*فاتح سندھ*
*🌱🌱محمد بن قاسم🌱🌱*
*مصنف*
*🍀🍀نسیم حجازی🍀🍀*
*ترتیب*
*🌴🌴ایاز وسیر🌴🌴*
*پیشکش*
*✏️✏️علم کا خزانہ✏️✏️*
*قسط نمبر 1*
*ابوالحسن*
ہندوستان کے مغربی ساحل کی اہم بندرگاہوں اور جزیرا سراندیپ(موجودہ سریلنکا یا سیلون) کے ساتھ ایک مدت سے عربوں کے تجارتی تعلقات چلے آرہے تھے۔زمانہ جاہلیت میں چند عرب تاجر سر اندیپ میں آباد ہوگئے تھے اور جب عرب میں ایک نئے دین کا چرچا ہونے لگا تو یہ دین ان عربوں کو اپنے آباواجداد کے مذہب کو ترک کرنے پر آمادہ نا کرسکا۔لیکن ایرانیوں اور رومیوں کے مقابلے میں عربوں کی شاندار فتوحات کی خبریں سن کر ان کی قومی عصبیت جاگ آٹھی تھی۔ ایران، عرب کے مقابلے میں ایک متمدن ملک سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے ہندوستان کے بازاروں میں عرب کے مقابلے میں ایران کی مصنوعات کی زیادہ قدر تھی۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے حکمران حیران کو ایک طاقتور ہمسایہ خیال کرتے تھے اور عربوں کے مقابلے میں ایرانی تاجروں کو زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔اگر شام سے کوئی قافلہ آجاتا تو روما کی قدیم سطوت سے مرعوب ہندوستانی انھیں بھی عربوں سے زیادہ مرعات دیتے۔ لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شاندار فتوحات نے عربوں کے مطلق ہمسایہ ممالک کے زاویہ نگاہ کو تبدیل کردیا۔
سراندیپ اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں آباد ہونے والے وہ ےاجر جو ابھی تک عرب کے اندرونی انقلاب سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔ کفر کے مقابلے میں اسلام کی فتوحات کو ایرانیون اور رومیوں کے مقابلے میں عرب کی فتوحات سمجھ کر پھولے نہیں سماتے تھے۔ عربوں کے نئے دین سے ان کی نفرت اب محبت میں تبدیل ہورہی تھی۔ اس زمانے میں جن لوگوں کو عرب جانے کا اتفاق ہوا وہ اسلام کی نعمتوں سے مالا مال ہو کر وآپس آئے۔
عبدالشمس عرب عرب تاجروں کا سرکردہ تھا۔ اس کا خاندان ایک مدت سے سر آندیپ میں آباد تھا۔ وہ اسی جزیرے میں پیدا ہوا اور اسی جگہ آباد ہونے والے ایک عرب خاندان کی لڑکی سے شادی کی۔ جوانی سے بڑھاپے تک اس کے بحری سفر بھی سراندیپ سے کاٹھیاوار تک محدود رہے۔اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کے عرب میں اس کے خاندان کے دوسرے افراد کون ہیں اور کس جگہ رہتے ہیں۔
دوسرے عربوں کی طرح وہ بھی مادرِ وطن کے ساتھ اس وقت دلچسپی لینے لگا جب یرموک اور قادسیہ میں مسلمانوں کی شاندار فتوحات کی خبریں دنیا کے ہر گوشے میں پہنچ چکی تھیں۔
موجودہ راجہ کے باپ کو انھی خبروں نے عرب کے ایک بےنام تاجر کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر آمادہ کیا تھا۔ اس نے عبدالشمس اور اس کے ساتھیوں کو دربار میں بلایا اور بیش قیمت تحائف دے کر رخصت کیا۔
سن ٤٥ہجری میں اپنے باپ کی وفات کے بعد نئے راجہ نے تخت نشین ہوتے ہی عبدالشمس کو اپنے پاس بلایا اور کہا ”مدت سے ہمارے ملک میں تمہارے ملک کا کوئی تاجر نہیں آیا۔ میں عرب کے تازہ حالات معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے تمہارے نئے دین کے ساتھ دلچسپی ہے اگر تم وہاں جانا پسند کرو تو میں تمہارے لیے ہر سہولت مہیا کرنے کے لیے تیار ہوں۔“
عبدالشمس نے کہا ”آپ کے منہ سے میرے دل کی دبی ہوئی آواز نکلی ہے۔ میں جانے کے لیے تیار ہوں۔“
پانچ عرب تاجروں کے سوا باقی سب عبدالشمس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوگئے۔
دس دن بعد بندرگاہ پر ایک جہاز کھڑا تھا اور عرب اپنے اپنے بال بچوں سے رخصت ہورہے تھے۔عبدالشمس کی بیوی فوت ہوچکی تھی اس نے سینے پر پتھر رکھ کر اپنی اکلوتی بیٹی کو الوداع کہا۔ اس لڑکی کا نام سلمی تھا۔ شہر میں کوئی شخص ایسا نا تھا جو اسے نسوانی حسن کا بلند ترین معیار تصور نا کرتا۔ شہ سوار اسے سرکش گھوڑوں کو دوڑاتے اوربہترین تیراک اسے خوفناک آبشاروں میں کودتے اورسمندر میں مچھلی کی طرح تیرتے دیکھ کر دم بخود رہ جاتے۔
عبدالشمس کی روانگی کے بیس دن بعد کاٹھیاوار کے تاجروں کا ایک جہاز بندرگاہ پر رکا اور عبدالشمس اور اس کے دوساتھیوں نے اتر کر یہ خبر سنائی کہ ان کا جہاز اور دوسرے ساتھی سمندر کی لہروں کا شکار ہوچکے ہیں اور اگر کاٹھیاوار کے تاجروں کا جہاز وقت پر نا پہنچتا تو وہ بھی چند ساعت اور پانی میں ہاتھ پاوں مارنے کے بعد ڈوب جاتے۔
راجہ نے اس حادثے کی خبر نہایت افسوس کے ساتھ سنی۔ سندھی تاجروں کے سردار کا نام دلیپ سنگھ تھا۔ راجہ نے اسے دربار میں بلایا اور تین عربوں کی جان بچانے کے عوض اسے تین ہاتھی انعام دے۔ راجہ کو مہربان دیکھ کر دلیپ سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے وہاں آباد ہونے کا خیال ظاہر کیا۔ راجہ نے خوشی کے ساتھ ان کی یہ درخواست منظور کی اور شاہی خزانے سے ان کے لیے مکانات تعمیر کروا دیے۔
چند سال کی وفادارانہ خدمات کے بعد دلیپ سنگھ کو راجہ کے بحری بیڑے کا افسرِ اعلی بنا دیا گیا۔
اس واقع کے تین سال بعد ابوالحسن پہلا مسلمان تھا جسے تجارت کا ارادہ اور تبلیغ کا شوق اس دور افتادہ جزیرے تک لے آیا۔
کئی ہفتوں کے سفر کے بعد ایک صبح ابوالحسن اور اس کے ساتھ جہاز پر کھڑے سراندیپ کے سرسبز ساحل کی طرف دیکھ رہے تھے۔
بندرگاہ کے قریب مرد،عورتیں اور بچے کشتیوں پر سوار ہوکر اور چند تیرتے ہوئے لوگ جہاز کے استقبال کے لیے نکلے۔ ایک کشتی پر ابوالحسن کو جزیرے کی سیہ فارم اور نیم عریاں عورتوں کے درمیان ایک احنبی صورت دیکھائی دی۔ اس کا رنگ سرخ و سفید اور شکل جزیرے کے باشندوں سے مختلف تھی۔دوسری کشتیوں سے پہلے جہاز کے قریب پہنچنے کے لیے وہ اپنی کشتی پر کھڑی دو تنو مند ملاحوں کو جو کشتی کے چپو چلا رہے تھے، ڈانٹ ڈپٹ کر رہی تھی۔
یہ کشتی تمام کشتیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جہاز کے قریب آلگی۔ لڑکی نے ابوالحسن کی طرف دیکھا اور اس نے بےباک نگاہوں کا جواب دینے کی بجائے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ابوالحسن کے ساتھیوں کو بھی عورتوں کا نیم عریاں لباس پسند نا آیا۔حسین لڑکی نے جہاز والوں کی بےاعتنائی کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے سراندیپی زبان میں کچھ کہا لیکن جہاز پر سے کوئی جواب نا آیا۔
اچانک ابوالحسن نے کسی کی چیخ پکار سن کر نیچے دیکھا۔کشتی سے آٹھ دس گز کے فاصلے پر وہی خوبصورت لڑکی پانی میں غوطے کھا رہی تھی اور کشتی والے اس کی چیخ و پکار کے باواجود سخت بے اعتنائی سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ابوالحسن نے پہلے رسی کی سیڑھی پھینکی لیکن جب اس بات کا یقین ہوگیا کہ لڑکی کے ہاتھ پاوں جواب دے رہے ہیں اور وہ سیڑھی تک نہیں پہنچ سکتی تو وہ کپڑوں سمیت سمندر میں کود پڑا لیکن لڑکی اچانک پانی میں غائب ہوگئی اور وہ پریشان ہوکر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اتنی دیر میں بہت سی کشتیاں جہاز کے گرد جمع ہوچکی تھیں اور جزیرے کے باشندے قہقہے لگا رہے تھے۔۔۔
ابوالحسن نے تین مرتبہ غوطہ لگانے کے بعد دل برداشتہ ہوکر سیڑھی کی رسی پکڑ لی اور وہ جہاز پر چڑھنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ اوپر سے اس کا ساتھی چلانے لگا۔ ”وہ ادھر ہے جہاز کی دوسری طرف۔وہ ڈوب رہی ہے شاید کسی مچھلی نے پکڑ رکھا ہے“
مقامی مردوں اور عورتوں نے پھر قہقہہ لگایا۔ابوالحسن لڑکی کے جہاز کی دوسری طرف پہنچنے کی وجہ نا سمجھ سکا۔ تشویش اور حیرانی کے ملے جلے جزبات کے ساتھ اس نے جلد ہی پھر غوطہ لگایا اور جہاز کے نیچے سے گزرتا ہوا دوسری طرف پہنچ گیا۔وہاں کوئی نا تھا۔اوپر سے اس کا وہی ساتھی شور مچا رہا تھا: ”وہ ڈوب گئی۔اسے مچھلی نگل گئی۔“
ابوالحسن مایوس ہوکر پھر دوسری طرف پہنچا۔اس دفعہ لوگوں کے قہقہوں میں اس کے ساتھی بھی شریک تھے اور ایک عرب نے کہا ”آپ آجایے وہ آپ سے بہتر تیر سکتی ہے۔“
ابوالحسن نے کھسیانا ہوکر سیڑھی پکڑ لی لیکن ابھی ایک ہی پاوں اوپر رکھا تھا کہ کسی نے اس کی ٹانگ پکڑ کرپانی میں گرا دیا۔اس نے سنبھل کر ادھر ادھر دیکھا تو لڑکی تیزی سے سیڑھی پر چڑھ رہی تھی۔
ابوالحسن جہاز پر پہنچا تو اس کے ساتھی پریشان ہوکر لڑکی کے قہقہے سن رہے تھے۔
لڑکی نے ابوالحسن کی طرف دیکھ کر عربی میں کہا ”مجھے آپ کے بھیگ جانے کا بہت افسوس ہے۔“
لڑکی کے منہ سے عربی کے الفاظ سن کر سب کی نگاہیں اس ہر جم کر رھ گئیں۔
ابوالحسن نے پوچھا ”کیا تم عرب ہو؟“
لڑکی نے ایک طرف سر جھکا کر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کے بالوں کا پانی نچوڑتے ہوئے جواب دیا”ہاں! میں عرب ہوں۔ ایک مدت سے ہم عربوں کے جہازوں کی راہ دیکھا کرتے تھے۔ میں آپ کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ آپ کیا مال لائے ہیں؟“
ایک عرب لڑکی کو اسے لباس میں دیکھنا ابوالحسن اور اس کے ساتھیوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔وہ پریشان ہوکر ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
لڑکی نے اپنے سوال کا جواب نا پاکر پھر پوچھا ”میں پوچھتی ہوں آپ کیا مال لائے ہیں؟ آپ حیران کیوں ہیں۔ کیا عرب عورتیں تیرنا نہیں جانتیں۔ آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ اچھا میں خود دیکھ لیتی ہوں۔“
ابوالحسن نے کہا ”ٹھہرو! ہم گھوڑے لائے ہیں۔ میں تمہیں خود دیکھاتا ہوں لیکن میں حیران ہوں کہ اس جزیرے کے عرب ابھی تک زمانہ جاہلیت کے عربوں سے بدتر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کیا انھیں انسانوں کا سا لباس پہننا اور مردوں سے حیا کرنا کسی نے نہیں سیکھایا؟“
لڑکی کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ اس نے جواب دیا”کیا یہ انسانوں کا لباس نہیں؟“
”نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے گھر تک اسلام کی روشنی ابھی تک نہیں آئی۔“ یہ کہہ کر ابوالحسن نے ایک جبہ اٹھایا اور لڑکی کے کندھوں پر ڈال کر کہا ”اب تم ہمارا جہاز دیکھ سکتی ہو۔“
لڑکی نے ابوالحسن کے الفاظ سے زیادہ اس کی شخصیت سے مرعوب ہوکر اپنے عریاں بازوں اور پنڈلیوں کو جبے میں چھپا لیا۔
ابوالحسن کی پونجی پچاس عرب گھوڑے تھے۔لڑکی نے یکے بعد دیگرے تمام گھوڑوں کا معائنہ کیا اور ایک گھوڑے کی پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولی ”میں یہ خریدوں گی۔ اس کی قیمت کیا ہے؟“
ابوالحسن نے کہا ”تم میں ابھی تک عربوں کی ایک خصوصیت باقی ہے۔یہی گھوڑا ان سب میں بہترین ہے لیکن تم نا اس کی قیمت ادا کرسکو گی اور نہ یہ عورتوں کی سواری کے قابل ہے۔یہ جس قدر خوبصورت اور تیز رفتار ہے اسی قدر منہ زور بھی ہے۔“
لڑکی اس کے جواب پر مسکرائی اور بولی ”خیر دیکھا جائے گا۔ آپ نے جہاز اتنی دور کیوں ٹہرا لیا؟“
*جاری ہے*
*🌴🌴B4U🌴🌴*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں