیا سے نکل کر چار ہزار میل دور تک آ پہنچے تھے اور اس دوران معلوم دنیا کے بڑے حصے کو اپنا مطیع بنا چکے تھے۔
بغداد پر حملے کی تیاریوں کے دوران نہ صرف ہلاکو خان کے بھائی منگوقآن نے تازہ دم دستے بھجوائے تھے بلکہ آرمینیا اور جارجیا سے خاصی تعداد میں مسیحی فوجی بھی آن ملے تھے جو مسلمانوں سے صلیبی جنگوں میں یورپ کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے بےتاب تھے۔
یہی نہیں، منگول فوج تکنیکی لحاظ سے بھی کہیں زیادہ برتر اور جدید ٹیکنالوجی سے بہرہ ور تھی۔ منگول فوج میں چینی انجنیئروں کا یونٹ تھا جو منجنیقوں کی تیاری اور باردو کے استعمال میں مہارت رکھتا تھا۔ بغداد کے شہری آتش گیر مادے نفتا سے واقف تھے، جسے تیروں سے باندھ کر پھینکا جاتا تھا، لیکن بارود سے ان کا کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا۔

اس زمانے کا بارود آہستگی سے جلتا تھا، منگولوں نے اس میں یہ جدت پیدا کی اسے لوہے یا پکائی گئی مٹی کی ٹیوبوں میں رکھ دیتے تھے جس سے وہ دھماکے سے پھٹ جاتا تھا۔ اس کے علاوہ منگولوں نے دھویں کے بم بنانے میں بھی مہارت حاصل کر لی تھی۔
ان کی منجنیقوں نے شہر پر آتشی بارش برسانا شروع کر دی۔ یہی نہیں، منگولوں نے فصیل کے نیچے باردو لگا کر اسے بھی جگہ جگہ سے توڑنا شروع کر دیا۔
بغداد کے باسیوں نے یہ آفت اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ابھی محاصرے کو ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ خلیفہ نے ہلاکو خان کو بھاری تاوان ادا کرنے اور اپنی سلطنت میں جمعے کے خطبے میں اس کا نام پڑھنے کی شرط پر صلح کی پیشکش کی، لیکن ہلاکو کو فتح سامنے نظر آ رہی تھی، اس نے یہ پیشکش فوراً ہی ٹھکرا دی۔
آخر دس فروری کا دن آیا جب خلیفہ نے شہر کے دروازے منگولوں کے لیے کھول دیے۔
منگول مذہب میں کسی بادشاہ کا زمین پر خون بہانا بدشگونی سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے ہلاکو شروع میں خلیفہ کو یہ باور کرواتا رہا جیسے وہ بغداد میں اس کا مہمان بن کر آیا ہے۔
خلیفہ کی ہلاکت کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں تاہم زیادہ قرینِ قیاس ہلاکو کے وزیر نصیر الدین طوسی کا بیان ہے جو اس موقعے پر موجود تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ کو چند دن بھوکا رکھنے کے بعد ان کے سامنے ایک ڈھکا ہوا خوان لایا گیا۔ بھوکے خلیفہ نے بے تابی سے ڈھکن اٹھایا تو دیکھا کہ برتن ہیرے جواہرات سے بھرا ہوا ہے۔ ہلاکو نے کہا، 'کھاؤ۔'
مستعصم باللہ نے کہا: 'ہیرے کیسے کھاؤں؟' ہلاکو نے جواب دیا: 'اگر تم ان ہیروں سے اپنے سپاہیوں کے لیے تلواریں اور تیر بنا لیتے تو میں دریا عبور نہ کر پاتا۔'
عباسی خلیفہ نے جواب دیا: 'خدا کی یہی مرضی تھی۔'
ہلاکو نے کہا: 'اچھا، تو اب میں جو تمھارے ساتھ کرنے جا رہا ہوں وہ بھی خدا کی مرضی ہے۔' اس نے خلیفہ کو نمدوں میں لپیٹ کر اس کے اوپر گھوڑے دوڑا دیے تاکہ زمین پر خون نہ بہے۔

بغداد کی بنیاد مستعصم باللہ کے جد ابوجعفر بن المنصور نے سنہ 762 میں بغداد نامی ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب رکھی تھی۔ صرف چند عشروں کے اندر اندر یہ بستی دنیا کی تاریخ کے عظیم ترین شہروں میں شامل ہو گئی۔ ہندوستان سے لے کر مصر تک کے علما، فضلا، شاعر، فلسفی، سائنس دان اور مفکر یہاں پہنچنے لگے۔ اسی زمانے میں مسلمانوں نے چینیوں سے کاغذ بنانے کا طریقہ سیکھ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر علمی سرگرمیوں سے معمور ہو گیا۔ نویں صدی میں بغداد کا ہر شہری پڑھ لکھ سکتا تھا۔

تاریخ دان ٹرٹیئس چینڈلر کی تحقیق کے مطابق سنہ 775 سے لے کر سنہ 932 تک آبادی کے لحاظ سے بغداد دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ اس کے علاوہ اسے دس لاکھ کی آبادی تک پہنچنے والے دنیا کا پہلا شہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
دارالترجمہ بیت الحکمہ میں یونانی، لاطینی، سنسکرت، سریانی اور دوسری زبانوں سے کتابیں ترجمہ ہونے لگیں۔ یہی کتابیں صدیوں بعد یورپ پہنچیں اور انھوں نے یورپ کی نشاۃ الثانیہ میں اہم کردار ادا کیا۔ الجبرا، ایلگوردم، الکیمی، زینتھ، الکوحل وغیرہ جیسے درجنوں الفاظ بغداد کے اسی سنہرے دور کی دین ہیں۔
بغداد میں بسنے والی چند مشہور ہستیوں کے نام بھی دیکھ لیجیے: جابر بن حیان (جدید کیمسٹری کا بانی)، الخوارزمی (الجبرا کا بانی)، الکندی اور الرازی (مشہور فلسفی)، الغزالی (مشہور مفکر)، ابونواس (عظیم عربی شاعر)، شیخ سعدی،(عظیم فارسی شاعر)، زریاب (مشہور موسیقار)، طبری (مشہور تاریخ دان)، امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام ابو یوسف (مذہبی رہنما)۔

بغداد پر چلنے والی اس ناگہانی منگول آندھی نے میسوپوٹیمیا کی ہزاروں سالہ تہذیب کی قدم ایسے اکھاڑے کہ وہ آج تک سنبھل نہیں پائی۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بعد سے آج تک کوئی مسلم شہر بغداد کی شان و شوکت کے عشرِ عشیر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔
بعض ماہرین نے لکھا ہے کہ مغربی تہذیب صرف اسی وجہ سے پھل پھول سکی کہ منگولوں نے اس وقت کی برتر مسلم تہذیب کو تباہ کر کے مغرب کے لیے راستہ ہموار کر دیا تھا۔
۔
تاریخ دان ٹرٹیئس چینڈلر کی تحقیق کے مطابق سنہ 775 سے لے کر سنہ 932 تک آبادی کے لحاظ سے بغداد دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ اس کے علاوہ اسے دس لاکھ کی آبادی تک پہنچنے والے دنیا کا پہلا شہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
دارالترجمہ بیت الحکمہ میں یونانی، لاطینی، سنسکرت، سریانی اور دوسری زبانوں سے کتابیں ترجمہ ہونے لگیں۔ یہی کتابیں صدیوں بعد یورپ پہنچیں اور انھوں نے یورپ کی نشاۃ الثانیہ میں اہم کردار ادا کیا۔ الجبرا، ایلگوردم، الکیمی، زینتھ، الکوحل وغیرہ جیسے درجنوں الفاظ بغداد کے اسی سنہرے دور کی دین ہیں۔
بغداد میں بسنے والی چند مشہور ہستیوں کے نام بھی دیکھ لیجیے: جابر بن حیان (جدید کیمسٹری کا بانی)، الخوارزمی (الجبرا کا بانی)، الکندی اور الرازی (مشہور فلسفی)، الغزالی (مشہور مفکر)، ابونواس (عظیم عربی شاعر)، شیخ سعدی،(عظیم فارسی شاعر)، زریاب (مشہور موسیقار)، طبری (مشہور تاریخ دان)، امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام ابو یوسف (مذہبی رہنما)۔

بغداد پر چلنے والی اس ناگہانی منگول آندھی نے میسوپوٹیمیا کی ہزاروں سالہ تہذیب کی قدم ایسے اکھاڑے کہ وہ آج تک سنبھل نہیں پائی۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بعد سے آج تک کوئی مسلم شہر بغداد کی شان و شوکت کے عشرِ عشیر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔
بعض ماہرین نے لکھا ہے کہ مغربی تہذیب صرف اسی وجہ سے پھل پھول سکی کہ منگولوں نے اس وقت کی برتر مسلم تہذیب کو تباہ کر کے مغرب کے لیے راستہ ہموار کر دیا تھا۔
۔تاریخ دان ٹرٹیئس چینڈلر کی تحقیق کے مطابق سنہ 775 سے لے کر سنہ 932 تک آبادی کے لحاظ سے بغداد دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ اس کے علاوہ اسے دس لاکھ کی آبادی تک پہنچنے والے دنیا کا پہلا شہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
دارالترجمہ بیت الحکمہ میں یونانی، لاطینی، سنسکرت، سریانی اور دوسری زبانوں سے کتابیں ترجمہ ہونے لگیں۔ یہی کتابیں صدیوں بعد یورپ پہنچیں اور انھوں نے یورپ کی نشاۃ الثانیہ میں اہم کردار ادا کیا۔ الجبرا، ایلگوردم، الکیمی، زینتھ، الکوحل وغیرہ جیسے درجنوں الفاظ بغداد کے اسی سنہرے دور کی دین ہیں۔
بغداد میں بسنے والی چند مشہور ہستیوں کے نام بھی دیکھ لیجیے: جابر بن حیان (جدید کیمسٹری کا بانی)، الخوارزمی (الجبرا کا بانی)، الکندی اور الرازی (مشہور فلسفی)، الغزالی (مشہور مفکر)، ابونواس (عظیم عربی شاعر)، شیخ سعدی،(عظیم فارسی شاعر)، زریاب (مشہور موسیقار)، طبری (مشہور تاریخ دان)، امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام ابو یوسف (مذہبی رہنما)۔

بغداد پر چلنے والی اس ناگہانی منگول آندھی نے میسوپوٹیمیا کی ہزاروں سالہ تہذیب کی قدم ایسے اکھاڑے کہ وہ آج تک سنبھل نہیں پائی۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بعد سے آج تک کوئی مسلم شہر بغداد کی شان و شوکت کے عشرِ عشیر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔
بعض ماہرین نے لکھا ہے کہ مغربی تہذیب صرف اسی وجہ سے پھل پھول سکی کہ منگولوں نے اس وقت کی برتر مسلم تہذیب کو تباہ کر کے مغرب کے لیے راستہ ہموار کر دیا تھا۔
۔

*🌱🌱B4U🌱🌱*

کتنا رنگیلا تھا محمد شاہ رنگیلا؟

کتنا رنگیلا تھا محمد شاہ رنگیلا؟

*مرتب*
*🍀🍀ایاز وسیر🍀🍀*

*پیشکش*
*☘️☘️علم کا خزانہ☘️☘️*

12 مئی 1739 کی شام۔ دہلی میں زبردست چہل پہل، شاہجہان آباد میں چراغاں اور لال قلعے میں جشن کا سماں ہے۔ غریبوں میں شربت، پان اور کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے، فقیروں، گداؤں کو جھولی بھر بھر کر روپے عطا ہو رہے ہیں۔
آج دربار میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ کے سامنے مغلیہ سلطنت کے 13ویں تاجدار محمد شاہ بیٹھے ہیں، لیکن اس وقت ان کے سر پر شاہی تاج نہیں ہے، کیوں نادر شاہ نے ڈھائی ماہ قبل ان سے سلطنت چھین لی تھی۔ 56 دن دہلی میں رہنے کے بعد اب نادر شاہ کے واپس ایران لوٹنے کا وقت آ گیا ہے اور وہ ہندوستان کی باگ ڈور دوبارہ سے محمد شاہ کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔
نادر شاہ نے صدیوں سے جمع کردہ مغل خزانے میں جھاڑو پھیر دی ہے اور شہر کے تمام امرا و روسا کی جیبیں الٹا لی ہیں، لیکن اسے دہلی کی ایک طوائف نور بائی نے، جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا، خفیہ طور پر بتا دیا ہے کہ یہ سب کچھ جو تم نے حاصل کیا ہے، وہ ایسی چیز کے آگے ہیچ ہے جسے محمد شاہ نے اپنی پگڑی میں چھپا رکھا ہے۔
نادر شاہ گھاگ سیاستدان اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے ہوئے تھا۔ اس موقعے پر وہ چال چلی جسے نہلے پہ دہلا کہا جاتا ہے۔ اس نے محمد شاہ سے کہا، 'ایران میں رسم چلی آتی ہے کہ بھائی خوشی کے موقعے پر آپس میں پگڑیاں بدل دیتے ہیں، آج سے ہم بھائی بھائی بن گئے ہیں، تو کیوں نہ اسی رسم کا اعادہ کیا جائے؟'
محمد شاہ کے پاس سر جھکانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ نادر شاہ نے اپنی پگڑی اتار کر اس کے سر رکھی، اور اس کی پگڑی اپنے سر، اور یوں دنیا کا مشہور ترین ہیرا کوہِ نور ہندوستان سے نکل کر ایران پہنچ گیا۔
رنگیلا بادشاہ
اس ہیرے کے مالک محمد شاہ اپنے پڑدادا اورنگزیب عالمگیر کے دورِ حکومت میں 1702 میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا پیدائشی نام تو روشن اختر تھا، تاہم 29 ستمبر 1719 کو بادشاہ گر سید برادران نے انھیں صرف 17 برس کی عمر میں سلطنتِ تیموریہ کے تخت پر بٹھانے کے بعد ابوالفتح نصیر الدین روشن اختر محمد شاہ کا خطاب دیا۔ خود ان کا تخلص 'سدا رنگیلا' تھا۔ اتنا لمبا نام کون یاد رکھتا، چنانچہ عوام نے دونوں کو ملا کر محمد شاہ رنگیلا کر دیا اور وہ آج تک ہندوستان کے طول و عرض میں اسی نام سے جانے اور مانے جاتے ہیں۔

محمد شاہ کی پیدائش کے وقت اورنگزیب عالمگیر نے ہندوستان میں ایک خاص قسم کا کٹر اسلام نافذ کر رکھا تھا اس کا سب سے پہلا نشانہ وہ فنونِ لطیفہ بنے جن کے بارے میں تصور تھا کہ وہ اسلامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
اس کی ایک دلچسپ مثال اطالوی سیاح نکولو منوچی نے لکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اورنگزیبی دور میں جب موسیقی پر پابندی لگی تو گویوں اور موسیقاروں کی روٹی روزی بند ہو گئی۔ آخر تنگ آ کر ایک ہزار فنکاروں نے جمعے کے دن دہلی کی جامع مسجد سے ایک جلوس نکالا اور آلاتِ موسیقی کو جنازوں کی شکل میں لے کر روتے پیٹتے گزرنے لگے۔ اورنگزیب نے دیکھا تو حیرت زدہ ہو کر پچھوایا، 'یہ کس کا جنازہ لیے جا رہے ہو جس کی خاطر اس قدر آہ و بکا کیا جا رہا ہے؟' انھوں نے کہا: 'آپ نے موسیقی قتل کر دی ہے اسے دفنانے جا رہے ہیں۔'
اورنگزیب نے جواب دیا، 'قبر ذرا گہری کھودنا!'
طبیعیات کا اصول ہے کہ ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے۔ یہی اصول تاریخ اور انسانی معاشرت پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ جس چیز کو جتنی سختی سے دبایا جائے، وہ اتنی ہی قوت سے ابھر کر سامنے آتی ہے۔ چنانچہ اورنگزیب کے بعد بھی یہی کچھ ہوا اور محمد شاہ کے دور میں وہ تمام فنون پوری آب و تاب سے سامنے آ گئے جو اس سے پہلے دب گئے تھے۔
دو انتہائیں
اس کی سب سے دلچسپ گواہی 'مرقعِ دہلی' سے ملتی ہے۔ یہ ایک کتاب ہے جسے محمد شاہ کے درباری درگاہ قلی خاں نے لکھا تھا اور اس میں انھوں نے لفظوں سے وہ تصویریں کھینچی ہیں کہ اس زمانے کی جیتی جاگتی سانس لیتی دہلی آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔
اس کتاب کے مطالعے سے ایک عجیب بات سامنے آتی ہے کہ صرف بادشاہ ہی نہیں، اہلِ دہلی کی زندگی دو انتہاؤں کے درمیان پینڈولم کی طرح سفر کرتی تھی۔ ایک طرف تو وہ عیش و عشرت سے لبریز زندگی بسر کرتے تھے، جب اکتا جاتے تو سیدھے اولیا کے آستانوں کا رخ کرتے تھے۔ جب وہاں سے دل بھر جاتا تو دوبارہ زندگی کی رنگینیوں میں پناہ لیتے تھے۔

مرقعِ دہلی میں آنحضور کے قدم شریف، قدم گاہ حضرت علی، نظام الدین اولیا کا مقبرہ، قطب صاحب کی درگاہ اور درجنوں دوسرے مقامات کا ذکر کیا ہے جہاں عقیدت مندوں کی بھیڑ رہتی ہے۔ کتاب میں لکھا ہے کہ یہاں 'اولیائے کرام کی اتنی قبریں ہیں کہ ان پر بہشت بھی رشک کرتی ہے۔' ایک طرف یہاں گیارہویں شریف 'ساری دہلی میں بڑی دھوم دھام سے ہوتی ہے، جھاڑ فانوس سجائے جاتے ہیں اور سماع کی پرکیف محفلیں ہوتی ہیں۔
دوسری جانب اسی دوران موسیقی کو بھی خوب فروغ حاصل ہوا۔ درگاہ نے ایسے کئی موسیقاروں کا ذکر کیا ہے جو شاہی دربار سے وابستہ تھے۔ ان میں ادا رنگ اور سدا رنگ سب سے نمایاں ہیں جنھوں نے خیال طرزِ گائیکی کو نیا آہنگ عطا کیا جو آج بھی مقبول ہے۔
بقول مرقع سدا رنگ 'جیسے ہی اپنے ناخن کے مضراب سے ساز کے تار چھیڑتا ہے دلوں سے بےاختیار ہوک نکلتی ہے اور جیسے ہی اس کے گلے سے آواز نکلتی ہے، لگتا ہے بدن سے جان نکل گئی۔'
اسی دور کی ایک بندش آج بھی گائی جاتی ہے: 'محمد شاہ رنگیلے سجنا تم بن کاری بدریا، نت نہ سہاوے۔'
محمد شاہ رنگیلے سجنا، تمھارے بنا کالے بادل دل کو نہیں بھاتے۔
انھی پر موقوف نہیں، درگاہ قلی نے درجنوں قوالوں، ڈھولک نوازوں، پکھاوجیوں، دھمدھی نوازوں، سبوچہ نوازوں، نقالوں، حتیٰ کہ بھانڈوں تک کا ذکر کیا ہے جو شاہی دربار سے وابستہ تھے۔
ہاتھیوں کا ٹریفک جام
اس عالم میں رقص کیوں پیچھے رہتا؟ نور بائی کا پہلے ذکر آ چکا ہے۔ اس کے بالاخانے کے آگے امرا و روسا کے ہاتھیوں کا وہ ہجوم ہوتا تھا کہ ٹریفک جام ہو جاتا۔ بقول مرقعِ دہلی:
'جس کسی کو اس کی محفل کا چسکا لگا اس کا گھر برباد ہوا اور جس دماغ میں اس کی دوستی کا نشہ سمایا وہ بگولے کی طرح چکر کاٹتا رہا۔ ایک دنیا نے اپنی پونجی کھپا دی اور ان گنت لوگوں نے اس کافر کی خاطر سارا سرمایہ لٹا دیا۔'
نور بائی نے نے نادر شاہ سے بھی تعلقات قائم کر لیے تھے اور ممکنہ طور پر ایسی ہی کسی خلوت کی محفل میں اس نے کوہِ نور کا راز نادر شاہ پر کھول دیا۔ یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ یہ واقعہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے مورخ تھیو مٹکاف نے کوہِ نور کے بارے میں کتاب میں رقم کیا ہے، تاہم بعض مورخین اس کی صحت پر شکوک و شبہات ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ اس قدر مشہور ہے کہ ہندوستان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن گیا ہے۔

درگاہ قلی خاں ایک اور طوائف اد بیگم کا حیرت انگیز احوال کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
'اد بیگم: دہلی کی مشہور بیگم ہیں جو پائجامہ نہیں پہنتیں، بلکہ اپنے بدن کے نچلے حصے پر پائجامہ کی طرح گل بوٹے بنا لیتی ہیں۔ بعینہ ایسے گل بوٹے بناتی ہیں جو رومی کمخواب کے تھان میں ہوتے ہیں اس طرح وہ امرا کی محفلوں میں جاتی ہیں اور کمال یہ ہے کہ پائجامہ اور اس نقاشی میں کوئی امتیاز نہیں کر پاتا۔ جب تک اس راز سے پردہ نہ اٹھے کوئی ان کی کاریگری کو نہیں بھانپ سکتا۔'
یہ میر تقی میر کی جوانی کا زمانہ تھا۔ کیا عجب کہ یہ شعر انھوں نے اد بیگم ہی سے متاثر ہو کر کہا ہو:
جی پھٹ گیا ہے رشک سے چسپاں لباس کے
کیا تنگ جامہ لپٹا ہے اس کے بدن کے ساتھ
اس دوران محمد شاہ کے شب و روز کا معمول یہ تھا: صبح کے وقت جھروکۂ درشن میں جا کر بٹیروں یا ہاتھیوں کے لڑائیوں سے دل بہلانا۔ اس دوران کبھی کوئی فریادی آ گیا تو اس کی بپتا بھی سن لینا۔ سہ پہر کے وقت بازی گروں، نٹوں، نقالوں اور بھانڈوں کے فن سے حظ اٹھانا، شامیں رقص و موسیقی سے اور راتیں۔۔۔
بادشاہ کو ایک اور شوق بھی تھا۔ وہ اکثر زنانہ لباس پہننا پسند کرتے تھے اور ریشمی پشواز زیبِ تن فرما کر دربار میں تشریف لاتے تھے، اس وقت ان کے پاؤں میں موتیوں جڑے جوتے ہوا کرتے تھے۔ البتہ کتابوں میں لکھا ہے کہ نادر شاہ کے حملے کے بعد وہ زیادہ تر سفید لباس پر اکتفا کرنے لگے تھے۔
مغل فنِ مصوری جو اورنگزیب کے دور میں مرجھا گیا تھا، اب پوری آب و تاب سے کھل کر سامنے آیا۔ اس دور کے نمایاں مصوروں میں ندھا مل اور چترمن کے نام شامل ہیں جن کی تصاویر مغلیہ مصوری کے سنہرے دور کے فن پاروں کے مقابلے پر رکھی جا سکتی ہیں۔
شاہجہان کے بعد پہلی بار دہلی میں مغل مصوری کا دبستان دوبارہ جاری ہوا ۔ اس طرز کی نمایاں خصوصیات میں ہلکے رنگوں کا استعمال اہم ہے۔ ا س کے علاوہ پہلے دور کی مغلیہ تصاویر میں پورا فریم کھچاکھچ بھر دیا جاتا تھا، محمد شاہی عہد کے دوران منظر میں سادگی پیدا کرنے اور خالی جگہیں رکھنے کا رجحان پیدا ہوا جہاں نظر ادھر ادھر گھوم پھر سکے۔
اسی دور کی ایک مشہور تصویر وہ ہے جس میں خود محمد شاہ رنگیلا کو ایک کنیز سے دادِ عیش دیتے دکھایا گیا ہے۔ کہا جاتا تھا کہ دہلی میں افواہ پھیل گئی تھی کہ بادشاہ نامرد ہے، جسے زائل کرنے کے لیے اس تصویر کا سہارا لیا گیا جسے آج لوگ 'پورن آرٹ' کے زمرے میں رکھیں گے۔

سونے کی چڑیا
ایسے میں کاروبار حکومت کیسے چلتا اور کون چلاتا؟ اودھ، بنگال اور دکن جیسے زرخیز اور مالدار صوبوں کے نواب عملاً اپنے اپنے علاقوں کے بادشاہ بن بیٹھے۔ ادھر جنوب میں مرہٹوں نے دامن کھینچنا شروع کر دیا اور سلطنتِ تیموریہ کے بخیے ادھڑنا شروع ہو گئے لیکن سلطنت کے لیے سب سے بڑا خطرہ مغرب سے نادر شاہ کی شکل میں شامتِ اعمال کی طرح نمودار ہوا اور سب کچھ تار تار کر گیا۔
نادر شاہ نے ہندوستان پر حملہ کیوں کیا؟ شفیق الرحمٰن نے اپنی شاہکار تحریر 'تزکِ نادری' میں اس کی کئی وجوہات بیان کی ہیں، مثلاۙ 'ہندوستان کے گویے 'نادرنا دھیم دھیم' کر کے ہمارا مذاق اڑاتے ہیں،' یا پھر یہ کہ 'ہم تو حملہ کرنے نہیں بلکہ اپنی پھوپھی جان سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔' مزاح اپنی جگہ، اصل سبب صرف دو تھے۔
اول: ہندوستان فوجی لحاظ سے کمزور تھا۔ دوم: مال و دولت سے لبریز تھا۔
انحطاط کے باوجود اب بھی کابل سے لے کر بنگال تک مغل شہنشاہ کا سکہ چلتا تھا اور اس کا دارالحکومت دہلی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا جس کی 20 لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی لندن اور پیرس کی مشترکہ آبادی سے زیادہ تھی، اور اس کا شمار دنیا کے امیر ترین شہروں میں کیا جا سکتا تھا۔
چنانچہ نادر شاہ 1739 کے اوائل میں فاتحینِ ہند کی مشہور گزرگاہ درۂ خیبر عبور کر کے ہندوستان میں داخل ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ محمد شاہ کو جب بھی بتایا جاتا کہ نادر شاہ کی فوجیں آگے بڑھ رہی ہیں تو وہ یہی کہتا: 'ہنوز دلی دور است،' یعنی، ابھی دلی بہت دور ہے، ابھی سے فکر کی کیا بات ہے۔
جب نادر شاہ دلی سے سو میل دور پہنچ گیا تو طوعاً و کرہاً مغل شہنشاہ کو زندگی میں پہلی بار اپنی فوجوں کی قیادت خود کرنا پڑی۔ یہاں بھی کروفر کا یہ عالم کہ اس کے لشکر کی کل تعداد لاکھوں میں تھی، تاہم اس کا بڑا حصہ باورچیوں، ماشکیوں، قلیوں، خدمت گاروں، خزانچیوں اور دوسرے سویلین عملے پر مشتمل تھا، جب کہ لڑاکا فوجی ایک لاکھ سے کچھ ہی اوپر تھے۔
اس کے مقابلے پر ایرانی فوجی صرف 55 ہزار تھے، لیکن کہاں جنگوں کے پالے نادر شاہی لڑاکا دستے، اور کہاں لہو و لعب میں دھت مغل سپاہی۔ کرنال کے میدان میں صرف تین گھنٹے میں فیصلہ ہو گیا اور نادر شاہ محمد شاہ کو قیدی بنا کر دہلی کے فاتح کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوا۔

*قتلِ عام*

اگلے دن عید الضحیٰ تھی۔ دہلی کی مسجدوں میں نادر شاہ کے نام کا خطبہ پڑھا گیا اور ٹکسالوں میں اس کے نام سکے ڈھالے جانے لگے۔ ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ شہر میں افواہ پھیل گئی کہ ایک طوائف نے نادر شاہ کو قتل کر دیا ہے۔ دہلی کے باسیوں نے اس سے شہ پا کر شہر میں تعینات ایرانی فوجیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کے صفحات پر کچھ یوں رقم ہے:
'سورج کی کرنیں ابھی ابھی مشرقی افق سے نمودار ہوئی تھیں کہ نادر شاہ درانی اپنے گھوڑے پر سوار لال قلعے سے نکل آیا۔ اس کا بدن زرہ بکتر سے ڈھکا ہوا، سر پر آہنی خود اور کمر پر شمشیر بندھی ہوئی تھی اور کماندار اور جرنیل ہمراہ تھے۔ اس کا رخ نصف میل دور چاندنی چوک میں واقع روشن الدولہ مسجد کی جانب تھا۔ مسجد کے بلند صحن میں کھڑے ہو کر اس نے تلوار نیام سے نکال لی۔'
یہ اس کی سپاہ کے لیے اشارہ تھا۔ صبح کے نو بجے قتلِ عام شروع ہوا۔ قزلباش سپاہیوں نے گھر گھر جا کر جو ملا اسے تہِ تیغ کرنا شروع کر دیا۔ اتنا خون بہا کہ نالیوں کے اوپر سے بہنے لگا، لاہوری دروازہ، فیض بازار، کابلی دروازہ، اجمیری دروازہ، حوض قاضی اور جوہری بازار کے گنجان علاقے لاشوں سے اٹ گئے، ہزاروں عورتوں کو ریپ کیا گیا، سینکڑوں نے کنوؤں میں گر کر خودکشی کو ترجیح دی۔ کئی لوگوں نے خود اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو قتل کر دیا کہ وہ ایرانی سپاہیوں کے ہتھے نہ چڑھیں۔
اکثر تاریخی حوالوں کے مطابق اس دن 30 ہزار دہلی والے تلوار کے گھاٹ اترے۔ آخر محمد شاہ نے اپنے وزیرِ اعظم نظامِ المک کو نادر شاہ کے پاس بھیجا۔ روایت ہے کہ نظام الملک ننگے پاؤں، ننگے سر نادر شاہ کے سامنے حاضر ہوا اور امیر خسرو سے منسوب یہ شعر پڑھا:
دگر نمانده کسی تا به تیغ ناز کشی ... مگر که زنده کنی مرده را و باز کشی
(اور کوئی نہیں بچا جسے تو اپنی تیغِ ناز سے قتل کرے ۔۔۔ سوائے اس کے کہ مردوں کو زندہ کرے اور دوبارہ قتل کرے)
اس پر کہیں جا کر نادر شاہ نے تلوار دوبارہ نیام میں ڈالی، اور اس کے سپاہیوں نے ہاتھ روکا۔
قتلِ عام بند ہوا تو لوٹ مار کا بازار کھل گیا۔ شہر کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور فوج کی ڈیوٹی لگا دی گئی کہ وہ وہاں سے جس قدر ہو سکے، مال و زر اکٹھا کریں۔ جس شخص نے اپنی دولت چھپانے کی کوشش کی، اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
جب شہر کی صفائی ہو گئی تو نادر شاہ نے شاہی محل کی جانب توجہ کی۔ اس کی تفصیل نادر شاہ کے درباری تاریخ نویس مرزا مہدی استرآبادی نے کچھ یوں بیان کی ہے:
'چند دنوں کے اندر اندر عمال کو شاہی خزانہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہاں موتیوں اور مونگوں کے سمندر تھے، ہیرے، جواہرات، سونے چاندی کی کانیں تھیں، جو انھوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی تھیں۔ ہمارے دہلی میں قیام کے دوران شاہی خزانے سے کروڑوں روپے نادر شاہ کے خزانے میں منتقل کیے گئے۔ دربار کے امرا، نوابوں اور راجاؤں نے مزید کئی کروڑ سونے اور جواہرات کی شکل میں بطور تاوان دیے۔'
ایک مہینے تک سینکڑوں مزدور سونے چاندی کے زیورات، برتنوں اور دوسرے ساز و سامان کو پگھلا کر اینٹیں ڈھالتے رہے تاکہ انھیں ایران ڈھونے میں آسانی ہو۔
شفیق الرحمٰن 'تزکِ نادری' میں اس عمل کی قہقہہ بار تفصیل بیان کی ہے: 'ہم نے ازراہِ مروت محمد شاہ کو اجازت دے دی کہ اگر اس کی نظر میں کوئی ایسی شے ہو جس کو ہم بطور تحفہ لے جا سکتے ہوں اور غلطی سے یاد نہ رہی ہو تو بیشک ساتھ باندھ دے۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور بار بار کہتے تھے کہ ہمارے بغیر لال قلعہ خالی خالی سا لگے گا۔ یہ حقیقت تھی کہ لال قلعہ ہمیں بھی کافی خالی خالی لگ رہا تھا۔'
نادر شاہ نے کل کتنی دولت لوٹی؟ تاریخ دانوں کے ایک تخمینے کے مطابق اس کی مالیت اس وقت کے 70 کروڑ روپے تھی جو آج کے حساب سے 156 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یعنی پاکستان کے تین بجٹوں کے برابر!یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی مسلح ڈکیتی تھی۔

کثرتِ شراب نوشی اور افیم کی لت نے محمد شاہ کو اپنی سلطنت ہی کی طرح اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا
اردو شاعری کا سنہرا دور
مغلوں کی درباری اور سرکاری زبان فارسی تھی، لیکن جیسے جیسے دربار کی گرفت عوامی زندگی پر ڈھیلی پڑتی گئی، عوام کی زبان یعنی اردو ابھر کر اوپر آنے لگی۔ بالکل ایسے ہی جیسے برگد کی شاخیں کاٹ دی جائیں تو اس کے نیچے دوسرے پودوں کو پھلنے پھولنے کا موقع مل جاتا ہے۔ چنانچہ محمد شاہ رنگیلا کے دور کو اردو شاعری کا سنہرا دور کہا جا سکتا ہے۔
اس دور کی ابتدا خود محمد شاہ کے تخت پر بیٹھتے ہی ہو گئی تھی جب بادشاہ کے سالِ جلوس یعنی 1719 میں ہی ولی دکنی کا دیوان دکن سے دہلی پہنچا۔ اس دیوان نے دہلی کے ٹھہرے ہوئے ادبی جھیل میں زبردست تلاطم پیدا کر دیا اور یہاں کے لوگوں پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ اردو (جسے اس زمانے میں ریختہ، ہندی یا دکنی کہا جاتا تھا) میں یوں بھی شاعری ہو سکتی ہے۔
دیکھتے ہی دیکھتے اردو شاعروں کی پنیری تیار ہو گئی، جن میں شاکر ناجی، نجم الدین آبرو، شرف الدین مضمون اور شاہ حاتم وغیرہ کے نام اہم ہیں۔
انھی شاہ حاتم کے شاگرد مرزا رفیع سودا ہیں، جن سے بہتر قصیدہ نگار اردو آج تک پیدا نہیں کر سکی۔ سودا ہی کے ہم عصر میر تقی میر کی غزل کا مثیل آج تک نہیں ملا۔ اسی دور کی دہلی میں ایک طرف میر درد کی خانقاہ ہے، وہی میر در جنھیں آج بھی اردو کا سب سے بڑا صوفی شاعر مانا جاتا ہے۔ اسی عہد میں میر حسن پروان چڑھے جن کی مثنوی 'سحرالبیان' آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔

یہی نہیں بلکہ اس دوران پنپنے والے 'دوسرے درجے' کے شاعروں میں بھی ایسے نام شامل ہیں جو اس زمانے میں دھندلا گئے لیکن کسی دوسرے دور میں ہوتے تو چاند بن کر چمکتے۔ ان میں میر سوز، قائم چاند پوری، مرزا تاباں، اور میر ضاحک وغیرہ شامل ہیں۔
صرف دو مغل حکمران اکبر اور اورنگزیب ہی ایسے گزرے ہیں جنھوں نے محمد شاہ سے زیادہ عرصہ حکومت کی
انجام
کثرتِ شراب نوشی اور افیم کی لت نے محمد شاہ کو اپنی سلطنت ہی کی طرح اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ اسی لیے ان کی عمر مختصر ہی ثابت ہوئی۔ ابھی سِن 46 ہی کو پہنچا تھا کہ ایک دن اچانک غشی کا دورہ پڑا۔ طبیبوں نے ہر نسخہ آزما لیا۔ انھیں اٹھا کر حیات بخش باغ منتقل کر دیا گیا، لیکن یہ باغ بھی بادشاہ کی حیات کی گھڑیاں کچھ زیادہ طویل نہیں کر سکا اور وہ ساری رات بےہوش رہنے کے بعد اگلے دن چل بسے۔
انھیں نظام الدین اولیا کے مزار میں امیر خسرو کے پہلو بہ پہلو دفن کیا گیا۔ شاید اس کے پیچھے یہ خیال کارفرما ہو کہ جس طرح امیر خسرو کے شعر نے دہلی میں قتلِ عام رکوایا تھا، اسی طرح شاید ان کی صحبت میں بادشاہ کو آخری زندگی میں بھی کچھ مدد فراہم ہو سکے۔
یہ اپریل کی 15 تاریخ تھی اور سال تھا 1748۔ ایک لحاظ سے یہ محمد شاہ کے لیے اچھا ہی ہوا کیوں کہ اسی سال نادر شاہ ہی کے ایک جرنیل احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان پر حملوں کی ابتدا کر دی تھی۔ظاہر ہے کہ بابر، اکبر یا اورنگ زیب کے برعکس محمد شاہ کوئی فوجی جرنیل نہیں تھا، اور نادر شاہ کے خلاف کرنال کے علاوہ اس نے کسی جنگ کی قیادت نہیں کی۔ نہ ہی ان میں جہاں بانی و جہاں گیری کی وہ قوت اور توانائی موجود تھی جو پہلے مغلوں کا خاصہ تھی۔ وہ مردِ عمل نہیں بلکہ مردِ محفل تھے اور اپنے پردادا اورنگ زیب کے برعکس فنونِ حرب سے زیادہ فنونِ لطیفہ کے شیدائی تھے۔
کیا مغل سلطنت کے انہدام کی ساری ذمہ داری محمد شاہ پر ڈالنا درست ہے؟ ہمارے خیال سے ایسا نہیں ہے۔ خود اورنگ زیب نے اپنی انتہا پسندی، سخت گیری اور بلاوجہ لشکر کشی سے تخت کےپایوں کو دیمک لگانا شروع کر دی تھی۔ جس طرح صحت مند جسم کو متوازن غذا کی ضرورت پڑتی ہے، ویسے ہی صحت مند معاشرے کے لیے زندہ دلی اور خوش طبعی اتنے ہی ضروری ہیں جتنی طاقتور فوج ۔ اورنگ زیب نے شمشیر و سناں والے پلڑے پر زور ڈالا، تو پڑپوتے نے طاؤس و رباب والے۔ نتیجہ وہی نکلنا تھا جو سب کے سامنے ہے۔

یہ سب کہنے کے باوجودنامساعد حالات ،بیرونی حملوں اور طاقتور امرا کی ریشہ دوانیوں کے دوران مغل سلطنت کا شیرازہ سنبھالے رکھنا ہی محمد شاہ کی سیاسی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ان سے پہلے صرف دو مغل حکمران اکبر اور اورنگ زیب ہی گزرے ہیں جنھوں نے محمد شاہ سے زیادہ عرصہ حکومت کی۔دوسری طرف محمد شاہ کو آخری بااختیار مغل شہنشاہ بھی کہا جا سکتا ہے، ورنہ اس کے بعد آنے والے بادشاہوں کی حیثیت امرائے دربار، روہیلوں، مرہٹوں اور بالآخر انگریزوں کے کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔
ساری رنگینیاں اور رنگ رلیاں اپنی جگہ، محمد شاہ رنگیلا نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور فنون کی ترویج میں جو کردار ادا کیا اسے نظرانداز کرنا ناانصافی ہو گی۔

*🌿🌿B4U🌿🌿*

علامہ محمد اقبال اور ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم حقائق کی روشنی میں

علامہ محمد اقبال اور ختم نبوت حقائق کی۔روشنی میں

*مرتب*
*🌱🌱ایاز وسیر🌱🌱*

*پیشکش*
*🌴🌴علم کا خزانہ🌴🌴*


دانائے راز،شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ(۱۸۷۷ء۔۱۹۳۸ء)کی شہرۂ آفاق شخصیت کی عظمت صرف اس لئے نہیں ہے کہ آپ ایک بلند پایہ شاعر، اور عظیم فلسفی ،اور مغربی علوم کے شناور تھے،بلکہ آپ کی ذات کو عالم اسلام میں مقبولیت اور خاص وعام میں یکساںجو محبوبیت حاصل ہوئی ہیں 
 
 اس میں آپ کا اصل کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپ نے شاعری کے رنگ میں اسلام کی سچی ترجمانی،اور شاعرانہ اسلوب میں عقیدت و محبت ِ رسول کے جذبوں کو فروغ دیا ہے۔آپ نے خوابیدہ مسلمانوں کو بیدار کیا،اور خفتہ عزائم کو جگایا،اور ایک نئی حرارت ِایمانی مسلمان رگوں میں دوڑائی۔بلاشبہ آپ خاص اسلامی شاعر تھے اور آپ نے اپنے اشعار سے دین کی عظیم خدمت انجام دیں،اور عشق ِرسول کے جذبا ت سے مسلمانوں کو سرشارکیا،آپ کی فکر و نظر کا محور رسول ِ اکرمﷺ کی ذات ِ گرامی رہی،اور محبتِ رسول آپ کا سرمایۂ حیات ،قرآن کی تلاوت سے آپ وجد میں آجاتے ،اور تذکرۂ رسول سے آپ کی انکھیں اشک بار ہوجاتیں ،عشق و محبت میں ڈوب کرہی آپ نے یہ( اور اس طرح کے ان گنت) لافانی شعر کہا :
؎ کی محمد ؐسے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

ایک مرتبہ حکیم احمد شجاع آپ کے مکان پر تشریف لائے تو دیکھاکہ علامہ اقبال ؒ بہت زیادہ فکر مند اور بے چین ہیں،دریافت کیا تو فرمایااحمد شجاع میں یہ سوچ کر اکثر مضطرب اور پریشان ہوجاتا ہوکہ کہیں میری عمر رسولﷺ سے زیادہ نہ ہوجائے۔(علامہ اقبالؒ اور عشق ِ مصطفیؐ:از پروفیسر محمد سرور رفعت ،ماہانہ ضیائے حرم لاہور)
اردو کے صاحب طرز ادیب حضرت مولانا عبد الماجد دریابادیؒ(۱۸۹۲ء۔۱۹۷۸ء)نے” شکوہ اور “جواب ِ شکوہ” پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
“شکوہ” والااقبال ایک صاحب ِ حال سالک ہے” جواب شکوہ” والا اقبال ایک صاحب ِ مقام
عارف ہے۔پہلے کے قدم اقلیم دل کی وادیوں میں ،دوسرے کی نگاہ فضائے روح کی بلندؤں
میں۔(مولانا دریابادی ؒکے ادبی شہ پارے:۲/۲۴۱)
عالم ِ عرب میں اقبال کو متعار ف کروانے والے اور آپ کے اشعار سے بے پنا ہ انسیت رکھنے والے اردو و عربی کے ادیب مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ (۱۹۱۳ء۔۱۹۹۹ء)اپنی مشہور کتا ب نقوشِ اقبال(جو عربی میں روائع اقبال کے نام سے مقبول ہے) میں رقم طراز ہیں کہ:
میری پسنداور تمام توجہ کا مرکز وہ اس لئے بھی ہیں کہ وہ بلند نظر،محبت اور ایمان وعقیدہ
کے شاعر ہیں۔ایک عقیدہ ،دعوت اور پیغام رکھتے ہیں۔۔۔۔وہ اسلام کی عظمت رفتہ
اور مسلمانوں کے اقبال گذشتہ کے لئے سب سے زیادہ بڑے فکر    مند،تنگ نظر قومیت ووطنیت کے سب سے بڑے مخالف اور انسانیت واسلامیت کے عظیم داعی ہیں۔
(نقوش ِاقبال:۳۴،لکھنؤ)
علامہ اقبال ؒ کے کلام کے شارح اور آپ کے فیض یافتہ پرفیسر سلیم چشتی نے علامہ سے اپنی وجوہات ِ محبت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
چوتھی بات یہ ہے کہ اقبال اپنے سینہ میںسوز وگداز سے لبریز دل رکھتے ہیں،میں نے
بارہا دیکھاہے کہ کسی نکتہ کو سمجھاتے سمجھاتے بے اختیا رآبدیدہ ہوجاتے ہیں،سروردو عالمؐ
سے جوعشق ہے اس کی نظیر ابھی تک کسی گیسودراز میں نہیں دیکھی!!!!اقبال سوز عشق مصطفے ؐ
سے مالامال ہیں۔(اقبال اور ہم :۷۴مطبوعہ انجمن خدام دین لاہور)
یہ چند اقتباسات ہیں اس عظیم شاعر ِاسلام کے متعلق جو عقیدتِ رسول کے تصور کی منظر کشی کرتے ہیں ،ورنہ توعلامہ اقبالؒ کی پوری زندگی تب و تاب جاودانہ،اور محبت ِ رسول میں مضطربانہ میں گذری ہے،یہ دراصل تمہید ہے علامہ اقبال اور مسئلہ ختم ِ نبوت کو پیش کرنے کی ۔اس لئے کہ جس کی زندگی اس طرح اسلام اور رسول اکرمﷺ پر قربان تھی ،اور جس نے اپنے فکر و نظر،علم و عمل ،اورزبان و قلم،کواسلام کے 
تعارف،اہل ِایمان کو منزلِ حقیقی کی رہنمائی،مخالفین اسلام کابھر پور دفاع اپنی تعلیم و فلسفہ کی بنیاد پر کرنے میں لگایاہو،اورخشک و بنجر قلوب میں،مادیت اور مغربیت سے متاثرانسانوںمیں عقیدت اسلام و محبت ِ رسول کی چنگاریوں کو بھڑکایا ہو ،قرآن سے وابستگی پر امت کو ابھارا ہو،اور تعلیمات ِ قرآن پر امت کو کھڑا کرنے کی جس نے ہر ممکن تگ ودوکی ہو،اس کے بارے میں یہ تصور کیوں کر کیا جاسکتا ہے کہ عقیدۂ ختم ِ نبوت اس کی رگ و ریشہ میں سرایت کیا ہوا نہ ہو؟ لیکن جہالت یا عناد و بغض کی وجہ سے بعض لوگ ایسی عظیم شخصیتوں پر بے جا الزامات لگادیتے ہیں،اور متہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔چناں چہ اس سے قبل دہلی سے نکلنے والے ایک ہفت روزہ اخبار میں ایک صاحب نے بلاکسی علم و تحقیق کے یہ بھی لکھاتھا کہ:
قادیانیوں میںبڑے عالم وفاضل لوگ ہوئے ہیں۔حتی کے علامہ اقبال کے بارے میں
بھی کہا جاتا ہے کہ بہ باطن قادیانی تھے،اسی لئے حرمین شریفین کی زیارت نہیں کی۔
علامہ اقبالؒ جیسی شخصیت پر اس طرح کا بے بنیادالزام یقینا بڑی جہالت ہی پر مبنی ہوگا،ورنہ تو جس شخصیت کا رسولِ پاکﷺ سے والہانہ تعلق اور بے پناہ محبت میں اشعار کافی ہیں ،جس سے محبت ِ رسول جھلکتا ،اور وفور ِ شوق مچلتا دکھائی دیتا ہے۔ تو آئیے اس سلسلہ میں حقیقت ِحال سے آگہی حاصل کریں تا کہ اس عظیم شاعرِاسلام کے بارے دل کسی بھی شک و شبہ میں مبتلانہ رہے،اور جھوٹے الزامات لگانے والوں کو بھی فکر و احساس پیدا ہو کہ قلم کا استعمال کسی بھی انسان اور خاص کربڑی شخصیات کے بارے میں بہت محتاط رہے۔

*علامہ اقبالؒ کا ابتدائی دور*

علامہ اقبال ؒجب۱۹۰۸؁ء میں جب یورپ سے اپنی تعلیم مکمل کرکے تشریف لائے اس وقت تک مرزا قادیانی کا انتقال ہوچکا تھا،اور مرزا کے حواریین علامہ کے ارد گردجمع ہو گئے،اور علامہ کو لبھانے کی کوشش کرنے لگ گئے،اور اپنی مجلسوں میں آپ کی علمی تقاریر سے استفادہ کرنے لگے، لیکن علامہ کبھی ان کے ہم خیال نہیں ہوئے بل کہ صرف اپنے تعلقات کی بنیاد پر اور اس وقت ان کے بعض سماجی خدمات کی بناء پر ان کے ساتھ شریک رہیں،اور آپ نے قادیانی گروہ کو شروع سے ایک سماجی خدمت گذارتنظیم کی نظرسے دیکھا،اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مرزا نے ابتداء میں ایک مناظر کی حیثیت سے اور آریوں ،اور عیسائیوں کے خلاف ایک مجادل کے روپ میں اپنے آپ کو ظاہر کیا ،جس کو جدید تعلیم یافتہ طبقہ جلد سمجھ نہیں سکا،علماء نے سب سے پہلے مرزائی فتنہ کو بھانپا اور اس کے خلاف صف آراء ہوئے،ان ہی لوگوں میںعلامہ اقبال ؒ بھی تھے،جنہوں نے نہ اب تک مرزائی کتا بوں کا مطالعہ کیا تھا ،اور نہ مرزائیوں کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔چناں چہ ردّ ِقادیانیت کے ابتدائی اورمعروف مصنف پروفیسر الیاس برنیؒ لکھتے ہیں کہ:
“کیفیت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے اپنے مذہب کو جس شکل میں پیش کیاوہ مدتوں
ابہام التباس اور تضاد کی بدولت چیستان اور معمہ بنارہا۔۔۔ان ہی الجھنوں کے بدولت مدت
تک مسلمان متردد رہے کہ بالآخر مرزا صاحب پر کیا حکم لگائیں۔بالخصوص جدید تعلیم یافتہ طبقے نے
حسن ظن کو مقدم رکھا لیکن قادیانی صاحبان نے اس حسن ظن سے دل کھول کر فائدہ اٹھایا،حتی کہ ان
کا اصلی مسلک اور حقیقی مقصد بخوبی واضح ہوگیا۔اور مسلمانوں کو ان کے اقوال وافعال سے بخوبی
ثابت ہوگیا۔چناں چہ ڈاکٹر سر محمد اقبال نے بھی جوحال میں انگریزی مضامین لکھے ہیں ،ان میں
افسوس کیا کہ مدت تک دھوکے میں رہے اور حال میں ان قادیانی تحریک کی پوری حقیقت کھلی”۔
(قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ:۶۰مجلس عالمی تحفظ ِ ختم ِ نبوت،ملتان)
ڈاکٹر سفیر احمد صاحب رقم طراز ہیں کہ:
“علامہ اقبال (۱۸۷۷ء۔۱۹۳۸ء)کا شمار بھی ان ہی موخر الذکر لوگوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں
نے ایک عرصہ تک مرزا صاحب کی تحریروں کا مطالعہ نہ کیا ،علمائے کرام کی تنگ نظری کے شاکی
رہے اور مرزا صاحب کے پیروں کاروں کے ساتھ اپنے سماجی تعلقات کے تحت احمدی تحریک
سے اچھی توقعات وابستہ رکھیں”۔(اقبال اور قادیانیت:۶از ڈاکٹر بشیر احمد،مجلس علم و دانش،راولپنڈی)
یہ تاریخی حقائق علامہ اقبال ؒ کی ابتدائی زندگی کے ہیں جب کہ آپ نے فتنہ قادیانیت کو واضح طور پر نہیں دیکھا ،اور ایک رفاہی اور قوم کی خدمت گذار تحریک سمجھ کر انسانیت کی فلاح و بہبودی میں اپنی شرکت کو بھی مناسب محسوس کیا،ورنہ اقبالؒ غدارانِ دین و نبی کے ساتھ کسی لمحہ بھی طرف دار نہیں رہے ۔

*علامہ اقبال ؒ اور حقیقت ِ قادیانیت کا انکشاف*

علامہ اقبال ؒ ابتداء میں چوںکہ قادیانیوں سے سماجی تعلقات رکھتے تھے،اسی بنیاد پر وہ کشمیر کمیٹی کے تحت فلاحی کاموں میں اپنا حصہ بھی ڈلواتے رہیں لیکن ۱۹۳۲ ء میں جب علامہ کو مرزا بشیر الدین محمود کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا ،اور بہت قریب سے قادیانی ٹولہ کی فریب کاریوں کو دیکھے نے اور ان کی ملمع سازیوں سے واقف ہو نے موقع ملا،علامہ نے محسوس کیا کہ احمدی تحریک کشمیر کمیٹی کے نام پر،اور ہمدردی و خیر خواہی کے عنوان پر اپنے افکار و عقائد کی تبلیغ میں مصروف ہے۔جیسے ہی علامہ نے حقیقت ِ حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیافوری کمیٹی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے ،دوسری طرف اسی زمانہ میں پروفیسر الیاس برنی صاحب کی کتاب “قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ” زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر علمی و دینی حلقوں میںدادِ کمال حاصل کررہی تھی ،چناں چہ اس کتاب نے بھی اس فتنہ قادیانیت کو کھول کرعلامہ کے سامنے رکھ دیا، اورپھراپنی تحریروں میں بھر پور انداز میں ختم ِ نبوت کا دفاع بھی کیا ،اور عشق و محبت میںڈوب کر رسولِ کریم ﷺ سے اپنے والہانہ تعلق کا ثبوت بھی دیا۔آئیے تاریخی حوالوں سے اس انکشاف کو ملاحظہ کریں:
شکیل عثمانی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اقبال کو جب ۳۲ا۔۱۹۳۱ء کے دوران مرزا بشیر الدین محمود کے ساتھ آل انڈیا کشمیر کمیٹی میں کام
کرنے کااتفاق ہواتو انہوں نے اس کا مشاہدہ کیا کہ مسئلہ چاہے اجتماعی یا قومی کیوں نہ ہو ،قادیانی
اپنے گروہی مفادات کی سطح سے اوپر نہیں اٹھ سکتے اور وہ صرف اپنے امام کی اطاعت کے پابند ہیں
۔۔۔اسی سال پروفیسر الیاس برنی کی کتاب “قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ” شائع ہو ئی ،۔۔یہی کتاب
ہے جس سے اقبال قادیانیوں کے عقائد سے مکمل طور پر واقف ہوئے۔(اقبال اور قادیانیت:دیباچہ)
علامہ اقبال ؒ ہی کے الفاظ میں اب اس انکشاف کو ملاحظہ فرمائیے:
مجھے یہ تسلیم کرنے میں کو ئی باک نہیں کہ اب سے ربع صدی پیشتر مجھے اس تحریک سے اچھے
نتائج کی امید تھی۔۔۔۔لیکن کسی مذہبی تحریک کی اصل روح ایک دن میں نمایاں نہیں ہوجاتی
اچھی طرح ظاہر ہونے کے لئے برسوں چاہیئں۔۔۔۔ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس
وقت بیزار ہوا تھا جب ایک نئی نبوت بانی اسلام کی نبوت سے اعلی تر نبوت کا دعوی کیا تھا،اور
تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیاگیا،بعد میںیہ بیزاری بغاوت کی حد پہنچ گئی۔جب میں نے
اس تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں نے سے آں حضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات
کہتے سنا ۔درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔اگر میرے موجودہ رویہ میں کوئی تناقض ہے
تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے۔
(حرفِ اقبال:۱۱۲،لطیف احمد خان شیروانی،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد،۱۹۸۴ء)
قادیانیت علامہ اقبالؒ کی نظر میں:
جب قادیانیت کی حقیقت اور اس کی شر انگیزی ، اسلام اور پیغمبرؐ اسلام کے خلاف دریدہ ذہنی علامہ اقبال ؒ کے سامنے آچکی ،تو علامہ اقبال ؒ نے اپنی صلاحیتوں کو ان غداران اسلام کے خلاف استعمال کرنی شروع کیں،اور اپنی تحریروں ،تقریروں ،مجلسوں ،میں دلائل و براہین اور اور حکیمانہ اشعار کے ذریعہ اور فکر و فلسفہ کے ساتھ قادیانیت کی اور ان کے افکار و نظریات کی تردیداوران کے عقائد کا ابطال کرنے لگے اسی کے چند اقتباسات آپ کے خطبات و تحریروں کے سلسلہ میں مستند مانی جانے والی کتاب حرفِ اقبال سے پیش ہیں۔علامہ فرماتے ہیں کہ:
اس طرح مسلمانانِ ہند یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ تحریک قادیانیت جو تمام دنیائے اسلام کو
کافر قرار دیتی ہیں اور اس سے معاشرتی مقاطعہ کرتی ہیں۔(حرف اقبال :۱۲۳)
۱۹۳۵ء میں علامہ کا ایک جوابی خط اخبار اسٹیٹمین میںشائع ہواتھاجس میںانہوںنے قادیانیوں کو دوٹوک انداز میں کہاکہ:
اوّلا :اسلام ایک دینی جماعت ہے ،جس کے حدود مقرر ہیںیعنی وحدت الوہیت
پر ایمان،انبیاء پر ایمان اور رسولِ کریم ؐکی ختم رسالت پرایمان۔
میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیںیا تو وہ بہائیوں کی تقلید
کریں،یا پھر ختم نبوت کی تاویلیں چھوڑکر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے
ساتھ قبول کرلیں،ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ
اسلام میں ہوتا رہے تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔
ثانیا:ہمیں قادیانیو ں کی حکمت علمی اور دنیا ئے اسلام سے متعلق ان کے رویے کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بانیٔ تحریک نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ
سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ سے۔(حرف اقبال:۱۱۸)
شہید ِ ختمِ نبوت حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒفرماتے ہیں کہ :
علامہ مرحوم جدید تعلیم یافتہ طبقے میں پہلے شخص تھے جن کو فتنہ قادیانیت کی سنگینی نے
بے چین کر رکھا تھا۔ان کی تقریر و تحریر میں قادیا نی ٹولے کو”غدارانِ اسلام” اور
” باغیا ن محمد” سے یاد کیا جاتا تھا۔(علامہ اقبال او رفتنہ قادیانیت :۴۷۷متین خالد ،
مجلس عالمی تحفظ ختمِ نبوت ۔،ملتان)
مشہور ادیب اورتحفظ ختم ِ نبوت کے مردِ جاں باز شورش کاشمیریؒعلامہ کے ایک خط کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :
(قادیانی مذہب کے خلاف) میں نے یہ مقالہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بہترین
نیتوں اور نیک ترین ارادوں میں ڈوب کر لکھا ہے تھا ، میں اس باب میں کوئی شک نہیں
رکھتا کہ یہ احمدی اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔(اقبالیاتِ شورش:۲۸۵
مرتب،مولانا مشتاق احمد،حرا فاؤنڈیشن پاکستان)
اقبال ؒ نے مدعیانِ نبوت اور خاص کر قادیانی فتنہ کے خلاف اسلام کا اصول پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
چناں چہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو ،لیکن اپنی بنیاد
نئی نبوت پر رکھے ،اور بزعم ِ خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں
کو کافر سمجھے ،مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گا،اور
یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم ِ نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔(حرفِ اقبال:۱۰۳)
علامہ اقبالؒ نے قادیانیت کو تنسیخ ِ جہاد کے لئے انگریزوں کی پیداوار بلکہ آلہ کار بھی قرار دیا۔اور آپ کو اپنی عمر کی آخر ی منزلوں میں اس فتنے کی بابت سخت فکر بھی لاحق ہوگئی تھی ،آپ کی مجلسوں میں بھی اکثر یہی موضوع زیر بحث رہتا ،جس میںعلامہ بڑی فکر و کڑھن کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار فرماتے،اورخاص کراہل ِ علم کی مجلسوں میں دلائل کے ساتھ اس فتنے کے خدوخال کو نمایاں کرتے۔
علامہ اقبالؒ اور علامہ کشمیریؒ:
تحفظ ِ ختم ِ نبوت کی تحریک کو اپنے خونِ جگر سے سینچنے والے علماء اور ردّ ِ قادیانیت کے لئے جان و تن لگادینے والے علماء میں امام العصر حضرت علامہ انور شا ہ کشمیری ؒ (۱۸۷۵ء۔۱۹۳۳ء)کا نام نامی اسم گرامی ممتاز رہاہے ،علامہ کشمیریؒجو علم و فضل میں اس دور میں بلا شبہ مرکزی شخصیت تھی ،آپ نے اپنے تلامذہ میں بھی بے نظیراصحابِ علم وتحقیق اور خدام ِ تحفظ ِ ختم ِنبوت تیار کئے تھے،اور جب فتنہ قادیانیت رونماں ہواتو آپ نے اپنی تمام تر توجہ اس فتنہ کے سدِ باب میں مبذول کردی، اور چوں کہ علامہ اقبالؒ کو ہم عصر علماء میں علامہ کشمیریؒ سے قلبی تعلق تھا،اور آپ حضرت کشمیریؒ کے علمی تفوق کے معترف اور فضل و کمال کے قائل تھے ،اس لئے بہت سارے علمی مسائل اورتحقیق طلب امور میں حضرت کشمیریؒ سے خط و کتابت فرماتے،اور آپ کے جوابات سے تسکین پاتے ۔علامہ اقبال ؒ یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ:
اس وقت روئے زمین پر انور شاہ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں ۔(انوا رالسوانح:۴۱۰ڈاکٹر غلام محمد کچھی
دار الکتاب لاہور۔۲۰۱۰)
علامہ اقبال ؒ نے حضرت کشمیریؒ کی وفات پر تعزیتی جلسہ سے خطاب کر تے ہوئے کہا تھاکہ:
مولانا انور شاہ صاحب کی مثال پیش کرنے سے اسلام کی پانچ سو سال کی تاریخ عاجز ہے۔
(اقبال کے ممدوح علماء:۴۷،مکتبہ الحق جوگیشوری ممبئی،۲۰۰۸)
بہرحال ان تعلقات سے دراصل بتا نا مقصود یہ ہے کہ جب فتنہ قادیانیت ظہور میں آیا تو علامہ کشمیریؒ نے اقبالؒ کی فکری رہنمائی بھی فرمائی اور اس ایمان سوز فتنہ کے خطرناکیوں سے آگاہ بھی کیا،اور اپنی فکر و کوشش سے علامہ اقبال کو بھی قافلہ تحفظ ِ ختم ِ نبوت کا ایک عظیم فداکا ر و جاں نثار بنا دیا ۔اس سلسلہ میں ایک یمان افروز واقعہ ملاحظہ فرمائیں:
ایک دفعہ حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒدیوبند سے لاہور تشر یف لائے میں
( ڈاکٹر جلال الدین)ان کو اسٹیشن پر لینے کے لئے گیا۔میں نے کہا حضرت گھر تشریف لائیں۔مولانا نے فرمایا کہ آج میں نے صرف ڈاکٹر اقبال سے ملنا ہے اور ابھی سیدھا
وہیں جانا ہے لہذا مجھے وہیں چھوڑدیجئے۔مولانا کو ڈاکٹر محمد اقبال کے گھر پہنچادیااور میں
باہر موجود رہا۔حضرت انور شاہ کشمیریؒاور علامہ اقبالؒبند کمرے میںکافی دیر تک گفتگو
کرتے رہے،جب دروازہ کھلاتو میں نے دیکھا کہ ڈاکٹرمحمد اقبالؒ بچوں کی طرح آنسو
بہارہے ہیں،اور زاروقطار رورہے تھے۔حضرت نے اسی وقت مجھے فرمایاکہ مجھے اسٹیشن
چھوڑدیجئے۔میں آپ کو اسٹیشن پر لے چلا۔راستہ میں اپنے گھرلے جانے پر اصرار کیا تو
فرمایا کہ آج میںمسئلہ قادیانیت علامہ اقبال کو سمجھانے کے لئے آیا تھا۔اس کام میں اور
کوئی کا م شر یک نہیں کرتا۔اب سیدھے واپس جا نا ہے اسٹیشن سے اسی وقت دیوبند
واپس ہوگئے۔(تذکرۂ مجاہدین ِ ختم ِ نبوت:۳۴۔مولانا اللہ وسایا۔عالمی مجلس ِ تحفظ ختم
نبوت لاہور۔۱۹۹۰ء)
قاضی ا فضل حق قریشی لکھتے ہیں کہ:
۔۔۔پھر برکت علی محمڈن ہال میںاپنے اہتمام سے جلسہ کا انعقاد فرمایا،ختم نبوت اور
ردّ ِ قادیانیت کا حضرت کا بیان ہوا، ڈاکٹر صاحب پر اس قدر اثر ہوا کہ ردّ ِ قادیا نیت
کے لئے کمربستہ ہوگئے۔(اقبال کے ممدوح علماء:۴۷)
حضرت کشمیری ؒ کی محنت رنگ لائی کہ علامہ اقبالؒ ردّ قادیانیت میں اپنے علم و فلسفہ کی بنیاد پر بھی جدید طبقہ میں زبر دست مبلغ اور فدائے ختم نبوت کے طور پر اپنی خدما ت چھوڑ گئے۔

*علامہ اقبالؒ کی شاعری اور ختم ِ نبوت*

اب آخرمیں ایک نظر علامہ اقبا ل ؒ کی اس شاعری پر ڈالتے ہیں جو انہوں نے ردّ قادیانیت میں فرمائی ہیں،اوراپنے حکیمانہ اور ناصحانہ اشعارمیں اہمیت ِ ختم نبوت کو بیان بھی کیااور قادیانیت کے شیش محل کو مسمار بھی کیا۔علامہ اقبال ؒ کے بے شمار اشعار ہیں جس میں آپ نے عقیدہ ٔ ختم ِ نبوت کو بیا ن کیا اور اس کی ضرورت پر شاعرانہ و فلسفیانہ اسلوب میں کلام بھی کیا،اگلی سطور میں صرف نمونے کے لئے چند اشعار پیش کئے جارہے ہیں ،تفصیل کے علامہ کے کلام کا مطالعہ مفید اور چشم ِ کشا رہے گا۔ فارسی میں علامہ ؒ نے فرمایاکہ:
پس خد ا برما شریعت ختم کرد بر رسولِ ما رسالت ختم کرد
( خدا نے ہم پر شریعت کو اور ہمارے رسولؐپر رسالت کو ختم فرمادیا)
رونق از ما محفل ایامِ ِ را او رسل را ختم و ما اقوام را
(ہمارے رسول ؐپر سلسلہ انبیاء اور ہم پر سلسلہ اقوام ختم ہوچکا،بزمِ جہاں کی رونق ہم سے ہے)
لا بنی بعدی ز احسانِ خدا است پردۂ ناموس دین مصطفے است
(رسولِ خدا کا فرمان لانبی بعدی اللہ کے احسانات میں ایک احسان ہے،دین مصطفے کی عزت کا محافظ بھی یہی ہے)
قوم را سرمایہ ٔ قوت ازو حفظ سرّ ِ وحدت ملت ازو
(مسلمانوں کا سرمایہ یہی عقیدۂ ختم ِ نبوت ہے،اور اسی میں وحدت ملت کا تحفظ کا راز بھی پوشیدہ ہے)
اردو میں بہت کچھ علامہ ؒ نے اس موضوع پر کہا ہے ،اور مختلف پیرایوں میں اس کی عظمت کو پیش کیا ۔فرماتے ہیں کہ:
نہ میں عارف ، نہ مجدد، نہ محدث، نہ فقیہ
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام
ہاں مگر عالم اسلام پر رکھتا ہوں نظر
فاش ہے مجھ پہ ضمیر فلک ِ نیلی فام
وہ نبوت ہے مسلماں کے لئے برگِ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
(کلیات ِ اقبال ؛ضربِ کلیم:۵۷۰لاہور)
ایک جگہ علامہ ؒقادیانیت پر زبر دست تنقید کرتے ہوئے فرمایاکہ:
پنجاب کے ا ربابِ نبوت کی شریعت
کہتی ہے کہ یہ مومن ِ پارینہ ہے کافر
( کلیات اقبال:۵۴۰)
علامہ اقبالؒ نے بارہا اپنی مجلسوں میں اس کا اظہار کیا تھا کہ قادیانیت کی داغ بیل در اصل جذبۂ جہاد کو ختم کر کے انگریزوں کا غلام بنانے کے لئے ڈالی گئی تھی ،اور مرزا انگریزوں کا آلہ ٔ کار بن کر ابھر ا تھااسی کو علامہ ؒ نے اپنے کلام میں یوں ارشاد فرمایا کہ:
فتوی ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کار گر
لیکن جناب شیخ کو معلو م نہیں کیا؟
مسجد میں یہ وعظ ہے بے سود و بے اثر
ہم پوچھتے ہیں شیخ ِ کلیسا نوا ز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
(کلیات ِ اقبال: ۵۴۲)

آخری بات:
دلائل و حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ علامہ اقبال ؒ کی جانب قادیانیت کی نسبت جہالت و لا علمی ہی پر مبنی ہو سکتی ہے ۔ وہ اس سے بالکل بری ہیںاور محاذ ِ تحفظ ختم ِ نبوت کے نہایت پر جوش سپاہی رہے ہیں،اور آپ نے قادیانیت کو ہر اعتبارسے دین و دنیا،ملک و ملت کے لئے دشمن قرار دیا،اور آپ نے ان کی تحریروں کا ،اور تاویلوں کا عقل و نقل کی بنیاد پر مسکت جواب بھی دیا ۔اقبالیات کے ماہرین نے علامہ اقبال ؒ سے منسوب جن جن عنوانات کو موضوعِ بحث بنایا،اور ہر پہلو و ہر گوشے سے خوب سے خوب نکھارا ہے اس میں اس فتنہ ٔ قادیانیت اور علامہ اقبال ؒ بھی ایک تحقیقی موضوع رہا ،جس پر اقبالؒ کے چاہنے والوں نے بہترین تجزیہ بھی فرمایا،اور مخالفین کو دندان شکن جواب دے کر اس مسئلہ کو بھی بے غبار کردیا،اور بتا دیاکہ اقبال ؒ تو وہ عظیم انسان ہے جو محمد ﷺ کے خلاف ایک جملہ بھی نازیبا سننے کو گوارا نہیں کرتا تھا،اور ہر وقت وہ تصور ِ مدینہ میں جینے والا ،اور محمد عربی ﷺ کی محبت میں نثار ہونے والا تھا۔اقبالؒ نے ہی یہ انسانوں کو پیغام دیاکہ:
؎ قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم ِ محمد ؐ سے اجالا کردے

*🌿🌿B4U🌿🌿*

اتوار، 19 جولائی، 2020

میں آدمی ہوں عام سا

میں آدمی ہوں عام سا 
ایک قصہ نا تمام سا . 

نا لہجہ بے مثال ہے 
نا بات میں کمال ہے 

ہوں دیکھنے میں عام سا 
آداسیوں کی شام سا ، 

جیسے کے ایک راز ہوں 
خود سے بے نیاز ہوں 
میں آدمی ہوں عام سا 
ایک قصہ نا تمام سا . 

نا لہجہ بے مثال ہے 
نا بات میں کمال ہے 

ہوں دیکھنے میں عام سا 
آداسیوں کی شام سا ، 

جیسے کے ایک راز ہوں 
خود سے بے - نیاز ہوں 

نا مہہ جبینوں سے ربط ہے 
نا شہرتوں کا ضبط ہے 

رانجھا نا قیس ہوں 
انشا نا فیض ہوں 

میں پیکر اِخْلاص ہوں 
وفا ، دعا اور آس ہوں 
میں شخص خود شناس ہوں 

تم ہی کرو کوئی فیصلہ ! 

میں آدمی ہوں عام سا ! ! 
یا 
پھر بہت ہی خاص ہوں ! ! ! 

نا مہہ جبینوں سے ربط ہے 
نا شہرتوں کا ضبط ہے 

رانجھا نا قیس ہوں 
انشا نا فیض ہوں 

میں پیکر اِخْلاص ہوں 
وفا ، دعا اور آس ہوں 
میں شخص خود شناس ہوں 

تم ہی کرو کوئی فیصلہ ! 

میں آدمی ہوں عام سا ! ! 
یا 
 پھر بہت ہی خاص ہوں ! ! !

قسطنطنیہ کی فتح جس یورپ آج تک نہیں بھولا

*🌹🌹قسطنطنیہ کی فتح جس یورپ آج تک نہیں بھولا🌹🌹*

*ترتیب و پیشکش*
*🌴🌴علم کا خزانہ🌴🌴*

*مرتب*
*🌱🌱ایاز وسیر🌱🌱*



29 مئی 1453 رات کا ڈیڑھ بجا ہے۔ دنیا کے ایک قدیم اور عظیم شہر کی فصیلوں اور گنبدوں پر سے 19ویں قمری تاریخ کا زرد چاند تیزی سے مغرب کی طرف دوڑا جا رہا ہے جیسے اسے کسی شدید خطرے کا اندیشہ ہے۔
اس زوال آمادہ چاند کی ملگجی روشنی میں دیکھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ شہر کی فصیلوں کے باہر فوجوں کے پرے منظم مستقل مزاجی سے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ ان کے دل میں احساس ہے کہ وہ تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔
یہ شہر قسطنطنیہ (موجودہ نام: استنبول) ہے اور فصیلوں کے باہر عثمانی فوج آخری ہلہ بولنے کی تیاری کر رہی ہے۔ عثمانی توپوں کو شہر پناہ پر گولے برساتے ہوئے 47 دن گزر چکے ہیں۔ کمانڈروں نے خاص طور پر تین مقامات پر گولہ باری مرکوز رکھ کر فصیل کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔
21 سالہ عثمانی سلطان محمد ثانی غیر متوقع طور پر اپنی فوج کے اگلے مورچوں پر پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ حتمی یلغار فصیل کے 'میسو ٹیکیون' کہلانے والے وسطی حصے سے کی جائے گی جس میں کم از کم نو شگاف پڑ چکے ہیں اور خندق کا بڑا حصہ پاٹ دیا گیا ہے۔
سر پر بھاری پگڑ باندھے اور طلائی خلعت میں ملبوس سلطان نے اپنے سپاہیوں کو ترکی زبان میں مخاطب کیا: 'میرے دوستوں اور بچو، آگے بڑھو، اپنے آپ کو ثابت کرنے کا لمحہ آ گیا ہے!'
اس کے ساتھ ہی نقاروں، قرنوں، طبلوں اور بگلوں کے شور نے رات کی خاموشی کو تار تار کر دیا، لیکن اس کان پھاڑتے شور میں بھی عثمانی دستوں کے فلک شگاف نعرے صاف سنائی دیے جا سکتے تھے جنھوں نے فصیل کے کمزور حصوں پر ہلہ بول دیا۔ ایک طرف خشکی سے اور دوسری طرف سے سمندر میں بحری جہازوں پر نصب توپوں کے دہانوں نے آگ برسانا شروع کر دی۔
بازنطینی سپاہی اس حملے کے لیے فصیلوں پر تیار کھڑے تھے۔ لیکن پچھلے ڈیڑھ ماہ کے محاصرے نے ان کے حوصلے پست اور اعصاب شکستہ کر دیے تھے۔ بہت شہری بھی مدد کے لیے فصیلوں پر آ پہنچے اور پتھر اٹھا اٹھا کر کے نیچے اکٹھا ہونے والے حملہ آوروں پر پھینکنا شروع کر دیے۔ دوسرے اپنے اپنے قریبی چرچ کی طرف دوڑے اور گڑگڑا گڑگڑا کر مناجاتیں شروع کر دیں۔ پادریوں نے شہر کے متعدد چرچوں کی گھنٹیاں پوری طاقت سے بجانا شروع کر دیں جن کی ٹناٹن نے ان لوگوں کو بھی جگا دیا جو ابھی تک سو رہے تھے۔

ہر فرقے سے تعلق رکھنے والے عیسائی اپنے صدیوں پرانے اختلاف بھلا کر ایک ہو گئے اور ان کی بڑی تعداد شہر کے سب سے بڑے اور مقدس کلیسا ہاجیہ صوفیہ میں اکٹھی ہو گئی۔
دفاعی فوج نے جانفشانی سے عثمانیوں کی یلغار روکنے کی کوشش کی۔ لیکن اطالوی طبیب نکولو باربیرو جو اس دن شہر میں موجود تھے، لکھتے ہیں کہ سفید پگڑیاں باندھے ہوئے حملہ آور جانثاری دستے ’بےجگر شیروں کی طرح حملہ کرتے تھے اور ان کے نعرے اور طبلوں کی آوازیں ایسی تھیں جیسے ان کا تعلق اس دنیا سے نہ ہو۔'
روشنی پھیلنے تک ترک سپاہی فصیل کے اوپر پہنچ گئے۔ اس دوران اکثر دفاعی فوجی مارے جا چکے تھے اور ان کا سپہ سالار جیووانی جسٹینیانی شدید زخمی ہو کر میدانِ جنگ سے باہر ہو چکا تھا۔
جب مشرق سے سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی تو اس نے دیکھا کہ ایک ترک سپاہی کرکوپورتا دروازے کے اوپر نصب بازنطینی پرچم اتار کر اس کی جگہ عثمانی جھنڈا لہرا رہا ہے۔
سلطان محمد سفید گھوڑے پر اپنے وزرا اور عمائد کے ہمراہ ہاجیہ صوفیہ پہنچے۔ صدر دروازے کے قریب پہنچ کر وہ گھوڑے سے اترے اور گلی سے ایک مٹھی خاک لے کر اپنی پگڑی پر ڈال دی۔ ان کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
مسلمان سات سو سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر قسطنطنیہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
قسطنطنیہ کی فتح محض ایک شہر پر ایک بادشاہ کے اقتدار کا خاتمہ اور دوسرے کے اقتدار کا آغاز نہیں تھا۔ اس واقعے کے ساتھ ہی دنیا کی تاریخ کا ایک باب ختم ہوا اور دوسرے کی ابتدا ہوئی تھی۔
ایک طرف 27 قبلِ مسیح میں قائم ہونے والی رومن امپائر 1480 برس تک کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہنے کے بعد اپنے انجام کو پہنچی، تو دوسری جانب عثمانی سلطنت نے اپنا نقطۂ عروج چھو لیا اور وہ اگلی چار صدیوں تک تین براعظموں، ایشیا، یورپ اور افریقہ کے حصوں پر بڑی شان سے حکومت کرتی رہی۔
1453 ہی وہ سال ہے جسے قرونِ وسطیٰ (مڈل ایجز) کا اختتام اور جدید دور کا آغاز بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ فتحِ قسطنطنیہ کو فوجی تاریخ کا سنگِ میل بھی قرار دیا جاتا ہے کیوں کہ اس کے بعد ثابت ہو گیا کہ اب بارود کے استعمال اور بڑی توپوں کی گولہ باری کے بعد فصیلیں کسی شہر کے تحفظ کے لیے ناکافی ہیں۔
شہر پر ترکوں کے قبضے کے بعد یہاں سے ہزاروں کی تعداد میں یونانی بولنے والے شہری بھاگ کر یورپ اور خاص طور پر اٹلی کے مختلف شہروں میں جا بسے۔ اس وقت یورپ 'تاریک دور' سے گزر رہا تھا اور قدیم یونانی تہزیب سے کٹا ہوا تھا لیکن اد تمام عرصے میں قسطنطنیہ میں یونانی زبان اور ثقافت برقرار رہی تھی یہاں پر پہنچنے والے کے پاس ہیرے جواہرات اور بیش قیمت خزانہ تھا، ارسطو ،افلاطون، جالینوس اور دوسرے حکماء علما کے اصل یونانک زبان کے نسخے ان سب نے یورپ میں قدیم یونانی علوم کے احیا میں زبردست کردار ادا کیا اور مورخین کے مطابق انھی کی وجہ سے یورپ میں نشاۃ الثانیہ کا آغاز ہوا جس نے آنے والی صدیوں میں یورپ کو باقی دنیا سے سبقت لینے میں مدد دی جو آج بھی برقرار ہے۔

سلطان محمد ثانی قسطنطنیہ میں داخل ہونے کے بعد
تاہم نوجوان سلطان محمد کو، جسے آج دنیا سلطان محمد فاتح کے نام سے جانتی ہے، 29 مئی کی صبح جو شہر نظر آیا یہ وہ شہر نہیں تھا جس کی شان و شوکت کے افسانے اس نے بچپن سے سن رکھے تھے۔ طویل انحطاط کے بعد بازنطینی سلطنت آخری سانسیں لے رہی تھی اور قسطنطنیہ، جو صدیوں تک دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے مالدار شہر رہا تھا، اب اس کی آبادی سکڑ کر چند ہزار رہ گئی تھی اور شہر کے کئی حصے ویرانی کے سبب ایک دوسرے سے کٹ ہو کر الگ الگ دیہات میں تبدیل ہو گئے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ نوجوان سلطان نے شہر کی حالتِ زار دیکھ کر شیخ سعدی سے منسوب یہ شعر پڑھا:
بوم نوبت میزند بر طارم افراسیاب ۔۔۔ پرده داری میکند در قصر قیصر عنکبوت
(اُلو افراسیاب کے میناروں پر نوبت بجائے جاتا ہے ۔۔۔ قیصر کے محل پر مکڑی نے جالے بن لیے ہیں)
قسطنطنیہ کا قدیم نام بازنطین تھا۔ لیکن جب 330 عیسوی میں رومن شہنشاہ کونسٹینٹائن اول نے اپنا دارالحکومت روم سے یہاں منتقل کیا تو شہر کا نام بدل کر اپنے نام کی مناسبت سے کونسٹینٹینوپل کر دیا، (جو عربوں کے ہاں پہنچ 'قسطنطنیہ' بن گیا)۔ مغرب میں رومن امپائر کے خاتمے کے بعد یہ سلطنت قسطنطنیہ میں برقرار رہی اور چوتھی تا 13ویں صدی تک اس شہر نے ترقی کی وہ منازل طے کیں کہ اس دوران دنیا کا کوئی اور شہر اس کی برابری کا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمان شروع ہی سے اس شہر کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے آئے تھے۔
چنانچہ اس مقصد کے حصول کی خاطر چند ابتدائی کوششوں کی ناکامی کے بعد 674 میں ایک زبردست بحری بیڑا تیار کر کے قسطنطنیہ کی سمت روانہ کیا۔ اس بیڑے نے شہر کے باہر ڈیرے ڈال دیے اور اگلے چار سال تک متواتر فصیلیں عبور کرنے کی کوششیں کرتا رہا۔

آخر 678 میں بازنطینی بحری جہاز شہر سے باہر نکلے اور انھوں نے حملہ آور عربوں پر حملہ کر دیا۔ اس بار ان کے پاس ایک زبردست ہتھیار تھا، جسے ’آتشِ یونانی‘ یا گریک فائر کہا جاتا ہے۔ اس کا ٹھیک ٹھیک فارمولا آج تک معلوم نہیں ہو سکا، تاہم یہ ایک ایسا آتش گیر مادہ تھا جسے تیروں کی مدد سے پھینکا جاتا تھا اور یہ کشتیوں اور جہازوں سے چپک جاتا تھا۔ مزید یہ کہ پانی ڈالنے سے اس کی آگ مزید بھڑک جاتی تھی۔
عرب اس آفت کے مقابلے کے لیے تیار نہیں تھے۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے تمام بحری بیڑا آتش زار کا منظر پیش کرنے لگا۔ سپاہیوں نے پانی میں کود کر جان بچانے کی کوشش کی لیکن یہاں بھی پناہ نہیں ملی کیوں کہ آتشِ یونانی پانی کی سطح پر گر کر بھی جلتی رہتی تھی اور ایسا لگتا تھا جیسے پورے بحرِ مرمرہ نے آگ پکڑ لی ہے۔
عربوں کے پاس پسپائی کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔ واپسی میں ایک ہولناک سمندری طوفان نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور سینکڑوں کشتیوں میں سے ایک آدھ ہی بچ کر لوٹنے میں کامیاب ہو سکی۔
اسی محاصرے کے دوران مشہور صحابی ابو ایوب انصاری نے بھی اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ ان کا مقبرہ آج بھی شہر کی فصیل کے باہر ہے۔ سلطان محمد فاتح نے یہاں ایک مسجد بنا دی تھی جسے ترک مقدس مقام مانتے ہیں۔
اس کے بعد 717 میں بنو امیہ کے امیر سلیمان بن عبدالملک نے زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ ایک بار پھر قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا، لیکن اس کا بھی انجام اچھا نہیں ہوا، اور دو ہزار کے قریب جنگی کشتیوں میں سے صرف پانچ بچ کر واپس آنے میں کامیاب ہو سکیں۔

شاید یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد چھ صدیوں تک مسلمانوں نے دوبارہ قسطنطنیہ کا رخ نہیں کیا، حتیٰ کہ سلطان محمد فاتح نے بالآخر شہر پر اپنا جھنڈا لہرا کر سارے پرانے بدلے چکا دیے۔
شہر پر قبضہ جمانے کے بعد سلطان نے اپنا دارالحکومت ادرنہ سے قسطنطنیہ منتقل کر دیا اور خود اپنے لیے قیصرِ روم کا لقب منتخب کیا۔ آنے والے عشروں میں اس شہر نے وہ عروج دیکھا جس نے ایک بار پھر ماضی کی عظمت کی یادیں تازہ کر دیں۔
سلیمان عالیشان نے قسطنطنیہ کو نئی بلندیوں سے روشناس کروایا
سلطان نے اپنی سلطنت میں حکم نامہ بھیجا: 'جو کوئی چاہے، وہ آ جائے، اسے شہر میں گھر اور باغ ملیں گے۔' صرف یہی نہیں، اس نے یورپ سے بھی لوگوں کو قسطنطنیہ آنے کی دعوت دی تاکہ شہر پھر سے آباد ہو جائے۔
اس کے علاوہ اس نے شہر کے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر کی، پرانی نہروں کی مرمت کی اور نکاسی کا نظام قائم کیا۔ اس نے بڑے پیمانے پر نئی تعمیرات کا سلسلہ بھی شروع کیا جس کی سب سے بڑی مثال توپ کاپی محل اور گرینڈ بازار ہے۔ جلد ہی طرح طرح کے دست کار، کاریگر، تاجر، خطاط، مصور، سنار، اور دوسرے ہنرمند شہر کا رخ کرنے لگے۔
سلطان فاتح نے ہاجیہ صوفیہ کو چرچ سے مسجد بنا دیا، لیکن انھوں نے شہر کے دوسرے بڑے گرجا ’کلیسائے حواریان‘ کو یونانی آرتھوڈاکس فرقے کے پاس ہی رہنے دیا اور یہ فرقہ ایک ادارے کی صورت میں آج بھی قائم و دائم ہے۔
سلطان فاتح کے بیٹے سلیم کے دور میں عثمانی سلطنت نے خلافت کا درجہ اختیار کر لیا اور قسطنطنیہ اس کا دارالخلافہ، اور تمام سنی مسلمانوں کا مرکزی شہر قرار پایا۔
سلطان فاتح کے پوتے سلیمان عالیشان کے دور میں قسطنطنیہ نے نئی بلندیوں کو چھو لیا۔ یہ وہی سلیمان ہیں جنھیں مشہور ترکی ڈرامے 'میرا سلطان' میں دکھایا گیا ہے۔ سلیمان عالیشان کی ملکہ خرم سلطان نے مشہور معمار سنان کی خدمات حاصل کیں جس نے ملکہ کے لیے ایک عظیم الشان محل تعمیر کیا۔ سنان کی دوسری مشہور تعمیرات میں سلیمانیہ مسجد، خرم سلطان حمام، خسرو پاشا مسجد، شہزادہ مسجد اور دوسری عمارتیں شامل ہیں۔

یورپ پر سقوطِ قسطنطنیہ کا بڑا گہرا اثر ہوا اور وہاں اس سلسلے میں کتابیں اور نظمیں لکھی گئیں اور متعدد پینٹنگز بنائی گئیں اور یہ واقعہ ان کے اجتماعی شعور کا حصہ بن گیا۔
یہی وجہ ہے کہ یورپ کبھی اسے بھول نہیں سکا۔ نیٹو کا اہم حصہ ہونے کے باوجود یورپی یونین ترکی کو قبول کرنے لیت و لعل سے کام لیتی ہے جس کی وجوہات صدیوں پرانی ہیں۔
یونان میں آج بھی جمعرات کو منحوس دن سمجھا جاتا ہے۔ 29 مئی 1453 کو جمعرات ہی کا دن تھا۔

*🌿🌿B4U🌿🌿*

محمد بن قاسم قسط 3

*فاتح سندھ* *🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱* *مصنف* *🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀* *ترتیب* *🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴* *پیشکش* *✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️* *قسط نمبر 3*   اگل...